اللہ کی دستک

(شہباز احمد گھمن, گوجرانوالہ)

کوئی شک نہیں کہ اللہ ہی کایئنات کا خالق ہے وہ ہی ہر چیز کا مالک و مختار ہے
کایئنات کی تخلیق میں ہر چیز ہی نرالی ہے . کسی بھی چیز کا باریک بینی سے مشاہدہ کریں تو ہمیں اللہ کی مصوری کے ایک سے ایک بڑھ کے ایک نمونہ دیکھنے کو ملتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ میرا ربّ زبردست قوت والا ہے وہ صرف کُن کہہ کر ایسی ایسی چیز بنا دیتا ہے جس کو سمجھنا انسان کے بس کی بات نہیں
لیکن
سب چیزوں سے بڑھ کے جو چیز اللہ کی تخلیق میں نمایاں ہے وہ حضرت انسان ہے ،اللہ نے انسان کو تخلیق کر کے ایک ایسا ذریعہ بنا دیا جس کے ذریعے خالق و مخلوق کا تعلق واضع ہو گیا ،
االلہ نے باقی سب چیزوں کو تخلیق کر کے ایک طریقہ وضع کر دیا جس کو باقی سب مخلوق پیروی کر رہی ھے
جیسا کہ اللہ کا قرآن میں ارشاد پاک ہے
سورج و چاند کو (اپنے قانون قدرت کا) پابند بنایا (چنانچہ) ہر ایک معینہ مدت تک رواں دواں ہے وہی (اس کارخانۂ قدرت کے) ہر کام کا انتظام کر رہا ہے (سورہ رعد )
لیکن انسان کے ساتھ اللہ نے ایک تعلق قائم کیا انسان کی ہدایت اور سیدھے راستے کی طرف راہ نمائی فرمائی اور انسان کو نیکی اور بدی منتخب کرنے کا اختیار دیا ۔ایک دن مکّرر کردیا اور انسان کو جزا سزا کے بارے میں بھی متنبہ کر دیا
انسان کی راہ نمائی کے لئے اللہ نے مختلف طریقے اختیار فرمائے جن میں امبیا کا سلسلہ سب سے نمایاں ہے
لیکن آج میں ایک اور طریقعے کے بارے میں تھوڑی سی بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں
ہر ایک انسان کی زندگی میں بار بار دستک ضرور ہوتی ہے یا پھر کم از کم ایک بار ضرور ... اللہ اپنے بندے کو جھنجھوڑتا ہے ۔ خبر دیتا ہے ۔ ۔ انسان کو اللہ کا پیغام آتا ہے ۔۔۔ کبھی یونہی چلتے چلتے ۔ ۔ ۔ کبھی ٹھوکر لگنے پر ۔۔ کبھی کوئی بازی ہار کر ۔ ۔ کبھی مونہہ کے بل گر کر اور کبھی سارا کچھ ہار کر ۔۔۔۔۔۔
جب کوئی معاملہ آپ سے نا حل ہو رہا ہو کوئی راہ نا سجھائی دیتی ہو تو سمجھ لو اللہ آپ کو پیغام دے رہا ہے آپ کے دروازے پے دستک ہو رہی ہے اس دستک کو سمجھ لو کہیں جانے انجانے میں کچھ غلط تو نہیں کر دیا کچھ غلط تو نہیں ہو گیا
سوچو......... سوچو ..... کہیں نا کہیں کچھ نا کچھ غلط ہو گیا ہے اور اگر کچھ غلط ہو گیا ہے تو اس کا اقرار کر لو
آدم اور ابلیس کے گناہ میں ایک چیز مشترک تھی اور وہ تھی نافرمانی ۔۔۔ لیکن ابلیس اس گناہ پر اکڑ گیا اور ملعون ہو گیا جبکہ آدم سمجھ گیا وہ اللہ کی دستک کو سمجھ گیا اور پلٹ آیا اور اپنا کھویا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا
یقین رکھو پلٹ آنے میں ہی کامیابی ہے اور جب انسان دستک کو سمجھ جاتا ہے تو پھر ............
ایسا سفر شروع ہو جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا ۔۔۔ حاصل اور لا حاصل کے درمیان جنگ ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔ بس ایک چپ سی لگ جاتی ہے ۔۔۔ ایسی چپ جس میں نہ کوئی افسوس ہوتا ہے ، نا پچھتاوا ، نا دُکھ ، ۔۔۔۔ اقرار سا ہوتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ سکون بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: شہباز احمد گھمن
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2017 Views: 395

Comments

آپ کی رائے