رمضان المبارک، یہودی کی پیپسی اور مسلمانوں کی کھجور

(Shehla Khan, )

رمضان کا بابرکت اور مبارک مہینہ آن پہنچا۔ تمام امت مسلمہ بڑے جوش و خروش سے اس مہینے کا استقبال کرتی ہے پر ہاۓ یہ بدنصیبی کہ ہمارے ملک کے مسلمانوں میں جوش و خروش تو پایا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی پریشانیاں اور مایوسیاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ پورا سال ہم جس بابرکت مہینے کا انتظار کرتے ہیں، اس کی آمد ہماری جیبوں پر اس قدر بھاری پڑجاتی ہے کہ رمضان کی آمد کی خوشی پھیکی پڑجاتی ہے۔ ایک طرف ہمیں رمضان کی آمد کی خوشی ہوتی ہے تو دوسری طرف اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ اب نہ جانے کس کس طرح اس بابرکت مہینے کو بے برکت کیا جاۓ گا۔ رمضان میں جن اشیاء کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، انھی اشیاء کی قیمتیں اس قدر آسمانوں کو چھونے لگتی ہیں کہ ایک عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور چلی جاتی ہیں۔ ان تمام اشیاء میں سب سے بڑی مثال کھجور کی ہے۔ اس کی مثال کو بڑا اس لئے کہا گیا ہے کہ ہمارے نبی پاکؐ کھجور سے روزہ افطار فرماتے تھے۔ اس لئے ہم سب مسلمان بھی کھجور سے روزہ افطار کرنے کو افضل سمجھتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ رمضان آفر میں پیپسی سستی اور کھجور مہنگی کیوں ہوجاتی ہے؟ مبارک مہینہ مسلمانوں کا اور پیپسی سستی کی یہودیوں نے۔ اور ہم نے کیا کیا کہ اپنی اشیاء کو سستا اور معیاری بنانے کے بجاۓ اتنا مہنگا کر دیا کہ ایک عام آدمی کھجور کے بجاۓ نمک سے روزہ کھولنے کو ترجیح دینے لگا۔ یہ ہمارے لئے شرم کا مقام نہیں تو اور کیا ہے۔ ایک عام آدمی، سستی ہونے کی وجہ سے یہودی کی پیپسی تو خرید کر افطاری کے لئے لے آۓ گا مگر آسمان سے باتیں کرتی ہوئ اشیاۓ خورد و نوش خریدنے کی اوقات نہیں ہوگی اس کی۔ ایک طرف تو ہم یہودیوں کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کی پروڈکٹس کو پروان بھی خود ہی چڑھاتے ہیں۔ اس لئے کہ جتنے پیسوں میں ہم لیموں کے شربت کا ایک گلاس تیار کرتے ہیں اتنے پیسوں میں ہم پورا جگ پیپسی کا حاصل کرلیتے ہیں۔ یہودی کی پیپسی کا بائیکاٹ کرنا ہے تو اپنے مشروبات کو سستا کریں، بائیکاٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اس کا گراف خود ہی نیچے آجاۓ گا۔ رمضان آفر میں پیپسی نہیں کھجور سستی ہونی چاہئیے، ہمارے لوکل مشروبات سستے ہونے چاہئیں، پھل اور سبزیاں سستی ہونی چاہئیں۔ مگر ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورا سال لٹیرے اسی مبارک مہینے کی تاک میں رہتے ہیں کہ جیسے ہی رمضان آۓ، ہم دونوں ہاتھوں سے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو لوٹنا شروع کردیں۔ رمضان آنے سے پہلے ہی ایک عام آدمی یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ بس اب وہ کچھ بھی اچھا کھا پی نہیں سکتا۔ ہونا تو یہ چاہئیے کہ رمضان المبارک کے احترام میں اور زیادہ سے زیادہ ثواب کمانے کی خاطر خورد و نوش کی تمام اشیاء، عام دنوں کی نسبت زیادہ معیاری اور سستی ہوجاتیں تا کہ روزہ رکھنے کی خوشی دوبالا ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی ایک مثال قائم ہوجاتی اور دوسری اقوام یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتیں کہ ایک غریب اور ترقی پذیر ملک اپنے دین کا کس طرح پرچار کرتا ہے۔

یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ دوسرے مسلمان ترقی یافتہ ممالک میں رمضان کے مہینے میں ایسا نہیں ہوتا جیسا ہمارے ملک میں ہوتا ہے۔ بیشتر مسلم ممالک میں پورا مہینہ ایک بڑے پیمانے پر روزہ داروں کو مفت مگر بہترین افطاری کروائ جاتی ہے، اس کے باوجود کہ وہاں ہمارے ملک کی طرح غربت نہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا کھجور کا باغ القاسم، سعودی عرب میں ہے۔ جس میں 200،000 کھجور کے درخت ہیں۔ یہ باغ جن لوگوں کی ملکیت ہے انھوں نے اس باغ کی تمام کھجوریں حرمین شریف آنے والے لوگوں کے لئے وقف کردی ہیں۔ اور یہاں ہم کھجور کے لئے ترس جاتے ہیں۔

خدارا رمضان کا احترام کریں ۔ مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچائیں۔ رمضان تو وہ مہیںہ ہے جس میں شیطان کو بھی زنجیروں سے باندھ دیا جاتا ہے مگر ہمارے دیس کے مسلمان اتنے کمزور ہیں کہ شیطان کے چیلوں کے بس میں بھی اتنی بری طرح سے پھنس جاتے ہیں۔ اور اگر شیطان کو بھی اس مہینے میں کھلا چھوڑ دیا جاتا تو نہ جانے پھر حالات کیا ہوتے۔

ہم لوگ دوسروں کے بائیکاٹ کی فکر چھوڑ کر اگر اپنے گھر میں بڑھتے اور پروان چڑھتے مہنگائ کے اس بے ہنگم طوفان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں تو اس کے خاطر خواہ نتائج ضرور حاصل ہوں گے۔
میں 2017 کے رمضان المبارک کے مہینے میں تمام مہنگی اشیائے خورد و نوش کا بائیکاٹ کر رہی ہوں اور 'ہم سب' کے پلیٹ فارم سے تمام پڑھنے والوں سے التماس ہے کہ میرے ساتھ بائیکاٹ کی اس مہم میں شامل ہو کر مہنگائی کو ناکام بنائیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shehla Khan

Read More Articles by Shehla Khan: 28 Articles with 19202 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2017 Views: 548

Comments

آپ کی رائے