عید الفطر کے فضائل ومسائل

(Pir Mufti Usman Afzal Qadri, )

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
عید کا لفظ ’’عود‘‘ سے بنا ہے، جس کا معنیٰ ہے: ’’لوٹنا‘‘، عید ہر سال لوٹتی ہے اور اسکے لوٹ کر آنے کی خواہش کی جاتی ہے۔ ’’فطر‘‘ کا معنیٰ ہے: ’’روزہ توڑنا یا ختم کرنا‘‘۔ عید الفطر کے روز روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، اس روز اﷲ تعالیٰ بندوں کو روزہ اور عبادتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں، لہذا اس دن کو ’’عید الفطر‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

ہجرت مدینہ سے پہلے یثرب کے لوگ دوعیدیں مناتے تھے، جن میں وہ لہو و لعب میں مشغول ہوتے اور بے راہروی کے مرتکب ہوتے، چنانچہ نبی اکرمﷺ نے زمانہ جاہلیت کی دو غلط رسوم پر مشتمل عیدوں کی جگہ ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحیٰ‘‘ منانے اور ان دونوں عیدوں میں شرع کی حدود میں رہ کر خوشی منانے، اچھا لباس پہننے، اور بے راہ روی کی جگہ عبادت، صدقہ اور قربانی کا حکم دیا۔ چنانچہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے پانچ راتوں 8، 9، 10 ذوالحج کی راتیں، عید الفطر کی رات، اور 15شعبان کی رات (شب برأت) کو شب بیداری کی اس کیلئے جنت واجب ہو گئی۔‘‘

ایک اور حدیث میں فرمایا: ’’فرشتے عید الفطر کی رات کا نام ’’لیلۃالجائزہ (انعام واکرام کی رات)‘‘ رکھتے ہیں۔‘‘ جبکہ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’جب مسلمانوں کی عید یعنی عید الفطر کا دن آتا ہے تو اﷲ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے، اے میرے فرشتو! اس مزدور کی کیا جزاء ہے جو اپنا کام مکمل کر دے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اسکی جزاء یہ ہے کہ اس کو پورا اجرو ثواب عطا کیا جائے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے فرشتو! میرے بندو ں اور باندیوں نے اپنا فرض ادا کیا پھر وہ (نماز عید کی صورت میں) دعاء کیلئے چلاتے ہوئے نکل آئے ہیں، مجھے میری عزت و جلال، میرے کرم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم! میں اِن کی دعاؤں کو ضرو ر قبول کروں گا۔ پھر فرماتا ہے: بندو! تم گھروں کو لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا اورتمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بد ل دیا۔ پھر وہ بندے (عید کی نماز سے) لوٹتے ہیں حالانکہ اُنکے گناہ معاف ہوچکے ہوتے ہیں‘‘

نوٹ: دعا کی قبولیت کی تین صورتیں ہیں: 1۔ جو مانگا ،وہی مل جائے ۔ 2۔ اسکی جگہ بہتر مل جائے۔ 3۔ روزقیامت ثواب مل جائے۔ لہذا دعاء ضائع نہیں جاتی کم از کم ثواب ضرور ملتا ہے۔

عیدالفطر کے روز صبح صادق کے وقت ہر ایسے مسلمان پر جو آزاد ہو، اور ضرورت اصلیہ (یعنی مکان، سواری، بستر، برتن، اور اوزار وغیرہ) کے علاوہ، نصاب (مثلاً ساڑھے 52تولہ چاندی، یا اس کی قیمت29رمضان 1431ء کو 34650روپے بنتی ہے ،کا مالک بھی ہو، پر اپنااور اپنی نابالغ اولاد کا فطرانہ ادا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کو پیشگی رمضان المبارک میں ادا کرنا بھی سنت صحابہ سے ثابت ہے، اس صورت میں رمضان المبارک کی برکت سے ثواب ستر گنہ زائد ملتا ہے۔ فطرانہ کی مقدار 4سیر اور ساڑھے 6چھٹانک(4کلواور111.50گرام) کھجور یا جو یا کشمش یا پھر اس کی قیمت ہے اور یا 2سیر اور سوا 3چھٹانک(2کلو اور 55.75گرام) گندم یا اس کی قیمت ہے۔

اس سا ل گندم و آٹاکا فطرانہ بازار کی قیمت کے مطابق60تا 70روپے فی کس بنتا ہے ۔ چوں کہ ارشاد نبویﷺ ہے ’’وَاَغْنُوْاھُمْ فِیْ ھٰذَا الْیَوْم۔‘‘یعنی اس عید الفطر کے دن محتاجوں کو خوشحال بنا دو ۔لہذا اگرچہ آٹے کی قیمت کے حساب سے سستا فطرانہ بھی جائز ہے لیکن جس طرح امیر لوگ قیمتی مکان بناتے ہیں ، قیمتی لباس پہنتے ہیں ،قیمتی خوراک کھاتے ہیں لہذا ان کے لیے مستحب ہے کہ وہ عجوہ کھجور یا پھر کشمش یا پھر عام کھجور کی قیمت کے حساب سے فطرانہ ادا کریں تاکہ حدیث بنوی ﷺ کے مطابق محتاج لوگ اپنی ضرورتیں احسن طریقہ سے پوری کر سکیں۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں: رسول اﷲﷺ نے صدقہ فطر واجب کیا تاکہ روزہ لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاک ہوجائے اور مساکین کے لئے کھانے کا بندوبست بھی ہو جائے۔

فطرانہ کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا ہے۔ نیز وہ لوگ ہیں جو عید الفطر کی تیاری مثلاً لباس خوراک وغیرہ کیلئے ضرورت رکھتے ہیں۔

نماز عید الفطر کا وقت سورج کے ایک نیزہ کے برابر بلند ہو نے سے ’’ضحوۂ کبریٰ‘‘ تک ہے۔ ضحوہ کبریٰ کا صبح صادق سے غروب آفتاب تک کے کل وقت کا نصف پورا ہونے پر آغاز ہوتا ہے

نماز عید دو رکعتیں واجب ہے، پہلی رکعت میں ثناء کے بعد اور دوسری رکعت میں قرآتِ سورت کے بعد ہاتھ آٹھا کر تین تین زائد تکبیریں مسنون ہیں۔
نماز عید الفطر کے بعد خطبہ سنت ہے۔ نماز عید میں آتے اور جاتے ہوئے آہستہ تکبیریں ’’اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد۔‘‘ اور راستہ تبدیل کرنا سنت ہے۔ نماز عید سے پہلے طاق عدد میں کھجور کھانا سنت ہے۔ عید کے روز غسل کرنا، خوشبو استعمال کرنا، اور اچھا لباس پہننا سنت ہے۔ نماز عید کیلئے اذان اور تکبیر سنت نہیں ہے۔ عید الفطر کے روز روزہ رکھنا حرام ہے۔ عید الفطر کے بعد مسلسل یا وقفہ کے ساتھ ماہِ شوال کے 6روزے رکھنا بہت زیادہ ثواب کا باعث ہے۔
جبکہ عید کے روز مروجّہ عریانی و فحاشی کا انسداد بہت ضرورہی ہے اور عورتوں کا بے پردہ اور نیم عریاں لباس میں گھر سے باہر نکلنا ہمیشہ ممنوع ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’یٰٓـأیُّـھَا النَّبِیُّ قُلْ لِاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَآءِ الْمُؤمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلابِیْبِہِنَّ۔‘‘
ترجمہ: ’’اے غیب کی خبر رکھنے والے! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں کو فرما دو کہ وہ اپنی بڑی چادروں کا ایک حصہ اپنے چہرے پر ڈالے رہیں۔‘‘
قرآن مجید، سورہ احزاب، آیت: 59

اور حدیث پاک میں ہے: جو عورت اپنے شوہر کے سواکسی اور کو اپنا حسن دکھانے کیلئے سنگار کرے، اسکے چہرے کو اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن سیاہ کر دیگا اور اس کی قبر کو جہنم کا گڑھا بنادیگا۔

لیکن عیدالفطر جو کہ اﷲ تعالیٰ کی رحمتوں اور مغفرتوں اور روزہ و عبادتِ رمضان کا انعام خاص حاصل کرنے کادن ہے، اس روز اﷲ تعالیٰ کی شریعت کی خلاف ورزی کرنا اور کفار کے طریقے کے مطابق بے راہروی اختیار کرنا، گندی فلمیں اور ڈرامے دیکھنا، اور لڑکیوں کا نیم عریاں لباس میں گلی کوچوں میں گھومنا بہت ہی بڑا گناہ ہے۔ لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اس روز اچھے کاموں میں مشغول رہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Pir Mufti Usman Afzal Qadri

Read More Articles by Pir Mufti Usman Afzal Qadri: 17 Articles with 10544 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jun, 2017 Views: 717

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ