رمضان المبارک، غریب پرور مہینہ

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

رمضان المبارک کی با برکت گھڑیاں گزر رہی ہیں۔ برطانیہ کی مساجد نمازیوں سے بھری پڑی ہیں۔ عبادت کے ذوق شوق میں ہمیشہ کی طرح اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ جمعۃ المبارک اور تراویح میں تو اکثر و بیشتر جگہ بھی تنگ پڑ جاتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہماری یہاں پر پل بڑھ کے جوان ہونے والی نسل میں بھی عبادت و ریاضت کا خاص ذوق و شوق پایا جاتا ہے۔غم گساری کے اس مہینے میں دنیا بھر کے بے کسوں کی مدد کیلئے زکوۃ و صدقات بھی لوگ بڑھ چڑھ کر دے رہے ہیں۔ صدقات و خیرات پر چلنے والی کثیر تعداد میں چیرٹیز بھی فلاحی کاموں اور غرباء و مساکین کی خدمت کیلئے کام کر رہی ہیں۔ برطانیہ سے کروڑوں پونڈز صرف رمضان المبارک میں چیرٹیز عطیات اکٹھے کرتی ہیں جو کہ ایک خوش آئند عمل ہے۔ وہ لوگ جو اپنے عطیات غرباء تک خود نہیں پہنچا سکتے ان کی وکالت کرتے ہوئے یہ فلاحی ادارے خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ ان خیراتی اداروں پر بھی بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جن غریبوں اور بے کسوں کی غربت و لا چارگی کی دل دہلا دینے والی وڈیوز اور تصاویر کے ذریعے لوگوں کو جذباتی کرکے جیبوں سے پیسے نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اب خدا خوفی کے ساتھ ان مستحقین تک پہنچانا بھی آ پ کی ہی منصبی ذمہ داری ہے۔ لوگوں نے آپ پر اعتماد کیا ہے اور کسی صورت اس اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے۔ اپنے اخراجات کم سے کم رکھیں اور کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ اور بر وقت یہ عطیات غرباء تک پہنچیں۔ کوتاہی اور بد عنوانی کی صورت میں سنگین انجام کیلئے تیار رہیں۔ یوم حساب بہت قریب ہے اور پائی پائی کا حساب دیا ہوگا۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق یتیموں کا مال کھانے والا پیٹ میں جہنم کے انگارے ڈال رہا ہوتا ہے۔ لھذا حد درجہ احتیاط لازم ہے۔ اسی طرح انفرادی طور پر بھی لوگ اپنے اپنے آبائی علاقوں میں رقوم بھیج کر یتیموں، بیواؤں اور بے کسوں کی مدد کرتے ہیں۔ رمضان شریف کا مہینہ جہاں نیکیوں کا موسم بہار ہے وہاں غریب پرور بھی ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریمﷺ نے اس ماہ مبارک کو غمگساری اور ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے کا مہینہ قرار دیا ہے۔ بد قسمتی سے بیشمار مسلمان معاشرے کس مپرسی کے حالات سے گزر رہے ہیں۔ کشمیر، فلسطین،شام، یمن، افریقی ممالک اور افغانستان کی حالت قابل رحم ہے۔ مسلسل خانہ جنگیوں نے عوام الناس کا جینا دو بھر کردیا ہے۔ انتہائی برے حالات کی وجہ سے لوگ دوسرے ملکوں میں کیمپوں میں پناہ گزین کے طور پر زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ دوسری طرف کرپٹ اور لالچی حکمرانوں نے لوگوں کو غربت کی آگ میں جھونکا ہوا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ غربت اور امارت کا گراف ہر انسانی معاشرے میں اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے۔ امراء کی تعداد زیادہ ہو تو اس سماج کو امیر جانا جاتا ہے اور اگر غرباء کی اکثریت ہو تو وہ غریب معاشرے سمجھے جاتے ہیں۔اگر ہم دور حاضر کے مسلمانوں کی مالی حالت کا منصفانہ تجزیہ کریں تو چشم کشا حقائق سامنے آتے ہیں۔ مسلمان اتنے زبوں حال اور بھوک ننگ کا شکارکبھی نہ تھے جتنے کے آج ہیں۔ حالانکہ ہمارے لوگ محنتی اور جفا کش ہیں۔ زمینیں سونا اگل رہی ہیں۔ زمین کے وہ حصے قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں ،جہاں مسلمان حکمرانوں کا تسلط قائم ہے اور عوام زیر عتاب ہیں۔ عوام کی محنت و مشقت کی کمائی کرپٹ اور ظالم حکمران طبقہ ان صلیبی غیر ملکی بنکوں میں غیر معروف کمپنیوں اور گمنان اکاؤنٹس میں جمع کرا رہا ہے جہاں سے ملنا انہیں بھی کچھ نہیں اور نہ ان کی اولادوں کو۔
بقول اقبالؒ۔۔۔۔۔۔ عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے قبض کی روح تیری، دے کے تجھے فکر معاش

پاکستان کو ہی دیکھ لیں جو ایک زرعی ملک ہے۔ قدرت نے ہر طرح کے موسم عطا فرمائے ہیں۔ غلہ، پھل اور سبزیاں طلب سے کئی گنا زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ عوام کو کھانے کیلئے آٹے کی قلت درپیش رہتی ہے۔ وافر مقدار میں سبزیاں اور فروٹ پیدا ہونے کے باوجود بے تحاشہ مہنگے اورعام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج کل رمضان المبارک میں فروٹ کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے تاکہ گراں فروشوں کو احساس دلایا جاسکے۔ ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ اس کو سادگی کہیں یا بے وقوفی کہ جن ظالم حکمرانوں کو ووٹ کے ذریعے تم نے اپنے اوپر مسلط کیا۔ وہ جو اس مہنگائی کے اصل ذمہ دار بھی ہیں ،ان کے حق میں دن رات بھوکے پیاسے پنجاب اور سندھ کے گلی کوچوں میں نعرہ بازیاں کر کر کے تمہارے گلے بیٹھ گئے ہیں۔ آجا کے بائیکاٹ بھی کیا تو پھل کا۔ کیا پھل کے علاوہ اور کوئی چیز مہنگی نہیں؟ اسلام کا نظام معیشت غرباء کی فلاح و بہبود کا ضامن ہے۔ ’’ذکوۃ ‘‘ ارکان اسلام میں سے ہے۔ اس کی عدم ادائیگی پر قرآن و حدیث میں کئی وعیدیں آئی ہیں ۔اگر ہر مسلمان اپنی پوری ذکوۃ نکال کر مستحقین میں تقسیم کرے تو عملا غربت ختم ہو جائے۔ دنیا کی زندگی دار الامتحان ہے۔ اﷲ کریم نے کسی کو امیر کرکے امتحان لیا تو کسی کو غربت رکھ کے۔ پھر امیروں کے مالوں میں غریبوں کا حق رکھ دیا اور فرمایا ’’وفی اموالہم حق للسائل والمحروم ‘‘کہ ہم نے ان صاحب ثروت لوگوں کے مال میں دست سوال دراز کرنے والوں اور محروم طبقات کا حق رکھ دیا ہے۔ جن کو عطیات دیے جائیں ان کو احسان جتلانے اور عزت نفس مجروح کرنے سے بھی روکا گیا۔ اس سے صدقات و خیرات کا اجر بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ صدقۃ الفطر کو ہر صاحب حیثیت پر اسی لئے فرض کیا گیا تاکہ غرباء بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اس کی عدم ادائیگی کی صورت میں رمضان شریف کی تمام عبادات زمین و آسمان کے درمیان معلق رہیں گی۔ ادائیگی ہوگی تو قبولیت کا شرف پائیں گی۔ اس کی بظاہر حکمت بھی یہی دکھائی دیتی ہے کہ اﷲ کریم اپنے بندوں کو ایک پیغام دیتے ہیں کہ اے بندے تو نے اپنے لیے راہ نجات کی تلاش اور میری خوشنودی کیلئے مہینہ بھر بہت عبادات کیں۔ لیکن میرے حکم کے باوجود میری زمین پر بسنے والے ایک غریب آدمی کو پیٹ بھر کے کھانا تک نہیں کھلا سکا۔ جب تم اسے کھانا کھلاؤ گے تو میں تیری عبادات کو بھی شرف قبولیت عطا کردوں گا۔
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 197 Articles with 123698 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
05 Jun, 2017 Views: 482

Comments

آپ کی رائے