پھلوں کا بائیکاٹ

(Wisal Khan, Karachi)

جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے ہر رمضان المبارک کی آمداوررخصتی دونوں کو تنازعات سے بھرپورپایاہے جبکہ پورے مہینے کے دوران کوئی بھی چیز مناسب دام پر دستیاب نہیں ہوتی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کی بلندیوں کوبھی مات دے دیتی ہیں اورسفیدپوش طبقہ رحمتوں بھرے اس ایک مہینے کی وجہ سے زندہ درگورہوجاتاہے ہمارے ہاں سفیدپوش طبقہ وہی ہے جو اپنی چادر دیکھ کرپاؤں پھیلاتاہے، اپنی استطاعت کے مطابق امراء کی نقالی کرتاہے مگرحقیقت میں یہ طبقہ اندر سے معاشی طورپرکھوکھلاہوتاہے اس طبقے کی زندگی اندر سے اذیت ناک ہوتی ہے تب ہی تو عیدبقرعید،یوم آزادی ،رمضان اور دیگر خوشی کے مواقع آنے پراس طبقے کی پیشانی پر سلوٹیں واضح دیکھی جاسکتی ہیں، آنکھیں گہری سوچ کی عکاسی کرتی ہیں سفیدپوش طبقے کی اذیت ناک زندگی اپنی جگہ مگر غریب طبقے کی زندگی بھی سسک سسک کے رینگتی رہتی ہے اونچاطبقہ اس زندگی کاتصوربھی نہیں کرسکتا کیونکہ بلندیوں کے جس آسمان پہ اس کی رہائش ہے وہاں سے زمین پر رینگنے والی چیزیں نظر نہیں آتیں غریب اور سفیدپوش دونوں طبقات کی زندگی کاایک ایک پل مشکلات ومصائب سے عبارت ہے ایسے میں جب رمضان کامہینہ آتاہے تو ان دونوں طبقات کی آزمائشیں مزیدبڑھ جاتی ہیں سفیدپوش کو اپنی سفید پوشی کابھرم رکھتے ہوئے رمضان کااہتمام کرناپڑتاہے جبکہ غریب کو اپنی غربت کے اندررہتے ہوئے رمضان کے روزوں سمیت آنے والی عیدکی فکربھی کرنی پڑتی ہے رمضان میں پورادن روزہ رکھنے کی وجہ سے شام کوافطاری کے وقت دنیا جہاں کی چیزیں کھانے کو دل کرتاہے کھانے پینے کی ایسی اشیاجسے آدمی سارا سال منہ تک نہیں لگاتابازارمیں سامنے آنے پر ان اشیاسے منہ پھیرلیتاہے مگررمضان میں وہی چیزیں کھانے کو دل کرتاہے اور روزہ دار کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دنیاکی ہرنعمت اپنی میزپرسجائے اس مقابلے میں امیرغریب اور سفیدپوش طبقات اپنی اپنی بساط کے مطابق اپناکرداراداکرتے ہیں غریب کوجوکچھ دستیاب ہو اسی سے افطاری کرکے اپنی قسمت پرصبرشکرکرلیتاہے امیرکوجوبھی چیزپسندآتی ہے اسے خریدکراپنی افطارٹیبل پرسجالیتاہے جبکہ سفیدپوش طبقہ سارادن اشیائے ضروریہ کی قیمتیں پوچھ پوچھ کرہلکان ہوجاتاہے گراں فروشوں کااصل ٹارگٹ بھی یہی سفیدپوش ہی ہے سفیدپوش کو اپنابھرم قائم رکھنے کیلئے اپنی بساط سے بڑھکر قیمت اداکرنی پڑتی ہے رمضان شروع ہوتے ہی حسب روایت ہمارے ہاں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بے تحاشابڑھادی جاتی ہیں کھجور جو رمضان سے پہلے سوروپے کلومیں دستیاب ہوتاہے رمضان کے آتے ہی اسکی قیمت ڈھائی سوروپے کلوتک پہنچ جاتی ہے ، بیسن ،دالیں ،گوشت ،قیمہ ،سموسے،پکوڑے اورپھلوں کی قیمتیں دوگنی سے بھی بڑھ جاتی ہیں اوربعض اشیاتو عام آدمی کی پہنچ سے ہی باہرہوجاتی ہیں پھل کاشمارچونکہ انسان کی بنیادی ضروریات میں کیاجاتاہے لہٰذا روزے دارکوپھل کی ضرورت پڑتی ہے جس کی قیمتیں ناجائز منافع خور خودساختہ طورپربڑھاتے ہیں رمضان سے تین دن قبل جس دوسرے درجے کے آم کی قیمت نئی فصل ہونے کے باوجود 150روپے دو کلوتھی رمضان کی آمد کاسنتے ہی اسکی قیمت 150روپے فی کلوتک پہنچائی گئی حالانکہ یہ پاکستان کی اپنی پیداوارہے اوراس کی قیمت یہاں تیس چالیس روپے کلوسے کسی صورت زیادہ نہیں ہونی چاہئے ،تربوزجوکہ پاکستان کامقبول ترین پھل تصورکیاجاتاہے اوراسے قومی پھل بھی کہاجاتاہے اسکی قیمت کابھی وہی حال ہے رمضان سے قبل نئی فصل ہونے کے باوجوداسکی قیمت تیس روپے کلوتھی مگررمضان آتے ہی یہی قیمت اسی روپے کلوتک پہنچ گئی اسی طرح کیلے اور دیگرپھلوں کی قیمتیں بھی خودساختہ طورپربڑھائی گئیں حکومت توحسب معمول بیانات سے کام چلانے کی کوشش کرتی رہتی ہے یا دکھاوے کے اقدامات اٹھاکربزعم خود برالذمہ ہوجاتی ہے مگراس مرتبہ سوشل میڈیاکے ذریعے پھلوں کے بائیکاٹ کی ایک مہم چلائی گئی جس کے حق اور مخالفت میں دلیلوں کے انبارلگادئے گئے بائیکاٹ کاساتھ دینے والوں کامؤقف ہے کہ دنیاکی ہرچیزکابائیکاٹ کرکے اسکی قیمت اعتدال پرلائی جاسکتی ہے اس بات کیلئے اسلامی تاریخ کی دومشہورمثالیں(حضرت علی ؓ کے دورخلافت میں کشمش کی قیمتیں بے تحاشابڑھ گئیں تو انہوں نے اسکی بجائے کھجورکے استعمال کامشورہ دیا، اسی طرح حضرت عمرؓ کی خلافت میں گوشت کی قیمتیں بڑھ گئیں تو انہوں نے گوشت کم استعمال کرنے کاگرانقدرمشورہ دیا) دی گئیں ۔ڈیمانڈاور سپلائی کی عدم توازن سے قیمتوں کے بڑھنے کارواج ازل سے جاری ہے اورتاابدجاری رہے گامگرجہاں لوگ سمجھتے ہوں کہ انکے ساتھ زیادتی ہورہی ہے اوران کااستحصال کیاجارہاہے ،انکے ساتھ ظلم کیاجارہاہے تواپنے حق کیلئے آوازاٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہمارے ہاں بعض اشیاکااستعمال بلاضرورت بڑھ جاتی ہے روزے میں پھل کھانااتناضروری بھی نہیں کہ اسے دوگنی چوگنی قیمت پرخریداجائے پھلوں کے بغیربھی روزہ رکھااور افطار کیاجاسکتاہے اسکے علاوہ گوشت کی بے تحاشابڑھائی گئی قیمتوں کے ساتھ بھی یہی کیاجاسکتاہے مہم کے مخالفین کاکہناہے کہ اس سے غریب پھل فروشوں کے چولہے بجھ جائیں گے جو بالکل ہی لایعنی بات ہے ہر آدمی جو روزانہ دوچارسوروپے کاپھل لاکرسو فیصد زائدقیمت اداکرتاہے صرف یہی زائدقیمت اپنے محلے کے پھل فروش کودیاجائے رمضان میں ہرعبادت کاثواب دوگناہے اس لئے کسی غریب کے ساتھ سودوسوروپے کی مددسے آپکو جنت میں اعلیٰ مقام مل سکتاہے قیمتیں کم ہونے سے فائدہ اسی غریب چھابڑی فروش کاہے جومال لانے کیلئے اسے بیس ہزارروپے خرچ کرنے پڑتے ہیں اسی مال کیلئے اسے پانچ دس ہزارخرچ کرنے ہونگے اس غریب کامنافع تو ویسے بھی دوچارسوروپے ہی ہوتاہے یہ منافع اسے چالیس روپے کلوفروخت کرکے بھی ملتا ہے اور ڈیڑھ سوروپے کلومیں بھی چھابڑی فروش کا یہی منافع ہوتا ہے بائیکاٹ کااصل نقصان ذخیرہ اندوز مافیاکوہوتاہے وہی مافیاجو ساراسال اسی انتظارمیں رہتاہے کہ رمضان میں لوگوں کی چمڑیاں ادھیڑکراپنے ناجائز خزانے بھرے جائیں یہ وہی خزانے ہیں جنہیں بھرتے بھرتے قارون زمین کی اتاہ گہرائیوں کے سفرپہ روانہ ہوامگران ناجائز منافع خوروں کے پیٹوں کاتندوربھرنے کانام نہیں لے رہاپھلوں کاتین روزہ بائیکاٹ احسن قدم ہے اس سے لوگوں میں شعوراجاگرہواہے عوام کو اپنی طاقت کااندازہ ہواہے کہ ایک دو دن کے جزوی بائیکاٹ پرقیمتیں چالیس فیصدتک کم ہوئیں اسی طرح کابائیکاٹ یاہڑتال موبائل ،ملٹی نیشنل کمپنیوں اوردیگراستحصالی قوتوں کے خلاف بھی کیا جاسکتاہے پھلوں کا بائیکاٹ حریص استحصالی طاقتوں کے خلاف بارش کاپہلاقطرہ قراردیاجاسکتاہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wisal Khan

Read More Articles by Wisal Khan: 80 Articles with 32096 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2017 Views: 325

Comments

آپ کی رائے