اسلام ، انسانی نفسیات کے مطابق

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

اسلام کو دینِ فطرت بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی بے شمار جہتں ہیں ۔ اسلام کی ایک جہت یہ بھی ہے کہ یہ انسانی نفسیات کے عین مطابق ہے یا یوں کہہ لیں کہ انسانی نفسیات، اسلام کے مطابق رکھی گئی ہے۔اسلام، انسانی نفسیات کو ایک عظیم ماہرِ نفسیات کے مطابق ڈیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہم اس عنوان پر اپنے خیالات کا اظہار ذیل میں کرتے ہیں۔

۱۔ اسلام ہمیں اپنی ذاتی ملکیت رکھنے سے منع نہیں فرماتا ، اگرچہ قرآنِ پاک نے بار ہا فرمایا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اﷲ تعالیٰ کی ہے۔ یا اس کے لئے ہے ، یاہر چیز اس کی حمد و ثنا بیان کرتی ہے ۔ اسلام ، اس بات کا اظہار قرآن و حدیث کے ذریعے بار بار کرتا ہے کہ انسان کو دنیا کی چیزوں کے ساتھ دل نہیں لگانا ہے، یہ دنیا عارضی اور وہ دنیا ہمیشہ کی رہنے والی ہے۔ اس لئے انسان کو اِس دنیا کی بجائے اُس دنیا کی تیاری کرنی زیادہ مناسب ہے۔ انسان کی نفسیات میں ذاتی ملکیت ایک بہت بڑا عنصر ہے، اس کے بغیر انسان کی تسکین و تمکین نہیں ہوتی۔ جب اسے اس بات کا احساس ہو کہ وہ ایک پراپرٹی کا مالک ہے، اس کا دل سکون پا جاتا ہے، جب اسے اس بات کا علم ہو کہ اس کے پاس کافی دولت ہے تو وہ بے فکر ہو جاتا ہے۔ ورنہ وہ ہر وقت اپنی محرومی کا رونا بھی روتا ہے اور دلی طور پر غیر مطمئن بھی رہتا ہے۔ اسلام نے کسی کی جائز کمائی پر کوئی قدغن نہیں لگائی کہ وہ ایک لاکھ، ایک کروڑ یا ایک ارب وغیرہ سے زیادہ نہیں کما سکتا یا رکھ سکتا ۔ اسلام اس معاملے میں انسان کو کھلی چھٹی دیتا ہے کہ وہ جائز طریقے سے کتنی بھی دولت کما سکتا ہے۔ اسے صرف یہ کرنا ہے کہ اپنے مال میں سے نصاب کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ اگر اسے توفیق ہو تو غریبوں پر خرچ بھی کر سکتا ہے صدقات، خیرات وغیرہ کی شکل میں ورنہ اس پر قانونی طور پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ زکوٰۃ کا نصاب بھی اس قدر تھوڑا رکھا گیا ہے کہ انسان خوش دلی سے دینے پر تیار ہو سکتا ہے۔ اب رہی بات اس شخص کی جو انتہائی کنجوس ہے اور اس کی کسی بات کی تائید نہیں کی جا سکتی۔ ذاتی ملکیت کا حق کیمونزم نے سلب کیا اور ملکیت کے تمام حقوق ریاست کے حوالے کر دیئے ۔لیکن یہ بات انسانی نفسیات کے منافی تھی، انسان ذاتی ملکیت رکھنی چاہتا ہے چاہے ایک جھونپڑ ی ہی کی کیوں نہ ہو۔ اور اس کے نتیجے میں اس کو عالمی سطح پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

۲۔ انسان کی نفسیات کا ایک اہم عنصر لا انتہا ہونا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ لا محدود زندگی کا طلبگار ہے۔ دنیا کی محدود زندگی سے اگرچہ اس کا مایوس ہوجانا، پریشان ہو جانا یا بیزار ہو جانا ضرور دیکھنے میں بھی آتا ہے لیکن پھر بھی انسان مرنا نہیں چاہتا۔ وہ ہمیشہ کی زندگی کا خواہش مند ہے۔ اور چاہتا ہے کہ اسے نا ختم ہونے والی زندگی عطا ہو جائے ،جو کہ کائنات کے دنیاوی نظام میں رکھی نہیں گئی۔ دنیا کو ایک سرائے کے طور پر رہنا ہے۔ یہاں کا قیام عارضی ہے۔ لیکن اسلام نے انسان کی اس محرومی کو آخرت کی کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی سے نواز کر اس کی اس لا محدود زندگی کی خواہش کی تکمیل کی ہے۔ آخرت کی زندگی کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی ہے جو کہ انسانی نفسیات کی تسکین کرتی ہے۔

۳۔ انسان کی نفسیات میں آرام طلبی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انسان کام سے گھبراتا اور جی چراتا ہے۔ لیکن جہاں مجبوری بن جائے وہاں کام کر بھی لیتا ہے۔ بہت محنت کرتا ہے۔ شاہکار تشکیل دیتا ہے۔ بلکہ عجوبات بھی بنا لیتا ہے۔ مقابلے بھی کرلیتا ہے۔ جنگوں کا جنون بھی پال لیتا ہے۔ بے شک وہ سب کچھ کر لیتا ہے۔ تعلیمی میدان میں بھی وہ حیرت کدے تعمیر کر لیتا ہے۔ بے شمار تخلیقات بھی کرلیتا ہے۔ ایک دنیا کو اپنا گرویدہ بھی بنا لیتا ہے۔ وہ علمی شہرت کا معیار بلکہ مینار بھی بن جاتا ہے۔ یہ ابنِ آدم ؑ کیا نہیں کر لیتا ، سب کچھ کر لیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کی نفسیات میں اس وقت کی تلاش رہتی ہے جب اسے چھٹی ہو ، اسے کوئی کام نہ کرنا پڑے اور سب کچھ اسے بیٹھے بٹھائے مل جائے۔ اس کی مثال ہم اس طرح بھی لے سکتے ہیں کہ جن گھروں میں روپے پیسے کی ریل پیل ہو انہوں نے کام کرنے کے لئے نوکر چاکر رکھے ہوتے ہیں اور وہ ان سے کام لیتے ہیں جب کہ وہ لوگ خود سے بہت کم کام کرتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ جہاں تک کسی کا بس چلتا ہے اپنے آپ کو آسانی مہیا کرتا ہے جو کہ انسان کی نفسیات کا بنیادی عنصر ہے۔ اب اسلام نے انسان کو جنت کی زندگی کا جو تصور دیا ہے وہ اسی نفسیات کے مطابق ہے جس میں انسان اپنے لئے آرام اور سکون کا طلب گار رہتا ہے۔ انسان کا کام کرنے کو غلمان ہوں گے۔ وہ جو خواہش کرے گا وہ خود بخود پوری ہو جائے گی۔ وہاں مشقت نہیں کرنی پڑے گی جیسا کہ انسان دنیا میں کرتا ہے۔ دنیا کی مشقت اگرچہ انسان کو نفسیاتی طور پر تو پسند نہیں ہے لیکن اس کے بہت سے فوائد اور مقاصد ہیں جو اس دنیا کی زندگی کے لئے نا گزیر ہیں، اس لئے اس دنیا کی مشقت اسلام کی نظر میں بہت بڑا درجہ رکھتی ہے اگر وہ درست رستے پر کی جائے تو۔ یہاں تک کہ ہاتھ سے کام کرنے والے کو خدا کا دوست بھی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن آخرت کی زندگی کا معاملہ اس دنیا وی زندگی سے مختلف ہے۔ یہاں جسم کو زیادہ آرام طلبی بیماریوں کا شکار بنا دیتی ہے جب کہ وہاں اس آرام و سکون کا کچھ بھی نیگٹو اثر نہ ہو گا۔

۴۔ انسانی نفسیات میں ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ کو بڑا عمل دخل حاصل ہے۔ یہاں تک کہ انسان کو معاشرتی حیوان تک کہا گیا ہے۔ انسان ، سوسائٹی کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ یہ بات اس کی نفسیات کا حصہ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی سے بات کرے، کسی کا دکھ سکھ سنے ، اور کسی کو اپنا حالِ دل سنائے۔ اگر اسے دوسروں سے دور کر دیا جائے تو وہ بہت سے نفسیاتی اور جسمانی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ اکیلے پن کا عذاب بھی کوئی چھوٹا عذاب نہیں ہے۔ اکیلا رہ کر انسان اپنی یاداشت تک بھول جاتا ہے۔ اسلام نے انسان کی اس نفسیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے معاشرے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں سے میل جول رکھنے کا حکم دیا ہے اور ایسی عبادات رکھی ہیں کہ اس کا میل جول دوسرے لوگوں سے خود بخود ہوتا رہے۔ جیسا کہ ہمسائے کے حقوق متعین کر کے اسلام نے معاشرے کی بنیادی اکائی کو بہت ہی مضبوط بنیادوں پر استوار کر دیا ہے۔ اسی طرح صلہ رحمی اختیار کرنے کے حکم سے انسان کا خاندانی نظام بکھرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ اس صلہ رحمی کا ثمر اس قدر زیادہ ہے کہ انسان کی زندگی میں برکت پڑ جاتی ہے اور اس کی عمر دراز ہو جاتی ہے۔ اس کی نفسیاتی الجھنیں اپنے حل کی طرف چلی جاتی ہیں۔ اور وہ ایک اچھی زندگی سے روشناس ہو جاتا ہے۔ یورپ نے خاندانی اکائی کو غیر ضروری سمجھا اور انسان بکھراؤ کا شکار ہو گیا۔ انسان نے اپنا سب کچھ مادی اشیا اور الیکٹرانی میڈیا میں تلاش کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ نتیجہ یہ نکلا کی یورپ باقی دنیا کی نسبت جو کہ اگرچہ مادی لحاظ سے پسماندہ ہے، زیادہ نفسیاتی اور ذہنی مسائل میں گھر گیا۔ کیوں کہ انسانی نفسیات کو مدِ نظر نہ رکھا گیا۔ اسلام باجماعت نماز، روزہ ، حج، زکوٰۃ وغیرہ سب میں انسان انسان کے قریب آتا ہے ۔ اور اصل میں انسان ،انسان کا دارو ہے۔ اشیا میں انسان کو تلاش کرنا ، ایک بے ثمر کوشش ہے۔ اس نفسیات کو اسلام جیسا عالمی مزاج کا دین ہی صحیح معنوں میں ہینڈل کر سکتا ہے۔

۵۔ انسان کی نفسیات میں ہے کہ اس کا نام تا دیر اس دنیا میں زندہ رہے۔اور اس مقصد کے لئے انسان کارنامے بھی کرتا ہے اور اپنی توانائیوں کا بھر پور استعمال بھی کرتا ہے۔ اسی ضمن کی ایک چیز انسان کی اولاد بھی ہے۔ اولاد کی محبت انسان کی فطرت میں ہے۔ اور یہی فطرت انسان کے بقا اور ارتقا کی ضامن ہے۔ تمام جاندار اپنے بچے پیدا کرتے ہیں جن سے ان کی نسل برقرار رہتی ہے۔صرف نسل برقرار رکھنا ہی کافی نہیں بلکہ اس سے انسانی فطرتی جذبات کی تسکین بھی ہوتی ہے۔ انسان کی اپنی اولاد سے محبت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ اس محبت کی تسکین کے بغیر بھی انسان ادھورا ہے۔ اگرچہ قرآن نے اولاد کو انسان کے لئے آزمائش قرار دیا ہے۔ لیکن اس سے محروم ہونے کا حکم نہیں دیا بلکہ اسلام کی منشا تو زیادہ سے زیادہ اولاد پیدا کرنے کی ہے۔ اگرچہ انسان اپنی عقل و دانش کے مطابق ہی رویہ اختیار کرتا ہے۔اسلام اولاد کی محبت کو صرف خدا کے رستے میں رکاوٹ کی شکل میں نا پسند کرتا ہے۔ ورنہ اولاد کے لئے مناسب ورثہ چھوڑنا بھی پسند کیا گیا ہے۔ نیک اولاد کو صدقہ جاریہ کا درجہ بھی دیا گیا ہے۔ اور ایک یا دو بیٹیوں کو تعلیم و تربیت دے کر ان کی شادی کر دینے والے شخص کے لئے بے مثال انعام و اکرام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اور اسی اولاد کے لئے ماں باپ کو بہت بلند مرتبے سے بھی نوازا گیا ہے۔ ماں باپ، اپنی اولاد کے لئے جو بزرگی و مقام رکھتے ہیں وہ بھی کسی بیان کا محتاج نہیں۔ اس طرح اسلام انسان کی خاندانی نفسیات کی پوری پوری آبیاری کرتا نظر آتا ہے۔

۶۔ انسان کی بنیادی نفسیات خود غرضی کی ہے وہ ہر کام میں اپنی غرض آگے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے سگے بھائی کے لئے بھی اگر وہ کچھ کرتا ہے تو کل کو اسے بھی جتا دیتا ہے کہ اس نے اس موقع پر اس کے لئے کچھ کیا تھا۔ اور بغیر عوضانے کے انسان کسی کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ وہ ہر کام کا صلہ چاہتا ہے منہ سے اگرچہ وہ اظہار نہ کرے لیکن دل سے وہ ضرور چاہتا کہ وہ وہ جو کچھ بھی کرے اس کا سے صلہ ملے۔ بلکہ یہ صلہ اسے کئی گنا زیادہ ملے۔ اب اس انسان کو بنانے والا اسے اس سے بھی زیادہ جانتا ہے۔ اﷲ، انسان کو جو بھی کام کرنے کا حکم دیتا ہے ساتھ ہی اس کا صلہ بھی بتاتا ہے۔ نماز ، روزہ، حج ، زکوٰۃ ہر کام اپنے اپنے انعامات کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ کسی کو پانی کا گھونٹ پلانا بھی اس صلہ سے باہر نہیں رکھا گیا۔ کسی راہگیر کو رستہ بتانا بھی اجر و ثواب کا موجب ہے۔ اﷲ کا ذکر ، انسان کے لئے بے شمار انعامات کی بارش کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ درود پاک جو وہ خالص اپنے بنیﷺ کی محبت میں پڑھتا ہے بہت بڑے ثواب کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ کوئی بھی نیکی ایسی بیان نہیں کی گئی جو اپنا ثواب نہ رکھتی ہو۔ ہر نیکی کا ثواب اس کے کرنے کی کوشش و جدوجہد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ تو انسان ہی ہے جو تھک جاتا ہے، ورنہ نیکیوں کا ثواب کبھی اختتام تک نہیں پہنچتا۔ انسان ایک ایسا مزدور ہے جو اپنی مزدوری کے حصول کے بغیر کام کو ہاتھ ہی نہیں لگاتا ۔اور اس کی اس نفسیات کو اسلام سے زیادہ کون مدِ نظر رکھ سکتا تھا۔

۷۔ انسان کی بنیادی نفسیات گو خود غرضی اور بدلے کی ہے ، لیکن وہ آخر انسان ہی ہے۔ دوسروں کی ہمدردی میں اس کا دل پسیچ بھی جاتا ہے۔ اس کا کبھی کبھی غریبوں کو کچھ دے دینے کا خیال بھی آتا ہے۔ وہ سخاوت اپننا چاہتا ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا چاہتا ہے، کسی کی دل جوئی کرنا چاہتا ہے۔ اس نفسیات پر بھی بہت سے انسان ہوتے ہیں جو اپنے وسیع و عریض مال و دولت سے غریبوں کا بھلا بھی کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام اس بات کو بھی مدِ نظر رکھتا ہے اور زکوٰۃ ، صدقات وغیرہ کا نظام متعارف کراتا ہے ۔ جس سے امیروں کی نفسیات کی تسکین بھی ہوتی ہے اور غریبوں کا بھلا بھی ہوتا ہے۔دونوں طبقات کو ان کی نفسیات اور معاشرتی توازن کے ساتھ ان کی تسکین کرنا اسلام کی ہی خوبی ہو سکتی ہے۔ اسلام ایک تیر سے دو نشانے بھی لگاتا ہے۔ روزہ دار کے روزے کی کمی بیشی فطرانہ ادا کرنے سے دور بھی ہوجاتی ہے اور غریب کی عید بھی بن جاتی ہے۔ اسلام پورے ماحول کو ساتھ لے کے چلتا ہے ۔ اس طرح امیر اور غریب کے مابین خلیج کم ہو جاتی ہے اور دونوں کی نفسیات بھی تسکین پاتی ہے۔

۸۔ انسان کی نفسیات ہے کہ وہ مثالوں سے سمجھتااور سنورتا ہے۔ اسلام، مثال بیان کرنے میں بے مثال ہے۔ کوئی مسئلہ ہو ، اسلام اس کو مثال کے ذریعے اتنا آسان فہم بنا دیتا ہے کہ موٹی سے موٹی عقل والا بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ سورہ بقرہ، سورہ کہف، سورہ یسین، سورہ رحمٰن، سورہ واقعہ، الغرض پورا قرآن مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ اور یہ مثالیں بہت ہی عام فہم ہیں کہ جن کے سمجھنے کے لئے کسی گہرے غورو فکر کی نہیں بس ایک بار غور سے سن لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔قرآن ایک پودے کے پھلنے پھولنے کی مثال سے نیکیوں کے پھلنے پھولنے کی بات بہت اچھے انداز میں سمجھا دیتا ہے۔ روزِ قیامت کے واقعات بھی تمثیل کے ساتھ بہت بین انداز میں چشمِ تصور کے سامنے رکھ دیئے جاتے ہیں۔

۹۔ انسان کی نفسیات میں کہانی سننا شامل ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر بچہ بچپن میں کہانی بہت ہی دلچسپی سے سنتا ہے اور اس کہانی سے زندگی کے حقائق جاننے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ کہانی سے دلچسپی انسان کی نفسیات کا بنیادی حصہ ہے۔ بچے سے لے کر بوڑھا ہونے انسان واقعات سنتا ، اور بیان کرتا ہے۔ اور واقعات سے وہ زندگی کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ قرآن و حدیث بھی با مقصد واقعات اور حقیقت پر مبنی کہانیوں کو بیان کرنے سے نہیں کتراتے۔ بلکہ بیان کی خوبصورتی کے ساتھ کہانی اور واقعہ پیش کیا جاتا ہے کہ سننے والا محظوظ بھی ہوتا ہے اور اس کی تعلیم وتربیت بھی ہو جاتی ہے۔ بہت سارے انبیائے کرام ؑ کے واقعات، کئی قوموں کے واقعات وغیر ہ قرآن اور حدیث میں رقم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام ، انسان کی نفسیات کے عین مطابق اپنا انداز اپناتا ہے۔

۱۰۔ کہانی کے ساتھ ساتھ ، فلسفہ اور استدلال بھی انسانی نفسیات کا حصہ ہیں۔ اسلام اس انداز کو بھی اپناتا ہے جس سے فلسفہ اور استدلال کی نفسیات کی تسکین ہوتی ہے۔ یہ انداز قرآن بھی اپناتا ہے اور حدیث بھی اپناتی ہے۔ سورہ رحمٰن بار بار انسان کی سوچ کو فلسفیانہ انداز میں جھنجھوڑتی ہے کہ کیا خدا کی باتوں کو کسی طرح سے بھی جھٹلایا جا سکتا ہے اور جواب ہمیشہ یہی ہے کہ نہیں جھٹلایا جا سکتا ۔ اسلام استدلال کرتا ہے کہ اگر کائنات میں دو خدا ہوتے تو ایک سورج کو مشرق سے اور دوسرا مغرب سے نکالنا چاہتا اور اس طرح ان کی بات بات پر کھینچا تانی لگی رہتی۔ اسلام بار بار غورو خوض کو مدعو کرتا ہے کہ کائنات پر غور کیا جائے تا کہ حقیقت کا سراغ مل سکے۔ قرآن نے فلسفہ اور استدلال کو اپناتے ہوئے اپنا پیغام عام کیا ہے۔

۱۱۔ انسانی نفسیات میں سزا کا بہت عمل دخل ہے۔سزا کے بغیر کوئی معاشرہ امن کا گہوارہ نہیں بنتا۔ سزا کی عدم موجودگی میں، جرم بہت طاقت ور ہو جاتا ہے۔ سزا کا سخت ہونا ، معاشرے کو پر سکون بناتا ہے۔اسلام نے اس انسانی نفسیات کو بھی بھرپور طور پر بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے۔ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی سخت ترین سزا کی وعید، انسانی نفسیات کو مدِ نظر رکھ کر ہی سنائی گئی ہے۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس کا امن عدالت، جیل اور سزا کے نظام کے بغیر بر قرار رہ سکتا ہو۔مہذب اور ترقی یافتہ ممالک کا امن و سکون بھی ان اداروں کا مرہونِ منت ہے۔اس لئے اسلام نے اس دنیا اور اس دنیا، دونوں میں جرم و گناہ کی سزا بہت شدید رکھی گئی ہیں۔تا کہ معاشرے کا امن و امان مستحکم ہو اور انسان ایک پر سکون اور پاکیزہ زندگی سے ہم کنار ہو سکے۔

۱۲۔ انسانی نفسیات کی برائیوں کو بھی اسلام نے انتہائی ماہرانہ انداز میں دور کرنے کی کوشش کی ہے۔غیبت ایک بہت بڑی انسانی نفسیاتی برائی ہے اور دنیا میں ہر جگہ ہوتی ہے۔ اکثر و بیشتر انسان اس برائی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور اکثر اس برائی کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہونا ہوتا پھر بھی اپنی نفسیاتی تسکین کے لئے لوگ اس برائی کو بطورِ برائی ہی کرنے پر بضد ہوتے ہیں۔اس انسانی نفسیاتی برائی کو اسلام نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دے کر ختم کرنے کی پر زور کوشش کی ہے۔ یہ برائی معاشرے میں بہت زیادہ تخریبی کردار ادا کرتی ہے۔ دلو ں کے مابین نفرت پیدا کرنے میں اس برائی کا ثانی نہیں۔ ایک دوسرے سے لڑانا اور مخاصمت بڑھانا اس برائی کے لئے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔اسلام اس کی سنگینی سے مکمل طور پر واقف ہوتے ہوئے، اس جو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم رکھتا ہے۔

۱۳۔ دوسری بڑی انسانی نفسیاتی برائی حسد ہے۔ انسان بلا وجہ دوسروں کے ساتھ اس حسد میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اور اس حسد کی آگ میں نہ صرف خود جلتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی جلاتا ہے۔اسلام اس برائی کی بھی مکمل بیخ کنی کرنے کا سبق دیتا ہے۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے خدا کی پناہ مانگنے کا درس دیتا ہے۔ حسد کو آگ قرار دیا گیا ہے جو نیکیوں کو سوکھی لکڑی کی طرح جلا دیتی ہے۔اسلام اس نفسیاتی برائی کو معاشرے میں آگ لگانے کی اجازت دینے کی بجائے اس پر شکر گزاری کا ٹھنڈا پانی ڈال کر اسے بھسم کر دینا چاہتا ہے۔

۱۴۔ جھوٹ بولنا ایک اور انسانی نفسیاتی برائی ہے جس سے انسان اپنے دل کو سکون دیتا ہے اور دوسروں کو دھوکا دے کر نقصان پہنچاتا ہے۔ اسلام اس برائی کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہتا ہے ۔ اسلام کے مطابق مسلمان سے کوئی بھی گناہ ہو سکتا ہے لیکن وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ جھوٹوں پر خدا کی لعنت و پھٹکار کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ جھوٹ سے معاشرے میں فساد جنم لیتا ہے۔ اور اس سے اور بہت سی برائیوں کو رستہ ملتا ہے۔اسلام مسلان کو سچا دیکھنا چاہتا ہے۔ اور سچوں پر خدا کی رحمت و بخشش کا اعلان کرتا ہے۔

۱۵۔ جنسی بے راہ روی ایک بہت بڑی نفسیاتی برائی ہے۔ دنیا کی اکثرو بیشتر اقوام اور معاشروں میں اس برائی نے بہت مضبوط پنجے گاڑھے ہیں۔ کئی ممالک نے تو جنسی برائیوں کے سرٹیفکیٹ جاری کئے ہوئے ہیں۔ لیکن برائی آخر برائی ہے۔اس لئے اسلام نے اس کی انتہائی سخت سزا سنا کر اسے ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔کوڑے مارنے، یا سنگسار کر دینا ایسی سزائیں ہیں کہ جن کے تصور سے ہی دل دہل جاتے ہیں اور اس طرح اس برائی کو روک لگانے میں کچھ آسانی ہوتی ہے۔ ورنہ یہ برائی بہت طاقتور ہے اور معاشروں کو بڑی بری طرح اپنی لپیٹ میں لیتی رہی ہے۔ لیکن ہے یہ صرف نفسیاتی تسکین ۔ اگر کسی کو اولاد کی خواہش ہو تو اسلام اسے بیک وقت چار بیویاں رکھنے کی شرعی اجازت دیتا ہے۔ لیکن برائی بطور برائی کی اسلام میں اجازت نہیں ہے جیسا کہ اس وقت بہت سے ممالک ایسے قوانین تک بنا چکے ہیں جن کے مطابق برائی بطور برائی جائز قرارد ی جا چکی ہے۔

۱۶۔ انسان اپنی نفسیات کے لحاظ سے اپنی اولاد کو عزیز سمجھتا ہے اور اس کے لئے سب کچھ کرتا بھی ہے جب کہ اسے اپنے والدین اپنے اوپر بوجھ محسوس ہوتے ہیں خاص طور پر جب وہ بوڑھے ہو جائیں۔ مغربی دنیا کی مصروف زندگی میں ایسے بوڑھے لوگوں کے لئے ان کی اولد کے پاس وقت نہیں ہے۔ اس لئے وہ انہیں اولڈ ہاؤسسز میں چھوڑ آتے ہیں۔ اور پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں بھی ان بوڑھوں کو اتنی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ اسلام، انسان کی اس فطرت یا نفسیات سے مکمل آگاہ ہے اور اسے اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا درس دیتا ہے۔ بلکہ بوڑھے والدین کو محبت کی نظر سے دیکھنے کو حج جیسی نیکی کا درجہ دیتا ہے۔ اب انسان لالچی ہے۔ خود غرض ہے اور ہمیشہ اپنا مفاد ہی عزیز رکھتا ہے۔ اس لئے اس کی نفسیات کی تسکین کے لئے اسے یہ بتا نا ضروری ہے کہ اس کی اس نیکی کا بہت بڑا اجرو ثواب ہے۔

یہ ایک اجمالی بیان ہے کہ اسلام ، انسانی نفسیات کا محافظ دین ہے۔ اس کی وضاحت میں مذید بے شمار مثالیں اور حوالے رقم کئے جا سکتے ہیں۔ اور ایک ضخیم آرٹیکل یا کتاب کی شکل بھی دی جا سکتی ہے ۔ لیکن ہمارا مقصد اصل بات کو اپنے مفہوم کے ساتھ بیان میں لانا تھا جس کی ہم نے ایک ناقص سی کوشش کی ہے۔

الغرض اسلام کا ہر ہر حکم انسانی نفسیات کے عین مطابق ہے۔ اگر کہیں ہمیں کوئی بات انسانی نفسیات کے مطابق نہیں لگتی تو اس میں ہماری سمجھ کی کمی بھی ہو سکتی ہے اور انسانی نفسیات کا منفی پہلو بھی ہو سکتا ہے جس کو اسلام نا پسند کرتا ہے کیوں کہ دین نفسیات کے تابع نہیں ہوتا بلکہ نفسیات کو دین کے تابع کرنا ہوتا ہے ۔ کیوں کہ نفسیات اپنے اندر اچھے پہلو بھی رکھتی ہے اور نا پسندیدہ بھی جن کو دینی تعلیمات نے کرش کرنا ہوتا ہے اور بعض باتیں بظاہر انسانی نفسیات کے مخالف بھی محسوس ہو سکتی ہیں لیکن ان باتوں میں بھی آخر کار بھلا انسان ہی کا ہونا ہوتا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 180084 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
20 Jun, 2017 Views: 1193

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ