جنت کے طلبگار

(Abdul Jabbar Khan, Rajan Pur)

چاچا‘چاچا یہ کتا ب تبد یل کر دیں کاونٹر کی دوسری طر ف کھڑا دوکاند ار جس کی عمر لگ بھگ پچاس سال سے زیادہ ہو گی وہ بچہ اس دوکا ند ار کو دوبارہ کہتا ہے چاچا‘چاچا یہ کتاب تبد یل کر دیں دوکاندار جس کو بچہ کتا ب تبد یل کر وانے کے لئے با ر بار چاچا ‘چاچا پکار رہا تھا وہ رش کی وجہ سے گاہکوں میں بہت زیادہ مصروف تھا ایک تو رات ہو گئی تھی دوکان بند کر نے کا وقت بھی ہو گیا تھا جبکہ دوکان بھی گا ہکوں سے کچھا کھچ بھری ہو ئی تھی یہ دوکان بہت بڑی تھی جو لگ بھگ دو تین دو کا نوں کو ملا کر بنا ئی گئی تھی جس کی تمام الماریاں کتابوں سے بھر ی پڑی تھیں اس دوکان میں تمام کلاسز کی کتا بوں کے علاوہ بیگ اور مختلف سکولز کے یو نیفار م بھی دستیاب تھے دوکان میں داخل ہو تے ہی سامنے نیچے کو سیڑھیاں نظر آتی ہیں جو اس دوکان کا تحہ خانے میں جا تی ہیں تحہ خانہ بھی سامان سے بھر نظر آرہا تھا دوکاند ار گاہکوں کا جلدی جلد ی بل بنانے اور پیسے وصول کر نے میں مصروف تھا رش کی وجہ سے گاہک اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے دو مرتبہ تو اس بچے نے دوکاندار کو اپنی طر ف متوجہ کر نے کی کو شش کی اب تیسری مر تبہ اس بچے نے ذربلند آواز میں کہا چاچا یہ کتا ب تبد یل کر دیں کا فی دیر ہو گئی ہے میں نے گھر کو جا نا ہے باہر اندھیر ا ہو گیا ہے دوکاند ار غصے میں بولا دیکھا کو ن سی کتا ب ہے بچے نے کتا ب دو کا ند ار کو پکڑائی دوکاند ار نے کتا ب کا معائنہ کیا اور بچے سے کہا یہ کتا ب تبد یلی نہیں ہو سکتی بچے نے کہا کیوں چا چا‘دوکاند ار بولا یہ کتاب اتنی میلی ہو گئی ہے کہ تبدیل نہیں ہو سکتی ہے یہ کتاب تو کب لے گیا تھا بچہ دوکاند ار کی گرج دار آواز سے ذرگھبرا گیا اس کی عمر تقریباً دس سال سے زیادہ ہو گی اس نے کہا چا چا یہ کتا ب میں کل آپ کی دو کان سے لے گیا تھا دو کاند ار نے کہا جا جا یہ کتا ب تبد یل نہیں ہو سکتی ہے میر ا وقت ضا ئع نہ کر اب جا ادھر اپنی باری کے انتظار میں کھڑا یہ سارا ما جر ہ دیکھ رہا تھا اب میر ی بار تھی میں بل ادا کر نے کے بعد جلد ی سے دوکان کے باہر آیا تو بچہ اپنی سا ئیکل پر جانے کے لئے سوار ہو رہا تھا بچے کی سائیکل بہت پر انی اور کپڑے بھی بہت میلے تھے جیسے کسی ورکشاپ میں کا م کر تا ہو پاؤں میں پر انی بوسیدہ سی چپل میں نے جلدی سے اس بچے سے سوال کر ڈالا یہ کتا ب آپ کب لے گئے تھے اس نے بتا یا میں کل اسی دوکان سے لے گیا تھا میں نے سوال کیا کس کلا س کی کتا ب ہے اور کون سے مضمون کی ہے اس بچے نے بتا یا یہ دوسری کلاس کی گائیڈ ہے یہ میر ی بہن کی ہے جب وہ سکول لے گئی تو استا نی جی نے کہا یہ کتا ب ٹھیک نہیں ہے دوسری گا ئیڈلے آؤ جب بچے نے یہ بتا یا تو میں نے کتاب کو دیکھا آخر اس کتا ب کو ہے کیا؟اس میں مواد کم ہے یا پھر مفاد کم ہو خیر یہ توپڑھانے والوں کی مرضی وہ اگر پڑھانا چا ہیں تو گا ئیڈ کے بغیر کتا ب سے بھی پڑھا سکتے ہیں بچے سے میں نے سوال کیا آپ بھی پڑھتے ہو بچے نے جواب دیا چاچا میں ورکشاپ میں کا م کر تا ہو ں کل اماں نے کتاب خر ید نے کے لئے پیسے دیے تھے بچہ پہلے بھی گھبرایا ہو ا تھا بس اس کے چہرے پراداسی اور آنکھوں سے آنسو ٹپکنے والے تھے وہ مجھ سے بات کرتے ہوئے اپنا چہرہ دوسری طر ف کر لیتا بس اتنی سی بات کے بعد اس نے سائیکل کے پینڈ ل پر پاؤں رکھا اور وہا ں سے چل دیا میں نے بھی اپنے بچوں کو مو ٹر سائیکل پر بیٹھایا وہاں سے چل پڑاراستے میں بچوں کو ایک دو کان سے آئس کر یم کھلائی اور گھر کو چل دیا مجھے سارے راستے اس بچے کا خیا ل آتا رہا اور اس کی آواز کا نوں میں گھو نجتی رہی میں سو چتا رہا دو کا ند ار کو کیا فر ق پڑتا جو اس بچے سے کتا ب لے کر تبد یل کردیتا پتہ نہیں اس کی ماں نے کتنی مشکل سے پیسے سے جوڑ کر اپنی پچی کو کتاب خرید کر دی ہو گی اب جس حساب سے اس دوکاند ار کی سیل تھی اور جتنی مقدار میں اس نے وہ گا ئیڈ کمپنی سے لی ہو گئی میر ے خیال میں اس کو چالیس فیصد رعایت پرضرور ملی ہو ں گی کاش وہ دو کاندار کتاب تبدیل کر دیتا اور اس فرمان کے مطابق جس میں دوکاند ار کو سودا تبدیل کر نے کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :" جو شخص کسی مسلمان کے خریدے ہوئے مال کو (واپس کرنے پر )واپس لے لے ، تواﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ معاف فرمادے گا"۔ (ابوداؤد:3460 ، عن ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ ) دوکاند ار نے اس چھو ٹے سے عمل کے بدلے گناہوں کی معافی ملنے اور جنت حاصل کرنے کو ٹھکر ا دیا اور میں سو چے جا رہا تھا یہ کتنا بد قسمت ہے اچانک میر ے ذہن میں خیا ل آیا کہ بد قسمت اگر دوکاندار ہے تو بد قسمت میں بھی تو ہوں میں نے اس بچے کی مد د کیو ں نہ کی میں خودتو اس دو کاند ار کو برا بھلا کہے رہے ہوں لیکن اس جنت کے ملنے کا چانس تومیرے پاس بھی تھا کسی کی مد د کر کے جنت ملنے کا چانس پر میں نے بھی وہ گنوا دیا کیا ہو تا جو آج اپنے بچوں کو آئس کر یم نہ لے دیتاان کو ایسے ہی راضی کر لیتا پر واقعی میں بد قسمت تھا جنت پانے کا موقع میرے پاس تھا اگر ہم اپنی زند گی اور روز مر ہ کی مصروفیات کو دیکھیں توثواب کمانے کا چانس ہر وقت ہمارے ساتھہوتا ہے ہم اپنی زندگی پر غور نہیں کرتے اﷲ پا ک نے ہمیں غور فکر کرنے کا حکم دیا ہے پر ہم غافل رہتے ہیں ہم کچھ دیر کے لئے اپنی روز مرہ زندگی پر ایک نظر دو ڑاتے ہیں صبح سوایر ے اذان کی آواز دن کا پہلا چانس جو ہمیں نیند سے بیدار ہوتے ہی ملتااور ایسے ہی دن میں پانچ مر تبہ نماز کا بلواجو ہمیں جنت ملنے کا چانس ہے ہم گھر میں ہیں تو ماں با پ بہن بھائی بیوی بچے اور ہمسائے یہ سب ہمارے لئے جنت میں جانے کا ذریعہ ہیں ہم گھر سے نکلتے ہیں تو راستے میں سفر کر نے والے ہم جیسے مسافر اور ملنے والے درخت پودے دفتر میں کو لیگ سا ئلین اور ماتحت دوکاند پر ہمارے گاہک اور ملازمین یہ سب ہمارے لئے جنت میں جانے کا ذریعے ہیں پر ہم غور نہیں کرتے ہمیں ہر پل جنت پانے کا مو قع ملتا رہتا ہے پر ہم غور نہیں کرتے ہم اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں اور چھوٹے اعمال سے ہم جنت پا سکتے ہیں ہم دوسروں کے حقوق پور ے کر دیں پرہم اپنی غفلت سے ایک تو جنت گنو ا بیٹھتے ہیں ساتھ ہی چند پیسوں کی لالچ تکبر اکڑ اپنی آنا غصے ظلم جبر کی وجہ سے دوخ کو اپنا لیتے ہیں ہم حضور پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے حکا مات کے مطابق زندگی بسرکر یں تو یہ دنیا بھی ہمارے لئے جنت ہے اور آخر ت میں بھی جنت ہے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Jabbar Khan

Read More Articles by Abdul Jabbar Khan: 151 Articles with 76760 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jun, 2017 Views: 555

Comments

آپ کی رائے