جب سے یہ دنیا بنی ہے اس معاشرے
میں طرح طرح کے واقعات رونما ہو ئے ہیں ۔ جرائم کا سلسلہ ازل سے جاری ہے جو کہ
ابد تک قائم رہے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جرائم کے ہونے کے حالات و واقعات
بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔
آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب کسی ملک پر کوئی غیر جانب دار حکومت قائم ہوتی ہے
تو ملک بھر میں جرائم کی شرح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے اس طرح وہاں کے رہنے واے
اپنی بقا کےلئے لوگوں کو اغوا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور یوں سلسلہ جل نکلتا ہے
اور اغوا کنندہ کے عوض تاوان وصول کرتے ہیں اور نہ دینے والوں کو سخت نتائج کی
دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
پاکستان کے بعض بڑے شہروں میں اس کا رجحان زیادہ ہے تاہم شمالی علاقہ جات وغیرہ
میں اس معاملے میں زیادہ آگے ہیں۔ ابھی حال ہی میں بہاولپور کے ایک نوجوان کو
اغوا برائے تاوان کے سلسلہ میں اٹھالیا گیا اور اس کے گھر والوں کو تاوان ادا
کرنے کا کہا گیا۔ جب گھر والے رقم لے کر پہنچے تو انہوں رقم تو لے لی لیکن لڑکے
کو چند گھنٹوں بعد رہا کرنے کا وعدہ کیا لیکن وہ اس کو قتل کر کے فرار ہوگئے۔
ہمارے معاشرے میں المیہ یہ ہے کہ یہاں اکثریت آبادی کم پڑھی لکھی ہے اور ہماری
معیشت بھی درست خطوں پر استوار نہیں ہے جس کی وجہ سے آئے روز اس طرح کے واقعات
رونما ہوتے رہتے ہیں ۔ اور لوگ اپنے پیاروں کو یاد کر کے روتے رہتے ہیںِ
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر قابو پانے کے لئے کوئی ٹاسک فورس قائم کی جائے اور
اغوا برائے تاوان جس وجہ سے لوگ کرتے ہیں وہ وجوہات ختم کی جائیں ۔اور اس سلسلہ
میں لوگوں کی مناسب طور پر داد رسی کی جائے۔ ہمارے سیکورٹی اداروں کو اس سلسلہ
میں بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ |