ضدی بچے

(Aisha mohsin, Melbourne)

میرا بیٹا بہت شرارتی ہے، اس کو پتہ نہی کس طرح پتہ چل جاتا ہے کہ مجھے بہت کام ہیں یا کہ میں جلدی میں ہوں۔ اور مجھے دیر ہو رہی ہے۔ وہ اکثرمیرا راستہ روک کہ کھڑا ہو جاتا ہے ، جس طرف سے بھی جانا چاہوں، عین وہیں ایستادہ ہو جاتاہے اور میرے جھنجلا نے پر کھلکھلا کہ ہنس پڑتا ہے، کبھی تو میں وقتی طور محظوظ ہوتی ہوں اور کسی وقت کسی قدر غصہ آنے لگتا ہے۔ اگر میں اس کی طرف توجہ کئے بغیر اسکو ہٹانے کے کوشش کروں تو وہ موڈ خراب کر لیتا ہے،اس سے کیا ہوتا ہے کہ وقت تو ضائع ہوتا ہی ہے ، مجھے بہت کوفت ہوتی ہے کہ پہلے ہی دیر ہو رہی تھی ، یہ ایک نیا تماشا شروع ہو گیا۔ پھر اس کو گود میں لے کر بیٹھو اور لاڈ اٹھاؤ ، یعنی جو کام کرنے کی جلدی تھی وہ ویں کا وہیں رہ گیا!

ہاں، اگر میں اس کے راستہ روکنے پہ فی آلفور اپنی تمام تر توجہ اس پر مر کوز کر دوں اور اس کے ساتھ مل کر اس کھیل کا حصه بن جاؤں تو نہ صرف یہ کہ وہ خوش ہو جاتا ہے بلکہ راستے سے بھی ہٹ جاتا ہے۔اور اس کے غصے کی جگہ ایک واضح طمانیت لے لیتی ہے-
اور میرا وقت بھی بچ جاتا ہے۔

کیا ہماری زندگی میں آنے والے مختلف سبق بھی ان بچوں کی طرح نهیں؟ جو ہمارا راستہ روک کہ کھڑے ہو جاتے ہیں؟ اگر ہم مدافعت نہ کریں اور ہتھیار پھینک دیں ، ان کو سمجھنے کی کوشش کریں تو وہ ہنسی خوشی ہم سے الگ ہو جاتے ہیں ۔ اور جتنا آپ غصہ کریں، اتنا ہی وہ آپ کا پیچھا لے لیتے ہیں۔ کبھی یہاں تو کبھی وہاں سے آپ کا راستہ روک کہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تا وقتیکہ کہ آپ مکمل توجہ دے کر ان کو اٹھا نہ لیں۔

دل نہ بھی چاہے تو زور لگا کہ کچھ وقت ان کے ساتھ گزارنا چاہیئے ورنہ آگے جانے کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور بہت وقت ضائع ہوتا ہے۔

ہم سب اپنی دھن میں بڑی تیز رفتاری کے ساتھ زندگی گزارے چلے جا رہے ہوتے ہیں ، اور راستے میں کئ مقامات پہ ایسے بہت سے پڑاؤ آتے ہیں اور ہماری توجہ کے طالب ہوتے ہیں، یہ آپ پر ہے کہ آپ ان کی بات سنیں اور جو انکو آپ کو دینا مقصود ہے، وہ بلا چوں چراں ان سے لے لیں۔ یا پھر یہ کہ ان کو نظرانداز کریں اور اپنا کام جاری رکھیں، وہ بھی اپنا کام جاری رکھیں گے اور آپ کا پیچھا نہی چھوڑیں گے۔

یہ وقتی تاخیر آگے کا سفر سہل کرنے کے لیئے بہت ضروری ہے۔
فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aisha mohsin

Read More Articles by Aisha mohsin: 13 Articles with 16964 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jul, 2017 Views: 646

Comments

آپ کی رائے
Thumbs Up
very good article
keep it up
be happy and stay blessed always
By: uzma ahmad, Lahore on Aug, 01 2017
Reply Reply
0 Like