سانحہ احمد پور شرقیہ۔ فکر کی دعوت دیتا ہے

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والا محاورہ تو سنا تھا لیکن بہتے پیٹرل میں ہاتھ صاف کرنا اس حد تک مہنگا پڑگیا کہ زندگی سے ہی ہاتھ دھونا پڑا۔ احمد پور شرقیہ یا بہاولپور واقعہ میں دو سو کے قریب افراد اپنی جان سے گئے۔یہ کوئی نیا سانحہ نہیں اس نوع کے متعدد واقعات ماضی میں ہوچکے لیکن احمدپور شرقیہ کا یہ واقعہ اس اعتبار سے دل دوز اور افسوس ناک ہے کہ اس میں بڑی تعداد میں لوگ جھلس گئے۔ غالبؔ کی مشہور زمانہ غزل کا مقطع ہے ’میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ ...مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے‘۔ ہماری قومی سوچ ہوگئی ہے کہ اگر کچھ مفت میں مل جائے تو اسے دونوں ہاتھوں سے بٹور لو یہی نہیں بلکہ اسے حاصل کرنے میں جس قدر بے مروتی، بے حسی، بد اخلاقی، بد حواسی کا مظاہرہ کرنا پڑے کرلو اور مفتے کو کسی بھی طور حاصل کر لو۔ اس واقعہ کو ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں اس دوران ایک آئل ٹینکر حیدر آباد میں اور ایک کراچی میں گرا یا ان سے پیٹرل بہنا شروع ہوا تو لوگ اسی طرح جیسے احمد پور شرقیہ میں دوڑ پڑے تھے ہاتھوں میں برتن لیے کہ کسی طرح وہ اس نعمت سے محروم نہ رہ جائیں دوڑ پڑے ۔ گویا ہم اس قدر بے حس قوم ہوگئے ہیں کہ معمولی سی چیز کے حصول میں اپنی زندگی کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ احمد پور شرقیہ کا واقعہ کوئی چھوٹا موٹا واقعہ نہیں تھا، دو سو افراد کم نہیں ہوتے۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم صاحب اپنا دورہ مختصر کرکے وطن واپس پہنچ گئے جب کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے عید کا دن سانحہ میں مرنے اور زخمیوں کے کاموں کی نگرانی میں گزارا اور انہوں نے اپنا دورہ روس ملتوی بھی کردیا۔ ہر اعتبار سے دونوں میاں برادران کا یہ لائق تحسین اقدام ہے ۔

اس واقعہ پر کچھ زبانی اور کچھ تحریر میں ایسی باتیں ہورہی ہیں جن سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ پیٹرول لوٹنے والے غربت کی نچلی سطح سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے جوں ہی یہ دیکھا کہ کچھ پیٹرول حاصل کرلینے سے انہیں کچھ مالی فائدہ ہوگا وہ گود پڑے آتش نمرود میں۔ اگر ایک لمحہ کو اس مفروضے کو درست بھی مان لیا جائے تب بھی بات آسانی سے ہضم نہیں ہورہی اس لیے کہ پیٹرول لینے والے صرف آس پاس کے غریب دیہاتی ہی نہ تھے کتنی ہی موٹر سائیکلیں جل کر راکھ ہوئیں ، موٹر سائیکل کے مالکان یقیناًکچھ بہتر مالی حیثیت رکھتے ہوں گے یہی نہیں بلکہ چھ کاریں بھی اس حادثہ میں جھلس کر راکھ ہوگئیں ، یہ کاروں کے مالک بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے ہی تو وہاں رکے تھے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ غربت ہی ایسا کراتی ہے ۔ کیا ایسے واقعات نہیں ہوئے کہ کسی بھی حادثے میں مرنے والی خواتین کے ہاتھوں سے سونے کی چوڑیاں، انگلیوں سے سونے کی انگوٹھیاں، کانوں سے سونے کے بندے، گلے سے سونے کی چین یا ہار نہیں اتا رے گئے۔ کالم نگار ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے ایک واقعہ نقل کیا ہے ۔ ریل کے سفر میں رش کے باعث لوگ دروازے پر لٹک کر سفر کررہے تھے کہ ایک شخص سائڈ میں لگے کھمبے سے ٹکرا کر گرا، بقول ڈاکٹر صاحب کے ٹرین رکوائی تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص دوڑا ہوا اس زخمی کے پاس آرہا ہے ، وہ یہ سمجھے کہ خدا ترس انسان ہے ،ہمدردی اور گرے ہوئے شخص کی مدد کو دوڑا چلا آیاہے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ان کی حیرت کی انتہانہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ اس شخص نے گرے ہوئے ذخمی شخص کے پیروں سے جوتے اتارے اور انہیں بغل میں دبا کر اُسی تیزی سے یہ جا اور وہ جا ہوگیا۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ کبھی ہم نے سوچا ، ہمارا معاشرہ برائی کی دل دل میں اس قدر ڈوب چکا ہے کہ اس کے سدھار کے دور دور کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ ایک نہیں ہزاروں واقعات ہیں ، اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی کہ قبر کھود کر کفن چوری کے واقعات بھی ہوچکے ہیں ۔ عام معاشرتی تقریبات، شادی بیاہ کی تقریبات میں تو سب غریب نہیں ہوتے ، کھانا شروع ہوتا ہے تو کیا صورت حال ہوتی ہے، بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اجتماعات میں جہاں صرف ان کے کارکن ہی ہوتے ہیں کھانے کے وقت کشتی ، دھکم پیل کے کیاصورت حال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بات صرف پیٹرول کی نہیں ، اکثر دیکھا گیا کہ کوئی ٹرک، سوزوکی یا کوئی ایسی گاڑی جس کی رفتار سست ہوتی ہو اور اس پر کھانے پینے کی اشیا لدی ہوں جیسے پھل ، فروٹ یا سبزی وغیرہ تو اکثر راہ چلتے حتی کہ موٹر سائیکل سوار چلتے چلتے اس پر ہاتھ صاف کردیتے ہیں۔گاؤں دیہاتوں میں بیل گاڑی پر لدے ہوئے گنے لوگ بہ آسانی کھیچ لیتے ہیں۔ فیس بک پر ایک ویڈیو وائرل کی گئی جس میں دکھایا گیا کہ ایک دوکان پر دو خواتین داخل ہوئیں ، دوکان میں الیکٹرانک کا سامان جیسے جوسر بلینڈر وغیرہ تھے، سیل مین ایک ہی تھا کچھ چیزیں نکلوائیں کاؤنٹر پر رکھوالیں ۔ اب ایک عورت کاؤنٹر پر ہی رہی دوسری نے سیل مین سے اندر سے کچھ چیزیں دکھانے کو کہا اور وہ اسے اندر کی جانب لے گئی گویا یہ عمل کاؤنٹر پر کھڑی عورت کو موقع دلوان تھا اور ایساہی ہوا جوں ہی سیل مین کی پیٹ ہوئی کاؤنٹر پر کھڑی عورت نے ایک ڈبہ اٹھا کر اپنے چادر نما دوپٹے میں چھپا لیا، بعد میں دونوں عورتیں سیل مین کو کچھ پسند نہ آنے کا کہتے ہوئے بڑے آرام سے دکان سے باہر نکل گئیں، سیل مین کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ ہوسکا کہ دونوں عورتوں نے مل کر اسے کس طرح ’ماموں‘ بنا دیا۔ کیا یہ عورتیں اور اس قسم کے دیگر لوگ غربت کے باعث ایسا کررہے ہیں؟ نہیں بلکہ یہ ان کی مہارت اور ایک طرح سے پیشہ ہوگیا ہے۔ جس طرح بھیک مانگنا غربت کی وجہ نہیں بلکہ پیشہ ہوچکا ہے۔ حقیقی غریب کبھی ہاتھ نہیں پھیلاتا۔اسی طرح ڈاکے مارنے والے، لوٹ مار کرنے والے، موبائل اور رقم گن پوائنٹ پر چھینے والے کیا غربت کے باعث ایسا کرتے ہیں نہیں ، انہوں نے اسے اپنا پیشہ بنا لیاہے۔

کالم نگار عارف امام نے اپنے کالم ’سانحہ احمد پور شرقیہ اور قومی نفسیات ‘میں بہت صحیح لکھاکہ ’ کسی بھی قوم کی اشرافیہ کا مزاج ہی وہ بنیادی خمیر ہوتا ہے جس سے عوام کا مجموعی مزاج تشکیل پاتا ہے ‘‘۔ بہتری اور تبدیلی کبھی نیچے سے اوپر کی جانب نہیں ہوا کرتی بلکہ اگر کسی ملک قوم کی ترقی، بہتری اور سر بلندی ممکن ہے تو اوپر کے لوگوں کو نیچے والوں کے لیے مثال بننا ہوگا۔ انہیں عارف امام نے اشرافیہ کا نام دیا ہے ۔ ہمارا حکمراں طبقہ، سیاست داں ،دولت مند اپنے اندر تبدیلی نہیں لائیں گے نیچے کے لوگ کیسے اپنے آپ کو بدل سکتے ہیں۔ وہ تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ جو شخص طاقت کا سرچشمہ بنا، تختِ حکرانی پر براجمان ہے، عوام اور قوم کا درد اور بھلائی کا نعرہ لگا کر ایوان اقتدار میں پہنچا وہ یا تو پہلے ہی سے دولت مند تھا، اقتدار کے بعد اس کی دولت کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔ یقیناًتجارت میں اللہ نے برکت رکھی ہے لیکن ایسی برکت کے چند سالوں میں دولت کے پلازے تعمیر کر لیں۔ملک ریاض کی مثال سامنے ہے، دولت مندون کی دنیا میں بیس سال قبل اس نام کا کوئی شخص پایا نہیں جاتا تھا۔گزشتہ دنوں میں نے اپنے ایک کالم بعنوان ’’ سفید پوش (مڈل ولوئرمڈل کلاس) کوڈھونڈ کر ان کی مدد کریں‘‘ میں پاکستان کے دس امیر ترین لوگوں کے نام لکھے تھے، ان میں تاجر بھی ہیں اور سیاستدان بھی ، یہ فہرست ایک تحقیقاتی ادارے ’بذپاک‘ نے اپنی ویب سائٹ پر دی ہے جسے کسی بھی وقت دیکھا جاسکتا ہے۔ 2017 میں پاکستان کے ان دس دولت مندوں میں شاہد خان ، آصف علی زرداری، سر انور پرویز، میاں نواز شریف، صدر ا لدین ہاشوانی، ملک ریاض حسین، میاں محمد منشا، ناصر شون، چودھری خاندان اور رفیق حبیب شامل ہیں ۔ تاجروں کو تو چھوڑ دیتے ہیں اس لیے کہ ان کا کام ہی تجارت اور دولت مند وں میں شامل ہونا ہے۔ دیکھئے قبلہ آصف علی زرداری صاحب دوسرے نمبر پر ہیں۔ ستر کی دھائی میں نہ تو تجارت میں نہ ہی سیاست میں ان کا وجود نہیں تھا اور ان کا نام کراچی کے ایک سینما ’’بمبینو سینما‘‘ جو اب بھی موجود ہے کے حوالے سے لیا جاتا تھا۔ شہید بے نظیر بھٹو سے شادی کے بعد ان کا گراف جس تیزی سے اوپر گیا یہ سب کے سامنے ہے۔ قبلہ نواز شریف صاحب خاندانی تجارتی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے جب آنکھ کھولی تو ان کے والد ملک کے بڑے تاجروں اور صنعت کاروں میں سے تھے ۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایسے تاجر ہیں کہ جنہوں نے اپنی دولت کے بل پوتے پر سیاست کی، اور سیاست میں بامِ عروج پر پہنچے، ساتھ ہی دولت میں بھی اضافہ ہوا۔ایک سروے کے مطابق دولت کے اعتبار سے یہ پاکستان میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ اب ان کی دولت کی وجہ سے ان کے بیٹوں کو تو عرب پتی ہونا ہی تھا۔ ان پر زیادہ لکھنا مناسب نہیں اس لیے کہ یہ گرفت میں آچکے ہیں۔ چند دنوں میں ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے والا ہے۔ چودھری برادران بھی اسی صف میں ہیں۔ بات مختصر کرتے ہوئے یہاں پر بات ختم کرتا ہوں کہ جب تک پاکستان کے دولت مندوں سرے محل، لندن فلیٹس ، سوئیزر لینڈکے بنکو ں میں دولت ر کھنے والوں کے ذہن تبدیل نہیں ہوں گے اس وقت تک پاکستان کا غریب اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاسکتا۔ آج ہی کی خبر ہے کہ سوئس بنکوں کے خفیہ کھاتوں میں پاکستانیوں کی بالعموم ناجائز طریقے سے کمائی اور منتقل کی گئی دولت کی بھاری مقدار بھارت جو کہ پاکستان سے ہر اعتبار سے بڑا ہے کی خفیہ دولت سے کہی زیادہ ہے جس سے پاکستانی دولت مندوں کی سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔ غریبوں کو الزام دینا بے سود ہے۔ اگر وہ پیٹرول پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو اس میں ان کا قصور نہیں، جب تک ان کی سوچ میں تبدیلی نہیں آئے گی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کے مجموعی مزاج میں تبدیلی لائی جائے، اللہ پاکستا ن اپنا خصوصی فضل کرے اور کوئی ایسا حکمراں مسلط کر دے جو اس نیک کام کو سر انجام دے سکے۔نا امیدی کفر ہے، انشاء اللہ آج نہیں تو کل اللہ پاکستان پر اپنا فضل کرے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 768 Articles with 660334 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
01 Jul, 2017 Views: 624

Comments

آپ کی رائے