نوجوانوں میں قدرتی صلاحیتیں بمقابلہ مصنوعی صلاحیتیں

(Maryam Arif, Karachi)

قدرتی صلاحتیوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے
برائے توجہ (نوجوان صفحہ)
تحریر: ہدایت الرحمن مصور، کراچی
اﷲ تعالیٰ نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے شروع دن سے آج تک انسان کی صلاحیتیں تلاش کی جارہی ہیں اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے لیکن انسانوں نے خود اپنے اندر ان صلاحیتوں کو تلاش کرکے اس کو ملٹی پل انٹیلی جنسیز کا نام دیا ہے جس کی تعداد 9ہے یہ بھی انسان کا ایک عظیم کارنامہ ہے ۔ دنیا کے ماہرین نے ان صلاحیتوں کی اکائیاں مرتب کیں اور اس کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزار کر مختلف فنون سے وابستہ کیا اور پھر اس بنیاد پر مختلف فنون کے اداروں نے جنم لیا تاکہ ان فنون کو عام کیا جائے اور اس کے ماہرین پیدا کیے جاسکیں جن لوگوں میں صلاحیتیں موجود ہیں ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کیا جائے ۔ لیکن یوں محسوس ہو رہا ہے کہ یہ ایک عالمی جنگ ہے ، دراصل جو لوگ عالمی سطح پر آگے بڑھ چکے ہیں انہیں ڈر ہے کہ کوئی اور ان کی جگہ آکر قبضہ نہ کرلے انہوں نے پیش بندی کرلی ہے کہ ان ممالک میں خوبصورت اور دیدہ زیب ادارے قائم کیے جائیں اور ان کی یہ اختیار دیدیا جائے کہ وہ جس کو ماہر تسلیم کرکے تصدیق کریں گے اسی کو دنیا میں ماہر تسلیم کیا جائے گا اور اس ادارے کی تصدیق کے علاوہ اگر کسی کو بہت کچھ آتا ہو وہ ماہر نہیں مانا جائے گا ۔پھر اس ادارے اور اس کاغذ کے ٹکڑے کی فیس اتنی زیادہ رکھی گئی کہ وہ عام آدمی کے دسترس سے باہر ہے ۔

ہنر کی ضرورت تو ان لوگوں کو نہیں جو سونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوئے ہوں ، اصل میں ضرورت تو ان لوگوں کو ہے جن کے گھر میں فاقے ہوتے ہیں کہ کوئی ہنر سیکھ کر اپنے گھر، خاندان اور رشتہ داروں کے حالات بہتر کیے جائیں۔ تکنیکی کام خداداد صلاحیت ہے یہ کسی ادارے یا فرد کی مرہون منت نہیں پتہ نہیں ہم نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یا بلا سوچے سمجھے بہت ساری چیزوں کو ایک دوسرے سے مشروط کرلیا ہے اگر کسی فرد کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تو اسے ہم ماہرانہ کام کے لیے بھی مسترد کرتے ہیں کہ اس کے کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا اس کے پاس کوئی ڈگری یا ڈپلومہ نہیں ہے اس لیے یہ فرد کسی کام کا نہیں۔ حالانکہ وہ ڈگری ہولڈر اور ڈپلومہ ہولڈر سے ہزار درجے بہتر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور عملًا کربھی رہا ہوتا ہے ۔ ایسی ہزاروں مثالیں اس معاشرے کے اند ر موجود ہیں۔

آپ کے ارد گرد بھی ایسے کئی لوگ موجود ہوں گے ہمارے علاقے میں حیدر جی گرافکس کے نام سے کام کرنے والا نوجوان حیدر علی ایک بہترین گرافکس ڈیزائنر ہے وہ گرافکس کے حوالے سے اپنی مختلف ویڈیوز تیار کرکے یو ٹیوب اور گوگل پر مفت تقسیم کررہا ہے ۔ اس کے پاس کوئی ڈگری یا ڈپلومہ نہیں ہے لیکن کئی ڈپلومہ ہولڈرز اس کے شاگرد ہیں اور اس سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں ، اس کا کہنا ہے کہ مجھے اﷲ تعالیٰ نے یہ صلاحیت دی ہے میں اس کا مشکور ہوں ڈگری یا ڈپلومہ لیکر انسانوں کا احسان نہیں لے سکتا ۔

اسی طرح رسول خان نامی ایک فرد موبائل فلیشنگ کا ماسٹر ہے کسی بھی قسم کا موبائل اس کے ایک کھیل کے سوا کچھ نہیں اپنے فن کا انتہائی ماہر دور دور سے لوگ اس کے پاس آتے ہیں کئی ایک ڈپلومہ ہولڈر ز جب کسی کام کو نہیں سمجھتے تو اس کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

انگوٹھا چھاپ ابو الکلام۔۔۔۔ ایک ایسا الیکٹریشن ہے کہ کارخانوں ملوں اور دفاتر میں اگر کوئی ایسا کام آجائے جو ڈپلومہ اور ڈگری ہولڈر نہیں کر پاتے تو ان کو بلا کر اس سے وہ کام کروایا جاتا ہے۔ اور پھر وہی ابو الکلام۔۔۔۔ ان کو کہتا ہے کہ یار مجھے بل بنا کردیں تاکہ میں اپنا معاوضہ حاصل کرسکوں۔

امریکن کچن بنانے کا ماہر ظفر اپنے فن کا ایسا ماہر کہ بڑے بڑے لوگ مہینوں اس کا انتظار کرتے ہیں کہ فارغ ہو کر ہمار ا کام کریں ، پنسل سے لکڑی پر لکیریں تو سیدھی کھینچ لیتا ہے کاغذ پر2 حرف لکھ نہیں پاتا ۔

ہر فن مولا محمد اعظم خان رکشہ چلاتا ہے اس کے گھر میں موجود کمپیوٹر کو دیکھ کر بڑے بڑے انجینئر حیران رہ جاتے ہیں کہ دھاگے سے باندھے گئے مختلف پارٹس کمپیوٹرکا کام کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہیں کہ جیسے کوئی جدید کمپیوٹر ، فائن آرٹ میں کوئی ڈپلومہ نہیں کیا ہے لیکن منظر کشی ایسی کرلیتا ہے کہ اچھے کاریگر بھی دھنگ رہ جاتے ہیں اور وہ بھی اسکرین پرنٹنگ کے کلرز سے جو اچھے اچھے آرٹسٹوں کو حیران کردیتا ہے ۔

اکبر ہمدرد پلاسٹک کی بوتلوں سے دستکاری تیار کرتا ہے اس میں اتنی نفاست کہ بندہ دیکھے تو سوچ میں پڑ جائے کہ آخر یہ بنایا کس مشین سے گیا ہے۔ ان میں سے چند ایک ہی ہوں گے جنہوں نے زیادہ سے زیادہ پرائمری تک تعلیم حاصل کی ہوگی ۔ لیکن اپنے فن میں جو مہارت ان کو حاصل ہے اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں اور اپنے اپنے فن میں کئی ایک شاگرد بھی رکھتے ہیں ۔

یہ جو ڈپلومہ اور ڈگری اور سرٹیفکیٹ دینے والے ادارے ہیں ادارے ہیں یہ ایسے لوگوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں ایسے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد ہوں گے جو اپنے فن میں تو ماہر ہیں لیکن ریاست ان کے مہارت اور صلاحیت کو تسلیم نہیں کرتی ۔ یہ جو ریاستی تعلیمی جانچ پڑتال کا نظام ہے اس کی وجہ سے اصل صلاحیت کھو گئی ہے ۔ مصنوعی صلاحیتوں کو ابھارا جارہا ہے حالانکہ مصنوعی صلاحیتیں قدرتی صلاحیت کا کبھی بھی مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ ان تعلیمی اداروں کو اچھا خاصا کاروبار مل چکا ہے اب یہ کاروبار ختم ہونے کا تو نہیں اس لیے اب اس نے مافیا کی شکل اختیار کرلی ہے۔

بہت سارے ادارے ایسے ہیں کہ وہ مختلف کمپنیز کو ’’چائے پانی‘‘ کراکے ان کو اس بات پر آمادہ کرتی ہیں کہ اپنے ادارے میں ہمارے ڈپلومہ ہولڈر ز کو جگہ دیں ایسے فیصلے کرنے کے ان اداروں میں ’’ کی پوسٹ‘‘ تک اپنے افراد کو پہنچایا جاتا ہے تاکہ اس قسم کے فیصلے کرنے میں آسانی ہو ۔ یہ بھی ایک آزمودہ کاروباری طریقہ ہے ۔ پھر یہی ادارے لوگوں سے لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں ، اگر کوئی ماہر فن ان اداروں میں جاکر ان سے ڈپلومہ یا سرٹیفکیٹ کی بات کرتا ہے تو یہ ادارے ان کے سامنے ایسی شرائط رکھتے ہیں کہ عام آدمی کے لیے مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس سلسلے میں کئی ایک شرائط ریاست کے حکمرانوں سے بھی منظور کرائی جاتی ہیں تاکہ کوئی قدرتی صلاحیت رکھنے والا کوئی فرد اس میدان میں قدم نہ جما لے۔

دوسری جانب سیاسی طور پر حکومت ایسے فیصلے کرتی ہے کہ عام افراد کی صلاحیتیں اس میں زنگ آلود ہو جاتی ہیں اور وہ لوگ جو صاحب استطاعت ہوتے ہیں وہ اس جگہ پرطبع آزمائی کرتے رہتے ہیں اس طرح ملکی ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ قدرتی صلاحیتوں سے فائدہ حاصل کرنے کے بجائے مصنوعی صلاحتیں اجاگر کرنے میں وقت ضائع کیا جاتا ہے جس سے چنداں فوائد حاصل نہیں ہو پارہے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ دوں گا کہ گیت ، نغمے یا ترانے گانے کے لیے سریلی آواز کو پسند کیا جاتا ہے لامحالہ یہ قدرتی صلاحیت ہے اس میں کسی کا عمل دخل کار آمد نہیں ۔ آج تک ایسا کوئی ادارہ وجود میں نہیں آیا کہ وہ یہ دعویٰ کرسکے کہ ہم آوازوں کو سریلی بنانے کا فن جانتے ہیں اور ہمارے ادارے کے فلاں اور فلاں فرد نے کامیابی کے ساتھ اس فن کو مکمل کیا اور اب وہ اس میدان میں طبع آزمائی کرر ہے ہیں ۔ حالانکہ کون نہیں چاہتاکہ اس کی آواز بھی سریلی ہو میرے جیسا ہر فرد اسی خواہش میں گنگناتا ہے ۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ قدرتی طور پر خوبصورت آواز کو لے ، سراور تال سمجھانے کا کام بہت سارے ادارے کررہے ہیں۔

اسی طرح قدرتی طور صلاحیتوں کے مالک افراد پر کام کیا جائے تو ملک میں موجود ٹیلنٹ سامنے آجائے گا ۔ ابھی گزشتہ دنوں ایک بچے نے کراچی کے ایک معروف ادارے سے کمپیوٹر ڈپلومہ کرنے کی خواہش ظاہر کی اس نے ادارے سے رابطہ کیا، انہوں اپنا نصاب اس کے سامنے رکھ دیا کہ ہم ویجول گرافکس میں آپ کو یہ اور یہ کام کرائیں گے اس بچے نے ان کو اپنا کام دکھا یا اور کہا کہ جو کام آپ کرارہے ہیں وہ مجھے سب آتا ہے اور اس پر عبوربھی حاصل ہے۔ بس مجھ سے امتحان لیکر مجھے ڈپلومہ دیدیجیے ، جس کے جواب میں ادارے کے ذمے داران نے کہا کہ یہ ڈپلومہ 2سال پر مشتمل ہے آپ 2سال کی فیس جمع کرادیں ہم آپ کو 6مہینے کے بعد امتحان میں شریک کرادیں گے۔ یعنی مسئلہ 2سال کی فیس کا ہے کسی کی صلاحیت کا نہیں اب وہ فیس صرف 2لاکھ 40 ہزار روپے بتا رہے تھے جو اس بچے کی دسترس میں نہیں تھی اس نے ڈپلومہ کا خیال ہی ترک کردیا ۔اب اگر ایسے لوگوں کی مدد ریاست نہیں کرے گی اور ان کے لیے کوئی آسان شرائط پر بندوبست نہیں کرے گی تو یہ صلاحتیں غلط استعمال ہونے کا خدشہ تو موجود ہے اور شاید ان ہیں وجوہات کی بنا پر ریاست کئی قسم کے مسائل کا شکار ہے ، اﷲ کرے کوئی اﷲ کا نیک بندہ اس جانب توجہ دے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519989 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jul, 2017 Views: 400

Comments

آپ کی رائے