کرنے کے کام

(Tanvir Sadiq, Lahore)

چند دن پہلے ایک نئی کلاس میں مجھے اپنا مختصرتعارف کرانا پڑا۔میں نے بتایا کہ میں پرانے لاہور کا باسی ہوں۔ تو ایک بچہ پوچھنے لگا کہ کیا آپ اندرون لاہور کے پرانے لوگوں کو جانتے ہیں۔میں نے ہنس کر کہا کہ بیٹا میں نے 1970 میں وہ علاقہ چھوڑا تھا۔ اس وقت بھی گو ذات پات کا نظام بہت مضبوط تھا مگر اس کے باوجود وہاں کے مکینوں میں ذات اور برادری سے بالاترایک رشتہ تھا ، ایک بھائی چارہ تھا، ایک مضبوط بندھن تھا۔آپ گھر سے دو تین میل دور بھی کسی محلے میں چلے جائیں۔ کسی کو بتا دیں کہ آپ کون ہیں کس کے بیٹے ہیں، کس کے پوتے ہیں،کس کے بھائی ہیں تو یہ جان کر کہ آپ فلاں کے بیٹے ،بھائی یا فلاں کے پوتے ہیں، تو لوگ اس تپاک سے ملتے گویا کوئی سگا بھتیجا یا بھانجا آ گیا ہو۔ اس پرانے شہر کابڑ ا مضبوط اور مربوط کلچر تھا ۔ جو اب کہیں نظر نہیں آتا۔ اب تو نہ وہ مکان رہے اور نہ وہ مکین۔ مکان تیزی سے گرا کر پلازے بنائے جا رہے ہیں۔ پرانے مکین بڑھتی ہوئی آلودگی اور پھیلتی ہوئی مارکیٹوں سے تنگ آکراور علاقے کو رہائش کے قابل نہ پاتے ہوئے پوش علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔نئے مکین کون ہیں اور کہاں کہاں سے آئے ہیں، کوئی نہیں جانتا اور پہچانتا۔ وہ بچہ کہنے لگا کہ کہ اس کے والدین بھی اندرون شہر کے پرانے مکین ہیں۔پھر اس نے اپنے دادا کا نام بتایا۔ وہ اپنے وقت شہر کے معروف آدمی تھے اور ان کے آٹھ نو بیٹے تھے ۔ میں تقریباً سبھی کو جانتا تھا ۔ میں نے بچے کو پوچھا کہ کس کے بیٹے ہو۔اس نے اپنے والد کا نام بتایا تو میں نے ہنس کر کہا کہ اب میرا تفصیلی تعارف اپنے گھر والوں سے پوچھ لینا۔چالیس سال سے زیادہ عرصہ اس علاقے کو چھوڑے ہو چکا ہے مگر پرانے لوگ اسی پیار اور چاہت سے ملتے اور یاد کرتے ہیں ۔نئی نسل کو رشتوں کی یہ مضبوطی سمجھ ہی نہیں آ سکتی۔

مجھے شاہ عالم مارکیٹ میں کچھ خریداری کرنا تھی۔میری پیدائش اسی علاقے کی ہے۔ بچپن کا بہت حصہ وہیں گزرا ہے۔وہاں کے گلی کوچوں سے پوری طرح واقف ہوں، چپے چپے سے کچھ نا کچھ یادیں وابستہ ہیں۔جو مجھے خریدنا تھا وہ گلبرگ اور جوہر ٹاؤن سمیت بہت سی جگہوں سے بھی مل سکتا تھا مگر ہول سیل مارکیٹ کی وجہ سے کچھ سستا ملنے کی امید تھی دوسراآبائی علاقے کی چاہت ہے جو ہر ایک کوکچھ عرصے بعد مجبور کرتی ہے کہ وہاں کا چکر لگا لیا جائے ۔ پرانی یادوں کو تازہ کیا جائے، گو ان محلوں میں اب کوئی پرانا اور شناساچہرہ نظر نہیں آتا مگر یہ بھی دل کی مجبوری ہوتی ہے جو آپ کو کھینچ لے جاتی ہے۔ یہی باتیں ذہن میں سوچ کر میں عازم شاہ عالم مارکیٹ ہوا۔

کافی دنوں بعد وہاں کا چکر لگا رہا تھا۔ بہت سی چیزیں اور راستے بدلے بدلے نظر آ رہے تھے۔ حضرت داتا گنج بخش کے مزار سے کچھ آگے یو ٹرن سے میں نے بھاٹی گیٹ کی جانب گاڑی موڑی۔ وہاں ٹریفک اس قدر جمود کا شکار تھی کہ یو ٹرن سے بھاٹی چوک تک چھ سات سو گز کا فاصلہ طے کرنے میں پندرہ بیس منٹ لگے۔موٹر سائیکل، عام رکشے اور چنگ چی رکشے اس بری طرح گاڑی کو چھو کر گزرتے کہ مجھے لگا کہ آج گاڑی سلامت واپس نہیں جا سکے گی۔بھاٹی گیٹ سے آگے رش کا عالم اس سے بھی بدتر نظر آرہا تھا۔یہ وہی علاقہ تھا جہاں ہم بچپن میں سڑکوں پر بھاگے پھرتے تھے ۔ اکا دکا کوئی تانگہ یا ٹیکسی گزرتا تو پرواہ بھی نہ کرتے تھے۔اس وقت یہ سمٹی ہوئی سڑکیں ہمارے لئے کھیل کے میدان کی طرح ہوتی تھیں۔چوک میں ایک طرف شہر کے گرد نالے کے کنارے ایک سٹینڈ نظر آیا۔ میں نے فوراً گاڑی وہیں پارک کی تو سانس آیا۔ اس بدترین ٹریفک میں پندرہ بیس منٹ گاڑی چلانے کے بعد میرا بلڈ پریشر بھی بڑھ چکا تھا اور سر میں درد بھی ہو رہا تھا۔میں نے پارکنگ والے سے پوچھا ، آج رش زیادہ کیوں ہے۔ جواب ملا،رش ہمیشہ ہی ہوتا ہے تھوڑا زیادہ شاید اس لئے ہے کہ شام کے چار بج رہے ہیں، خریداری کا وقت ہے۔ ویسے ہر روز اس وقت یہی صورتحال ہوتی ہے۔میں سوچ رہا تھاکہ ہر روز یہی صورتحال ہوتی ہے اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں ہر روز یہاں آنا ہوتا ہو گا۔ وہ لوگ کس قدر مضبوط اعصاب کے مالک ہوں گے۔ میں تو آئندہ آتے ہوئے کئی دفعہ سوچوں گا یا اس دن آؤں گا جس دن مارکیٹوں میں چھٹی ہو گی۔

پندرہ بیس منٹ میں خود کو بحال کرنے کے بعد میں نے ایک رکشا لیا ۔ رکشے والے نے ڈیڑھ یا دو کلومیٹر کا وہ فاصلہ آدھ گھنٹے میں کچھوے کی رفتار سے عبور کیا اور دو سو روپے وصول کئے۔راستے میں کچھ لمحات ایسے بھی آئے کہ آیت کرسی کا ورد خود بخود زبان پر جاری ہو گیا۔شاہ عالمی پہنچ کرخواہش تو تھی کہ آبائی محلے کا چکر لگاؤں مگر ذہنی طور پر جس وحشت کا شکار تھااس وحشت نے مجھے حوصلہ نہ دیا۔ میں نے چند چیزیں خریدیں اور واپس چل پڑا ۔واپسی کا آدھ گھنٹہ بھی اسی اذیت میں گزرا۔ بھاٹی پہنچ کر پارکنگ سے اپنی گاڑی لی۔ بڑی مشکل سے چوک کی بے ہنگم ٹریفک میں سے سلامتی سے گاڑی نکالی اور یہ سوچتے گھر واپس آ گیا کہ یہ جو سڑکیں بنی ہیں۔ نئے نئے راستے وجود میں آئے ہیں اس سارے ترقیاتی عمل کے باوجود عوام کے عذاب کیوں کم نہیں ہوئے۔

اصل مسئلہ یوں ہے کہ پرانے شہر کے ارد گرد بنی سرکلر روڈ کے دونوں طرف بڑی بڑی ہول سیل مارکیٹیں ہیں۔ ان مارکیٹوں کے خریداروں کا تعلق صرف پنجاب یا پاکستان سے ہی نہیں افغانستان اور ملحقہ ملکوں سے بھی ہوتا ہے ۔ اتنی بڑی تعداد میں آنے والے گاہک اپنے ساتھ اسی حساب سے گاڑیاں بھی لے کر آتے ہیں۔ مال لانے اور لے جانے کے لئے بڑی تعداد میں ٹرک بھی آتے ہیں۔مقامی آبادی کی آمدورفت بھی وہیں ہوتی ہے۔ پرانے شہر کی پرانی سڑکیں وسعت دینے کے باوجود اتنی ٹریفک کی متحمل نہیں۔حکومت کے کرنے کا جو کام تھا وہ یہ تھا کہ جب کوئی موٹر وے یا اس جیسی کوئی سڑک بنائے تو شہر کی تمام ہول سیل مارکیٹوں کو اس سے ملحقہ علاقوں میں منتقل کر دے۔ شہر میں ٹرکوں اور بھاری گاڑیوں کی آمدورفت بہت محدود ہو جائے گی۔ ہم نے شہر کے گرد ایک رنگ روڈ تعمیر کی ہے۔ ایم ایم عالم روڈ ایک رہائشی علاقہ تھا جو آہستہ آہستہ اب فیشن بازار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ وہاں شام کے قوت رش کا وہ عالم ہوتا ہے کہ پارکنگ نہیں ملتی۔ رنگ روڈ کے دائیں بائیں کہیں تین چار مختلف جگہ پر فیشن بازار بنا دئیے جائیں تو رہائشی علاقوں کا بوجھ کچھ کم ہو سکے گا۔ رنگ روڈ اور موٹر وے کے قریب فوڈ سٹریٹس ایک قابل عمل منصوبہ ہے۔ میں نے بہت سے شہروں میں ایسا دیکھا ہے ۔کہ موٹر وے پر ریسٹورنٹ کا سلسلہ ہے، شاندار مال ہیں۔جہاں وسیع پارکنگ بھی ہو تی ہے۔ لوگ ٹریفک سے بچ کر وہاں انجوائے کرتے ہیں۔ اصل میں ایسے کام حکومت کے سوچنے اور کرنے کے ہیں تاکہ لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوں اور لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔ مگر کوئی نہیں سوچتا، کوئی نہیں کرتا۔اسلئے کہ ہر ایک اپنے مفادات کا غلام ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 440 Articles with 227473 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
20 Jul, 2017 Views: 525

Comments

آپ کی رائے