ذرا سی برداشت چاہئیے

(UA, Lahore)

السلام و علیکم

گذشتہ چند روز قبل بس میں سفر کا اتفاق ہوا بارش کا موسم تھا بلکہ کوئی آدھ گھنٹے سے موسلا دھار بارش جاری تھی جی سی یونیورسٹی سے ملحقہ کچہری بس سٹاپ پر کھڑی سواریاں نہ جانے کب سے بس کا انتظار کر رہی تھیں جونہی بس آئی بے چینی سے بس کے انتظار میں کھڑے خواتین و حضرات بس کی طرف بڑھے ڈرائیور صاحب کو جانے کس بات کی عجلت تھی کہ اترنے والی سواریوں کو تو اتار دیا لیکن منتظر سواریوں کو سوار کئے بغیر ہی بس سٹارٹ کرنے لگے خواتین و حضرات جو بہت دیر سے بس کی آمد کے منتظر تھے اس صورتحال سے بوکھلا کر جلدی سے بس میں کسی نہ کسی طرح بلآخر سوار ہونے میں کامیاب ہو گئے کہ اچانک بس کی اگلے حصّے سے عجیب انداز میں کسی کہ چلاّنے کی آواز سنائی دی یا الہی خیر بے اختیار زبان سے نکلا حواس بحال ہوئے تو حقائق جاننے کے لئے آگے بڑھ کر دیکھا تو معلوم ہوا بس میں سوار ہوتے وقت ایک خاتون کا پاؤں ایک دوشیزہ جو کہ سرتاپا بلکہ پاؤں سے ذرا اوپر برقعے میں پوشیدہ تھیں شاید جلدی پاؤں ڈھانپنا بھول گئیں اور خاتون کی چپل پر بارش کی وجہ سے سڑک پر پڑی کیچڑ کا شکار ہونے سے اپنے خوبصورت پاؤں نہ بچا سکیں اور ردّ عمل کے طور پر اپنے سے کم از کم آدھی عمر بڑی خاتون کو وہ صلواتیں سنائی کہ الامان والحفیظ اور اس قدر سنائیں کے بیچاری خاتون کو نادانستہ کی گئی خطا کی معذرت کرنے کا ہی موقعہ دے دیتیں بیچاری خاتون اس بے ساختہ حملے سے اس قدر حیران ہوئیں کے ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکال سکیں ورنہ بس میں موجود ہر فرد کے دل میں یہ خیال ہوگا کہ اب ایک دلچسپ گھمسان کی جنگ کا آغاز ہوا جاتا ہے لیکن آگ کو آگ سے نہیں خاموشی اور درگزر کے پانی سے بجھا کر خاتون نے ثابت کر دیا کہ "ذرا نم ہو یہ مٹّی تو بہت زرخیز ہے ساقی" درگزر، تدّبر اور پرداشت سے بہت سےمعاشرتی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ ظاہری نقاب سے ہم اپنا آپ تو چھپا سکتے ہیں لیکن ہمارے رویے ہمارے باطن کو بڑی آسانی سے بے پردہ کر سکتے ہیں۔ ہم سب کو مل کر سوچنا ہے کہ کس طرح ہم اپنی انفرادی اصلاح کے ساتھ اجتماعی اصلاح و فلاح کا باعث بن سکتے ہیں۔ سوچیے اور حتیٰ الامکان عمل کرنے کی کوشش کیجئیے تاکہ ہم اپنا وہ مقام حاصل کر سکیں جو ہم نے کھو دیا اور جو ہمارا حق ہے۔ اللہ ربّ العزّت ہمیں نیکی کی ہدایت مرحمت فرمائے اور ہمیں نیک عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: uzma ahmad

Read More Articles by uzma ahmad: 32 Articles with 12150 views »
sb sy pehly insan phr Musalman and then Pakistani
broad minded, friendly, want living just a normal simple happy and calm life.
tmam dunia mein amn
.. View More
07 Aug, 2017 Views: 379

Comments

آپ کی رائے