فنا اور بقاء

(مرزا روحیل بیگ, Germany)

خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی اچھی شہرت کی وجہ سے ان کا نام دنیا میں ہی ان کی پہچان بن جاتا ہے۔ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی موت کے بعد بھی اس کا نام زندہ و جاوید رہے۔لوگ اس کو اچھے الفاظ سے یاد کریں۔انسان مرنے کے بعد مٹی میں مل جاتا ہے یہ اس کی فنا ہے،جبکہ مرنے کے بعد انسان کا جو مقام اور نام زندہ رہتا ہے وہ اس کی بقاء ہے۔خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کا نام مرنے کے بعد تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔

انسان بہت ہی کمزور،لاچار،گناہوں سے لتھڑا ہوا ساری زندگی فنا ہو جانے کے خوف میں بسر کرتا ہے۔مگر تعجب ہے انسان اپنی اوقات معلوم ہونے کے باوجود اکڑتا،اتراتا،اور گھمنڈ میں مبتلا رہ کر زندگی گزارتا ہے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس نے فنا ہو جانا ہے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے کے خواب دیکھتا ہے۔وہ لوگ جو خود کو عاجز جانتے،دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھتے ہیں،ایسے لوگ ہی قدرت کی طرف سے بقاء پاتے ہیں۔جسم فنا ہے تو روح کو بقاء حاصل ہے،زخم فنا ہے تو درد کو بقاء ہے۔ماں کو فنا ہے تو ممتا کو بقاء حاصل ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح وفات پا گئے مگر مسلمانوں اور پاکستان کے لئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گیں۔ان خدمات کی وجہ سے قائداعظم محمد علی جناح کو بقاء حاصل ہے۔علامہ محمد اقبال جہان فانی سے کوچ کر گئے مگر اپنی شاعری سے مسلمانوں میں جو روح پھونک گئے اور جو ولولہ تازہ انہوں نے مسلمانوں کو دیا وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو ناقابل تسخیر ایٹمی قوت بنا دیا،کوئی دشمن ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا اس عظیم کارنامے پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بقاء حاصل ہے۔مولانا عبدالستار ایدھی انتقال کر گئے مگر انسانیت کے لئے ان کی خدمات تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔کہنے کا مقصد یہ ہے جسم کو فنا حاصل ہے مگر انسان کے جذبے اور اس کے کام کو بقاء ہے۔

یہ واقعہ میں نے ایک مشہور مصنف کی کتاب میں پڑھا تھا کہ حضرت صابر کلیر شریف رحمتہ اللہ علیہ ایک عظیم روحانی ہستی تھے جب ان کے انتقال کا وقت آیا تو انہوں نے وصیت کی کہ میری میت تیار کر کے دفنانے کے لئے جنازہ گاہ میں رکھ دینا۔ایک نقاب پوش گھڑسوار آئے گا اور وہ میری نماز جنازہ پڑھائے گا۔انتقال کے بعدان کی میت کو نہلا کر جنازہ گاہ میں رکھ دیا گیا۔اتنے میں ایک گھڑسوار نقاب پوش آیا،وہ گھوڑے سے اترے،نماز جنازہ پڑھائی اور واپس جانے لگے۔واپس جانے سے پہلے انہوں نے اپنا نقاب ہٹایا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ خود حضرت صابر رحمتہ اللہ علیہ تھے جن کا انتقال ہوا تھا۔وہ ان کی فنا تھی اور یہ ان کے بقاء تھی۔اللہ کے رستے میں اپنی جان دے دینا اس سے بڑھ کر انسان کو اور کیا رتبہ فنا مل سکتا ہے جس کو شہادت کہتے ہیں۔شہید دراصل مقام فنا سے گزر کر بقاء کا ایسا مقام پا لیتا ہے کہ جس کو کبھی زوال نہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مرزا روحیل بیگ

Read More Articles by مرزا روحیل بیگ: 8 Articles with 3907 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2017 Views: 205

Comments

آپ کی رائے