وطن پرستی کا علاج اسلام واقبال کی نظر میں

(نواب فاتح, karachi)
وطن سے محبت فطری بات ہے اور دین فطرت ھونے کی وجہ سے اسلام نے اس پر پابندی نہیں لگائی مگر جب وطنیت بت بن کر حق پرستی کے مقابل وطن پرستی بن جائیے تو یہ منع ھے قبلہ کے تقرر اور تبدیلی اس کا روزمرہ علاج ھے اقبال نے بھی خوب روشنی ڈالی ھے

اسلام دین فطرت ہے اور اسلامی احکام فطرتِ سلیمہ و پاکیزہ طبیعت کے تمام تقاضوں کے عین مطابق ہیں اس قسم کے فطری اور طبعی جذبات پرکوئی پابندی نہیں ہے
اپنے وطن سے محبت یہ بھی فطری چیز ہے مگر مال، اہل و عیال اور اولاد کی محبت کی طرح وطن کی محبت حق پر چلنے اور حق کی مدد کرنے میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے
ایسا نہ ہو کہ وطن کی محبت حق پرستی کے مقابلے میں وطن پرستی بن جائے ایک مسلمان کے دل میں ہر وقت وطن پرستی کے جذبے کی جگہ حق پرستی کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے مختلف احکامات دیے گئے ہیں چونکہ انسان زندگی وطن میں گزارتا ہے اور ہروقت وطن نظر کے سامنے ہوتا ہے تو حکم بھی ایسا ہونا ضروری تھا جس پر عمل بھی ہر دن اور دن میں بار بار کیا جائے
اسلام کی ابتدامیں مساجدعرب کے شہر مدینہ میں بنتی ہیں اور320کلو میٹر قریب مکہ کے خانہ کعبہ کو چھوڑ کر1300 کلو میٹر دور فلسطین کا بیت المقدس قبلہ مقررہوتا ہے حالانکہ عرب میں کعبہ موجود تھا جو صرف عرب جاہلیت ہی میں نہیں بلکہ اسلام میں بھی محترم تھا
17 مہینوں کے بعد بیت المقدس کی جگہ خانہ کعبہ قبلہ قراردیاجاتا ہے
اس طرح قبلہ کے تقررو تبدیلی میں کیا حکمت تھی؟
پہلے بیت المقدس کا قبلہ مقررہونا۔۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف قبلہ مقرر ہوا لیکن سوچتے نہیں دیکھتے نہیں۔۔۔ یہ کسی نے نہیں دیکھا کے" وطنیت" کا جو بت عربوں میں صدیوں سے پوچھا جاتا تھا اور اس زور وشورسے پوجاجاتا تھا کے اس بت کا پجاری اپنے سوا سب کو عجم اور گونگا سمجھتا تھا دیکھو کہ صرف ایک اسی مخفی ضرب نےاس بت کو پاش پاش کردیا
جب قرآن میں ہے کہ ابتدا میں عربوں پر غیر ملکی قبلے کی
طرف رُخ کرنے کا حکم سخت گزرا یہی تو غور کرنا تھا کے کیوں سخت گزرا ؟
لیکن اب تو سختیوں کے برداشت کا انہوں نے عہد کیا تھا جھجکے مگر اسی کے ساتھ ہی آگے بھی بھڑگئے اور جو لادا گیا لاد لیا
17 مہینہ تک اس وطنیت شکنی کی مشق نے جب ان کے لیےعرب اور غیر عرب ایک بنا دیا تو اس سے بھی عجیب اور عجیب تر تماشا پیش ہوتا ہے بیت المقدس کو قبلہ بناکر عرب کے باشندے عرب سے الگ کیے گئے لیکن اب خدا کی ساری زمین سے یہ عرب اور غیر عرب کا قصہ ہی ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جاتا ہے 17 مہینے کے بعد قبلہ بدلتا ہے اور بجائے سلیمان کی ہیکل کے سلیمان وداود٬ اسحاق و اسماعیل کے باپ ابراہیم کے بنائے ہوئے کعبہ کو قبلہ
ٹہرا کر حکم دیا جاتا ہے
"اے مسلمانو تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے چہروں کو اس کی طرف موڑ دو"
کیا مقصد ہے اس کا ؟
یہی کہ جو کعبے سے باہر کیے گئے ہیں وہ بھی کعبے کے اندر ہیں اورجو کعبےسے باہر تھے اپنے کو کعبے کے اندر سمجھیں پہلے غیر عرب کوعرب کا قبلہ بنایا گیا اورجب یہ ہو چکا توپھر عرب اور غیر عرب سب کو مٹا کر نہ عرب ہی رہا نہ غیر عرب رہا بلکہ خُدا کی ساری زمین جو ایک دنیا تھی وہ ایک دنیا کی شکل میں واپس آگئی
کعبہ دنیاکی مسجد کی دیوار ٹھہرایا گیا اور ساری زمین اسی دیوار کا صحن قرار پائی یہی ہر مسلمان سمجھتا ہے اور اسی کے مطابق عمل کرتا ہے وہ افریقہ کو بھی کعبے میں سمجھتا ہے اور امریکہ کو بھی اسی کے صحن کا ایک حصہ قرار دیتا ہے ایشیا بھی اس کو کعبےکی دیواروں کے نیچے نظر آتا ہے یورپ میں بھی جب اسکو نماز کی ضرورت ہوتی ہے تو کعبے کے آنگن میں کھڑاہوکر وہ اپنی نماز ادا کرتا ہے
ایورسٹ اسی کے صحن کا ایک ٹیلہ ہے اور بحر محیط اسی صحن کا ایک حوض٬ بحر قلزم اسی صحن کی ایک نالی ھے
ایک مسلمان دن میں پانچ وقت اسی نظریہ کی عملی مشق کرتا ہے اور اس کو یہی بتایا گیا ہے صحیح حدیث میں ہے
جعلت لی الارض مسجدا
ساری زمین میرے لئے مسجد بنائی گئی ھے۔
(ماخوذ از النبی الخاتم۔۔ گیلانی)

دوسری طرف
ایک انسانی گروہ نے وطنیت کے بت کو تراشا اور وہ نہ صرف اس کے آگے سربسجود ہے بلکہ اس بت پربلا تکلف انسانیت کو بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔اس لیےمفکر پاکستان اقبال کا اعلان ہے کہ اہل توحید نے جس طرح دوسرے بتوں کو توڑا ہے ،اس بت کو بھی توڑنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانیت کو آزادی ملے۔
اقبال وطنیت کے اس نظریہ کو کسی ایک قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے اس لیے انہوں نے وطنیت کے بجائے امت کا تصور پیش کیا ۔ بانگ درا کی مشہور نظم میں مسلمانوں کو چوکنا کرتے ہیں کہ:
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہے
غارت گر_ کاشانہ دین نبوی ہے
بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے
اس تحریر کا مقصد اور پیغام وھی ہے جو اقبال کا پیغام ہے

نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے
ھاں..... ھاں
خاک میں اس بت کو ملا دے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: نواب فاتح

Read More Articles by نواب فاتح: 12 Articles with 15018 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Aug, 2017 Views: 915

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ