حدود حرم میں پڑھی جانے والی نماز کاثواب ایک لاکھ ہے

(Maqubool Ahmad, Saudi Arab)

ہرسال حج کے موقع سے یہ بحث جھڑ جاتی ہے کہ مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ایک لاکھ ثواب کیا حدود حرم میں پڑھی جانے والی ہرنماز کے لئے ہے یاصرف مسجدحرام کے ساتھ ہی حاص ہے ؟ عموما یہ بحث اس وجہ سے جھڑتی ہے کہ آفاق سے آئے سبھی حجاج مکہ میں قیام کے دوران مسجد حرام میں ہی پنج وقتہ نمازیں ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر چند اسباب کی وجہ سے سبھی حاجیوں کو پنج وقتہ نمازیں مسجد حرام میں ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔مثلا
٭ ضعیفی کی وجہ سے ہرنماز کے وقت آمدورفت کرنا مشکل ہے۔
٭ رہائش مسجدحرام سے دور ہونے کے سبب آمدورفت کی دقت ہے۔
٭ مسجد حرام میں نفلی طواف اور عبادت وتلاوت کی کثرت سے تھک جانے کی وجہ سے آرام چاہئے اس وجہ سے مسجد حرام کی ہر نماز میں شامل ہونا باعث مشقت ہے ۔
٭ سواری کی عدم سہولت ، راستے کی عدم معلومات یا ضعیفی میں تعاون کرنے والا نہ ملنے کے سبب دشواری کا سامنا ہے ۔
٭ بعض لوگ بھیڑ کی وجہ سیمسجد حرام کی ہرنماز میں شامل نہیں ہوپاتے۔
٭ بعض حجاج یہ سوچتے ہیں کہ دنیا کے کونے کونے سے حجاج مکہ میں پہنچے ہیں اس لئے سب کو مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا حق ہے ،یہ سوچ کر دوسروں کے لئے وسعت دیتے ہیں اور ان کے لئے تنگی کا سبب نہیں بنتے ۔
ان وجوہات کی بناپرسبھی حجاج مسجدحرام کی ہرنمازمیں شامل نہیں ہوپاتے ، اس وجہ سے یہ حجاج اہل مکہ اور اپنے جاننے والے علماء سے رابطہ کرتے ہیں کہ اگر ہم مسجد حرام میں کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں تو کیا اپنی رہائش کے قریب مسجد میں اس نماز کوادا کرلیں ؟ اور کیا ہمیں اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ملے گا؟۔
یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے ، اس میں علماء کی کئی رائیں ہیں ان میں دواہم ہیں ۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ ایک لاکھ کا ثواب مسجد حرام کے ساتھ ہی خاص ہے اور بعض کہتے ہیں کہ حدود حرم میں موجود کسی مسجد میں نماز پڑھنے سے ایک لاکھ ثواب ملے گاکیونکہ یہ خصوصیت مسجد حرام کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ حدود حرم کی تمام مساجد کے لئے عام ہے ۔اس کے قائلین میں جمہور حنفیہ،مالکیہ اور شافعیہ ،حافظ ابن حجرؒ، علامہ ابن القیم ؒ، ابن حزمؒ،امام نوویؒ،عطاء بن ابی رباحؒ، حسن بصریؒ، شیخ ابن بازؒ اور شیخ صالح فوزان ؒ وغیرہم ہیں ۔
جب دلائل کا جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حدود حرم میں واقع تمام مساجدمیں ہرنماز کاثواب ایک لاکھ کے برابر ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
صلاۃٌ فی مسجِدی أفضلُ من ألفِ صلاۃٍ فیما سواہُ إلَّا المسجدَ الحرامَ وصلاۃٌ فی المسجدِ الحرامِ أفضلُ من مائۃِ ألفِ صلاۃٍ فیما سواہُ(صحیح ابن ماجہ:1163)
ترجمہ:میری مسجد میں نماز مسجد حرام کے سوا کسی بھی مسجد کی ہزاروں نمازوں سے افضل ہے۔ اور مسجد حرام میں ایک نماز پڑھنا کسی دوسری مسجد کی ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر ہے ۔ مسجد حرام کا نام حرم میں واقع ہونے کی وجہ ہے تو حرم میں جتنی مساجد ہیں معنوی طور پر ان سب پر مسجد حرام کا اطلاق ہوگا کیونکہ وہ سب حدود حرم میں واقع ہیں ۔
بخاری شریف کی حدیث ہے :
عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال لا تشد الرحال إلا إلی ثلاثۃ مساجد المسجد الحرام ومسجد الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم ومسجد الأقصی(صحیح البخاری : 1189)
ترجمہ: نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین مسجدوں کے سوا اور کسی کے لئے سفر نہ کیا جائے۔ایک مسجد حرام، دوسرے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مسجد اور تیسرے مسجد اقصیٰ ۔
اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجر ؒ نے فتح الباری میں لکھا ہیکہ یہاں المسجدالحرام سے مراد پورا حرم ہے ۔ اور اس کی تائید میں عطاء کے طریق سے طیالسی کی روایت ذکر کی ہیکہ ان سے پوچھا گیا کہ یہ فضیلت صرف اسی مسجد کے ساتھ خاص ہے یا پورے حرم کے لئے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ پورے حرم کے لئے کیونکہ یہ سب مساجدہیں ۔ (فتح الباری ، کتاب فضل الصلوٰۃ فی مسجد مکۃ و المدینۃ)
یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اﷲ نے اس مذکورہ حدیث کو فضل الصلاۃ فی مسجدمکہ کے تحت ذکر کیا ہے یعنی مکہ کی مسجدمیں نماز کی فضیلت ۔
اسی طرح اﷲ تعالی کا فرمان ہے : سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَیٰ بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ (الاسراء :1)
ترجمہ: پاک ہے وہ اﷲ تعالٰی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اﷲ تعالٰی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے ۔
یہ بہت معروف واقعہ ہے کہ اسراء کا واقعہ ام ہانی کے گھر سے شروع ہوا تھا اور یہاں آیت کریمہ میں اﷲ تعالی نے ام ہانی کے گھر کو مسجد حرام سے تعبیر کیا ہے کیونکہ یہ گھر حرم کے حدود میں واقع تھا۔ ابن المفلح حنبلی نے لکھا ہے کہ ابن الجوزی نے ذکر کیا ہے کہ اکثر مفسرین کے نزدیک اسراء ام ہانی کے گھر سے ہوا تھا،اس بنیاد پر المسجد الحرام کا معنی ہوگا کہ سارا حرم مسجد ہے ۔ (الفروع لابن مفلح)
اسی طرح اﷲ تعالی کا یہ فرمان :
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہَٰذَا وَإِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیکُمُ اللَّہُ مِن فَضْلِہِ إِن شَاء َ إِنَّ اللَّہَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ (التوبۃ:28)
ترجمہ: اے ایمان والو! بیشک مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہے تو اﷲ تمہیں دولت مند کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے اﷲ علم و حکمت والا ہے ۔
یہاں بھی مسجد حرام سے پورا حدود حرم مراد ہے اس لئے آج بھی کسی مشرک کو حدود حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ حدود پاک ہیں اور مشرک نجس۔ابن حزم ؒ نے بلا اختلاف یہ بات ذکر کی ہے کہ اس آیت میں مسجد حرام سے مقصود پورا حرم ہے نہ کی صرف مسجد۔ (المحلی:4/243)
اسی طرح اﷲ کا یہ فرمان بھی دلیل ہے :
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ وَمَن قَتَلَہُ مِنکُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاء ٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنکُمْ ہَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِینَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِکَ صِیَامًا لِّیَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِہِ (المائدۃ: 95)
ترجمہ: اے ایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت احرام میں ہو اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر فدیہ واجب ہوگا جو کہ مساوی ہوگا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کر دیں خواہ وہ فدیہ خاص چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے اور خواہ کفارہ مساکین کو دے دیا جائے اور خواہ اس کے برابر روزے رکھ لئے جائیں تاکہ اپنے کئے کی شامت کا مزہ چکھے۔
فدیہ کے متعلق فتح القدیر اور احسن البیان میں ہے کہ یہ فدیہ ،جانور یا اس کی قیمت کعبہ پہنچائی جائے گی اور کعبہ سے مراد حرم ہے یعنی ان کی تقسیم حرم مکہ کی حدود میں رہنے والے مساکین پر ہوگی ۔
مسند احمد میں ایک روایت ہے کہ نبی ﷺحدیبیہ میں حل (حدود حرم سے باہر) کے مقام پر رہائش پذیر تھے لیکن جب نماز پڑھناہوتا تو آپ حدود حرم میں آجاتے ۔(مسند احمد: 4/326، ابن ابی شیبہ ص: 274،275)
اصل میں حدیبیہ کا کچھ حصہ حل ہے اور کچھ حصہ حرم ۔ اس حدیث سے بھی واضح اشارہ ملتا ہے کہ رسول اﷲ ? حرم کی فضیلت حاصل کرنے کے لئے حل سے حرم میں آجاتے اور پھر نماز ادا کرتے تھے ۔ ابن القیم ؒ نے مسند احمد کی اس روایت کے متعلق لکھا ہے کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مکہ میں نماز کی زیادتی کا ثواب پورے حرم کو شامل ہے یہ اس مسجد کے ساتھ خاص نہیں ہے جو طواف کی جگہ ہے ۔ (زادالمعاد:3/303)
کئی صحابہ کرام بھی نبی ﷺکی طرح حرم کے حدودمیں نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے جیساکہ عبداﷲ بن عمروبن عاص رضی اﷲ عنہ کی رہائش عرفہ میں حل میں ہوتی اور آپ کا مصلی حرم کے حدود میں ہوتا ، پوچھاکہ اس کی وجہ کیا ہے تو انہوں نے کہا اس میں عمل کرنا افضل ہے اور گناہ بھی عظیم ہے۔ (مصنف عبدالرزاق، کتاب الحج، باب الخطیئۃ فی الحرم:5/ 27: 8870)
حرم میں اجر کی زیادتی پہ شیخ عبداللطیف بن عوض قرنی کا"الحرم المکی ومضاعفۃ الاجر فیہ" کے نام سے عربی میں ایک مقالہ ہے ۔ اس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ قرآن میں پندرہ مقامات پہ مسجد حرام کا ذکر ہے اور ابن القیم ؒ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ مسجد حرام سے اﷲ کی کتاب میں تین مراد ہیں ۔ ایک نفس البیت، دوسری وہ مسجد جو اس کے اردگرد ہے اور تیسری مراد پورا حدود حرم ہے ۔ (احکام اھل الذمہ : 1/189) امام نووی ؒ نے چوتھی مراد مکہ لیا ہے ۔ (المجموع شرح المھذب: 3/189)
شیخ عبداللطیف نے تیسری مراد کے ماننے والوں میں احناف بحوالہ (بدائع الصنائع 2/301)،مالکیہ بحوالہ (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی 3/1275)، شافعیہ بحوالہ (مغنی المحتاج 6/67)، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ بحوالہ (الفتاوی 22/207)، ابن القیم ؒ بحوالہ (زاد المعاد 3/303)، اور شیخ ابن باز بحوالہ (مجموع فتاوی ومقالات 17/198) ذکر کیا ہے ۔
ان سطور بالا کا ماحصل یہ ہے کہ حدود حرم کی کسی مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب کعبہ کے گرد نماز پڑھنے کے برابر ہے سوائے مسجد نبوی کے کہ اس کا ثواب اسی مسجد کے ساتھ خاص ہے جسے رسول اﷲ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے بنایاہے اور اس کی فضیلت اس مسجد کے ساتھ لفظ ھذا(یعنی میری یہ مسجد)کے ذریعہ خاص کردی ہے ۔
محمد بن عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اﷲ نے مسجد نبوی میں نماز کے اجر والی حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
قولہ : ( صلاۃ فی مسجدی ہذا ) قال النووی : ینبغی أن یحرص المصلی علی الصلاۃ فی الموضع الذی کان فی زمانہ صلی اﷲ علیہ وسلم دون ما زید فیہ بعدہ ; لأن التضعیف إنما ورد فی مسجدہ ، وقد أکدہ بقولہ ( ہذا ) بخلاف مسجد مکۃ فإنہ یشمل جمیع مکۃ بل صح أنہ یعم جمیع الحرم کذا ذکرہ الحافظ فی الفتح وسکت عنہ۔ (سنن الترمذی، کتاب الصلاۃ،باب ما جاء فی أی المساجد أفضل ص:237)
ترجمہ: نبی ﷺ کا فرمان"صلاۃ فی مسجدی ھذا" ،اس کے متعلق امام نووی ؒ نے کہا کہ نمازیوں کو اس بات کا حریص ہونا چاہئے کہ وہ اسی جگہ نماز ادا کرے جو نبی ﷺ کے زمانے میں تھی نہ کہ اس جگہ جو بعد میں بڑھائی گئی ہے ، اس لئے کہ اجر میں زیادتی کا ثواب اسی مسجد کے ساتھ خاص ہے جس کی تائید لفظ ھذا سے ہوتی ہے ۔ برخلاف مکہ کی مسجد کے کہ اس میں پورا مکہ داخل ہے بلکہ صحیح یہی ہے کہ یہ پورے حرم کو عام ہے ،اس طرح حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے اور اس پہ سکوت اختیار کیا ہے ۔
شیخ صالح فوزانؒ سے سوال کیا گیا کہ کیا مکہ کے حدود حرم میں نماز کا ثواب مسجد حرام میں نماز پڑھنے کے برابر ہے ؟ تو شیخ نے جواب دیا کہ ہاں مسجد حرام میں نماز پڑھنے کے برابر ہے کیونکہ مسجدحرام ان تمام کو شامل ہے جو حدود حرم میں ہے اور حدود کے اندر داخل تمام مسجد ہیں ۔ (ویب سائٹ شیخ صالح فوزان)شیخ نے ایک دوسرے فتوی میں ذکر کیا ہے کہ ایک عورت اگر مکہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھتی ہے تو اسے اضافی ثواب ملے گا البتہ مدینہ میں اضافی ثواب صرف مسجد نبوی کے ساتھ مخصوص ہے ۔
شیخ ابن باز رحمہ اﷲ کا بھی واضح فتوی ہے کہ ایک لاکھ کا ثواب مکہ کے تمام حدود حرم کو شامل ہے ، یہی فتوی سعودی کے لجنہ دائمہ کا بھی ہے جس کی کمیٹی میں شیخ ابن باز کے علاوہ بکرابوزید، عبدالعزیز آل شیخ ، صالح فوزان اور عبداﷲ بن غدیان ہیں ۔
بات واضح ہوگئی کہ حرم میں داخل تمام مساجد میں نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے لیکن یہ دھیان رہے کہ بیت اﷲ کے شرف کی وجہ سے افضلیت اسی مسجد حرام کو ہے اس لئے آدمی حریص ہو کہ مسجد حرام میں جاکر نماز ادا کرے لیکن اگر وہاں نماز ادا کرنے سے قاصر ہو تو حدود حرم میں داخل کسی بھی مسجد میں نماز ادا کرلے ،ان شاء اﷲ مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ثواب ملے گابلکہ اگر مسجد حرام میں کبھی زیادہ ازدحام ہو تو دوسروں کو موقع دیں اور آپ حدود حرم میں واقع کسی مسجد میں نماز ادا کرلیں گرپہلے آپ نے باربار مسجد حرام میں نماز ادا کی ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqubool Ahmad

Read More Articles by Maqubool Ahmad: 303 Articles with 170202 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Aug, 2017 Views: 394

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ