سوشل میڈیا پر اخلاقی اقدار کے جنازے

(Awais Khalid, )

تاریخ کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ مسلم اُمہ کے زوال و انحطاط کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ہم نے اپنی اسلامی اقدار کو چند کھوٹے سکوں کے عوض بیچ دیا اور اپنے علم سے کما حَقہ کوئی فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ اپنے علم وذہانت اور خردکا منفی استعمال ذیادہ کیاہے۔قابل ماتم بات یہ ہے کہ ہم نے اب تک اس پسماندگی اور پستی سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔اب بھی دیکھیں تو موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں سوشل میڈیاپر جس انداز سے نوجوان نسل اپنی صلاحیتوں کا اظہار فرما رہی ہے وہ پوری دنیا میں ہماری رہی سہی عزت کو داغ دار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی۔ایک سیلاب بد تمیزی ہے جو انسانیت کی عزت،عظمت،رفعت،ساکھ اور تقدس کو پامال کر رہا ہے۔اور انسانیت کی حرمت کو اپنے ساتھ بہاتا ہواجھوٹی انا کے غلیظ سمندر میں غرق کر رہا ہے۔تو کیا ہمارے نزدیک سوشل میڈیا کا استعمال یہی ہے؟کیا ہم نے اس کی افادیت کو بس ایسے ہی سمجھا ہے؟کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ سیاسی وابستگیاں ایسا گھناؤنا روپ دھار لیں گی جہاں اشرف المخلوقات کا سر دیگر مخلوقات کے سامنے شرم سے جھک جائے گااسلامی شعار کو سر بلند کرنے والے ہی اس کے لئے شرمندگی کا باعث بنیں گے۔کہاں گئی وہ تعلیم کہ دوسروں کے عیب چھانے سے اپنے عیب چھپ جائیں گے؟کہاں گیاوہ علم کہ تصدیق کئے بنا بات کو آگے بڑھانا کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے؟کہاں گیا وہ فرمان کہ مومن کی حرمت حرمِ پاک سے بھی افضل ہے؟کہا گیا وہ حکم کہ مومن تو وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوتے ہیں؟کہاں گئی وہ تلقین کہ مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولو؟کس کی نذر ہو گئی یہ احتیاط کہ کسی مومن کو کافر کہنے والا خود کفر کے زمرے میں آ جاتا ہے؟کہاں چلی گئی وہ ہدایت کہ دوسروں کے ناموں کو مت بگاڑو،پروردگار کی ناراضی کا سبب ہے؟یہ کون سوچے گاکہ ہم جس خطرناک سمت کی طرف سفر کر رہے ہیں وہ جہالت کی گھاٹیوں سے لے جاتی ہوئی ہمیں کفر کی دلدل میں دھنسا رہی ہے؟ہم نے تو اسفلا سافلین سے نکل کر پھر احسن تقویم پہ پہنچ کر خود کو نیابت الہی کا اہل بنانا تھا مگر ہم تو اندر کی شیطانی طاقتوں کے آگے ہتھیار ڈال کر اندر کی وحشت اور ہوس کا غلام بن کر رسوائی و اِدبار کی تمام حدوں کو پار کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر اخلاقیات کی نفیس چادروں کو داغ دار کرنے والے آئی ٹی انجینیرز اور حرمت و تقدیس کے جنازے نکالنے والے مفکروں کی دانش کے سپرد بس ایک سوال ہے جو انہیں خود سے پوچھنا ہے کہ فکر عاقبت کو بھلا کر دن رات جن لوگوں کے دفاع میں جُٹے ہیں کیا انہیں جانتے بھی ہیں؟کبھی ملے بھی ہیں؟پھر ان کی صداقت، دیانت اور شرافت کی ضمانت کیونکر دے سکتے ہیں؟ہم سوچیں تو دن رات ساتھ رہنے والوں کی ذات کے کئی پہلو ہم سے عرصے بعد بھی مخفی رہتے ہیں اور ہم آگاہ نہیں ہو پاتے تو ایسے افراد جن کی زندگیاں سراپا بھید ہیں ،بعید از رسائی ہیں ،ان کی بابت حتمی رائے پر کیسے ڈٹ سکتے ہیں؟پوچھیں خود سے کہ کل بروزِ قیامت اگر ہمارے ان الفاظوں کے حوالے سے پوچھا گیا تو کیا جواب دیں گے؟کہیں زور و شور سے نام بگاڑے جا رہے ہیں تو کہیں خدا کی بنائی ہوئی بہترین تخلیق میں مضحکہ خیز ترامیم کر کے دادِ شجاعت وصول کی جا رہی ہے۔ہر بات میں جھوٹ کی آمیزش کا یہ عالم ہے کہ سچ مفقود ہو کر رہ گیا ہے۔ہر تہوار پر خواہ وہ اسلامی ہی کیوں نہ ہو، طرح طرح کے جھوٹے لطائف گھڑے جاتے ہیں ،رمضان شریف میں روزے جیسی مبارک عبادت کو بھی نہیں بخشا جاتا اور ہم سب روزوں کا مذاق اڑا تے ہیں اور اس طرح روزوں کو بہلا کر خوش ہوتے ہیں۔ایک اورغور طلب نکتہ ہے کہ جو قوم اپنے سگے بھائی کی ذرا سی دھوکہ دہی اور غلط بیانی کو برداشت نہیں کرتی وہی قوم دوسری طرف کئی دھائیوں سے ان حکمرانوں کے جاری کردہ ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانا تو درکناراُلٹا ان کے حق میں عاقبت سوز دلائل دینے کو اولین فرض سمجھتی ہے۔کیا اتنا بھی خیال نہیں کہ ان کے بنائے ہوئے غیر اخلاقی بیانات اور تصاویر ان کے اپنے بچے،بہنیں اور بیٹیاں بھی تو پڑھتی ہوں گی جو اسی سوشل میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں ۔اور تو اور پوری دنیا ہماری طرز گفتگو سے ہمارے بارے میں کیا رائے قائم کرتی ہو گی؟ کیا اتنا بھی خیال نہیں کہ مغلظات و لغویات پر مبنی جو پیغامات ہم پھیلاتے ہیں اور وہ پھیلتے ہی چلے جا رہے ہیں وہ ہمارے اُس نامہ اعمال کا حصہ بنتے جا رہے ہیں جو کل مخلوق کُل کے سامنے ہمیں تھمایا جانا ہے اور اسی کی بنیاد پر ہماری جزا و سزا کا معاملہ طے پانا ہے۔اورہم گناہِ جاریہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر ہم اپنے وطن کی عزت میں اضافہ نہیں کر سکتے تو کم از کم اس طرح ساری دنیا کے سامنے اس کی رسوائی کا سبب بھی نہ بنیں۔کیا اب ایک بھی خبر ایسی نہیں کہ جس سے ہمارے معاشرے کا کوئی مثبت پہلو اجاگر ہو کر دنیا کے سامنے آئے۔کیا ہم اپنے گھر کی خرابیاں یوں لوگوں میں بیان کرتے ہیں؟نہیں کرتے اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا اس خرابی کے متعلق جانے تو پھر یہ ملک بھی تو ہمارے گھر کی طرح ہے،ہم اس کی بدنامی کا باعث ہی کیوں بن رہے ہیں۔ہم اپنی آئندہ آنے والی نسل کو کس طرح کا ملک سونپ کر جائیں گے جہاں جو چاہے،جب چاہے جیسے چاہے کسی کی بھی عزت اچھال دے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔بدلے میں اگلا بھی یہی کام کرے،تو پھر یہ ملک جو ہم نے اپنی عزتیں بچانے کے لئے بڑی قربانیوں کے عوض حاصل کیا تھا اس کے بنانے کا مقصد تو قطعاًختم ہو گیا ۔کبھی ہم نے سوچا ہے کہ سوشل میڈیا پر مغلظات کی صورت میں ہمارے ملک کا جو تصور ابھرتا ہے وہ ملک سے باہر رہنے والے ہم وطنوں کے لئے کتنی ندامت کا باعث بنتا ہو گا،وہ غیر ملکیوں سے کیسے کیسے طعنے سنتے ہوں گے اور کس کلیجے کے ساتھ اپنے ملک کی یہ توہین برداشت کرتے ہوں گے اور اس غلاظت سے انکار بھی نہیں کر سکتے ہوں گے۔ اور پھر ہر کوئی ٹھنڈے دماغ سے سوچے اور اپنے ایمان سے بتائے کہ کیا اسے نہیں پتہ کہ ہمارے ملک میں طرزِ سیاست کیا ہے اور یہ کن مقاصد کے لئے استعمال ہو رہی ہے؟پھر بھی ہم محض اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر ان لوگوں سے خود کو وابستہ کر رہے ہیں جو صرف عوام کو جذباتی طور پر بلیک میل کر کے خود اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں۔اور ہم ایک کے ساتھ وابستہ ہونے کی وجہ سے دوسروں کی ذات پر وہ کیچڑ اچھالتے ہیں کہ الامان۔اسلام وہ مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے حق بات کا عَلم بلند کرنا بھی سکھایا اور کفر و باطل سے معرکہ آراء ہونے کے اصول و ضوابط بھی بتلائے۔کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ابو جہل و ابولہب ا ور عبداﷲ ابن ابیعی جو اسلام کے بد ترین دشمنوں میں شمار ہوتے تھے تو کیا صحابہ ؓ نے ان کی کردار کشی کی تھی یااسلامی تعلیمات کے عین مطابق اپنے حسن اخلاق سے انہیں دائرہ اسلام میں لانے کی کوششیں کی تھیں ؟تو پھر ہم کس کی روش پر ہیں؟کس کی تقلید کر رہے ہیں؟اسلام کے منافی رہ کر کیا ہم مسلمان بھی رہ پائیں گے؟حاشاوکلا۔یاد رکھیے فرمانِ حق ہے کہ جو جس سے محبت کرتا ہے کل قیامت والے دن اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا تو کہیں ہمارا انجام بھی ایسے لوگوں کے ساتھ نہ ہو جن سے محبت کے دعوے کرتے کرتے ہم ہلکان ہو رہے ہیں۔استغفراﷲ۔سیاسی وابستگی بری بات نہیں ہے لیکن شخصیت پرستی سے انسان نہ صرف غلام بن جاتا ہے بلکہ اس کی اپنی صلاحیتیں ہمیشہ کے لئے اس کے اندر دب جاتی ہیں۔سیاسی لیڈرسے ،جسے آپ پسند کرتے ہیں، محبت ضرورکریں لیکن اس محبت میں صحت مندتنقید کی گنجایش ضرور رکھیں ،اس سے آپ کے با ضمیر ہونے کا پتہ چلے گا۔اب وقت ہے کہ ہمیں اپنے مقام اور منصب کو پہچاننا ہو گا۔ہمیں چاہیے کہ اسلام کے وقار کو مجروح کرنے کا سبب نہ بنیں بلکہ اس کی سر بلندی و سرشاری کا باعث ہوں۔اسلام کی حرمت و حقانیت کو پوری دنیا پر واضح کرنے کا ذریعہ بنیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Awais Khalid

Read More Articles by Awais Khalid: 31 Articles with 13645 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Aug, 2017 Views: 464

Comments

آپ کی رائے