مسلمان مظلوم کیوں؟

(Prof Akbar Hashmi, Rawalpindi)

میں نے سنا اور پڑھا کہ برصغیر پر قبضہ کے وقت فرنگی نے روح فرسا مظالم ڈھائے اور پھر قیام پاکستان کے وقت خونِ مسلم کی ارزانی بھی انگریز کی سرپرستی میں ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھوں ہوئی۔جبھی میں پہلی جماعت میں تھا کہ فوجی گاڑیوں میں مہاجرین کے قافلے ہمارے گاؤں تراپ ضلع اٹک میں آئے ۔ انہیں سکول میں ٹہرایا گیا۔ عورتیں بچے، ضعیف اور تھوڑے جوان مرد بھی تھے۔ بہت برے حالات میں تھے۔ پاکستان کے پاس ابھی وسائل بھی معدوم تھے۔ یہ فوج ہی تھی جو ان کا سہارا تھی۔ ہم طلبا کو اساتذہ نے گھروں میں بھیجا کہ جو کھانا موجود ہو لے آؤ وہ تو ہم لے آئے لیکن جب گاؤں میں مہاجرین کی تشریف آوری کا پتہ چلا تو خواتین نے بڑی عجلت کے ساتھ مہمانوں کے لیئے تنور جلائے اور آنا فانا پورے گاؤں سے میزبانی شروع ہوگئی۔ گاؤ ں کے لوگوں نے مہمانوں کی دلجوئی کی۔ فوجیوں نے شام کو دیگیں چڑھا چاول تیار کیئے۔دوسرے روز متروکہ مکانات انہیں دیئے گئے اور عوام نے حسبِ توفیق گھریلوسامان بھی دیا۔ہمارا گھرانہ مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے قابلِ احترام سمجھا جاتا تھا۔ مہاجر خواتین کا ہمارے گھر آنا جانا ہوا۔ ان کے بیان کردہ مصائب کے قصے سنتا تھا۔ عورتیں روتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہندواور سکھ ہمارے گھروں گھس آئے ، معصوم نوزائیدہ بچوں کو ٹانگوں سے پکڑ چیر کا پھینکا، عورتوں کے پستان کاٹے اور ناقابلِ بیان مظالم کا ذکر کیا۔قیام پاکستان کے بعد نصابی کتب میں ان مظالم کے اذکار تھے لیکن بعد میں فرنگی اور ہندو دوستی کو فروغ دینے والے حکمرانوں نے ایسے ابواب سلیبس سے نکال دیئے۔ اب کسی کتاب میں تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے وقت مشکلات کا کوئی ذکر نہیں۔ ہو بھی کیسے فرنگی کا ملک برطانیہ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی آغوشِ راحت ہے، ان کے کاروبار،پاکستان سے لوٹی دولت برطانیہ میں، انکی اولاد کی تعلیم و تربیت برطانیہ میں انکے علاج معالجے برطانیہ کے شفاخانوں میں ہورہے ہیں۔پاکستان میں صرف اقتدار کے لیے آنا، دولت سمیٹنا، غریب عوام کا استحصال کرنا، بھارت اور دیگر دنیا کے مختلف ممالک میں حکمرانوں کے اثاثے ہیں جو درحقیقت پاکستان کے عوام کے ہیں۔ صلیبیوں نے صدیوں پرانی ناکام کوششوں کو پہلی جنگ عظیم میں بارآور کرلیا کہ خلافت اسلامیہ جس کا مرکز ترکی تھا ختم کردی، تمام مسلم علاقے جو متحد تھے اور خلافت کا سکہ وہاں چلتا تھا ان پر قبضہ کرلیا۔ ایک وہ وقت بھی تھا کہ کوئی غیر مسلم مسلمان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات بھی نہیں کرتا تھا ۔ مصطفٰے کمال نامی صلیبی ایجنٹ نے ترکی سے اسلامی قانون ختم کیا، خلافت ختم کی، آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی کو معزول کرکے ملک بدر کیا، زبردستی خواتین کے سروں سے برقعے اتارے، عورتوں کو نیم برہنہ لبا س دیا، اس نے حکم دیا کہ نماز اور اذان ترکی زبان میں پڑھی جائے لیکن اس میں اسے ناکامی ہوئی۔ اس نے اپنے ہی رفقا کو پھانسی پر لٹکایا۔ آخر مرگیالیکن عوام کے دلوں سے اسلام و ایمان کی دولت غصب نہ کرسکا۔ بالآخر یہ محبت رنگ لائی اور آ ج ترکی میں صدر اردگان رسول اﷲ ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ عنہ کی اولاد سے ہیں۔ وہ خلیفہ اسلام ہیں، انہیں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے منظوری حاصل ہے کہ انکے خلاف مسلح شرانگیزی کی گئی مگر عوام سڑکوں پر اس انداز میں نکلی کہ فوجی انقلاب بری طرح ناکا م ہوا۔ لیکن صلیبیوں کی منصوبہ بند ی سے خلافت کے جوعلاقے اتحادیوں نے آزاد کیئے انہیں خود مختار علیحدہ ریاستوں کا وجود تسلیم کیا گیا۔ جو پہلے اسلامی ریاست کے صوبے تھے وہ ملک بن گئے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ صلیبیوں نے جہاں مسلمانوں کو طاقتور ہوتے دیکھا وہاں حملہ کردیا۔ جیسا کہ افغانستان اور عراق پر حملے شاہد ہیں، کشمیر صلیبیوں کی سرپرستی میں ہندو مظالم کا شکار ہے۔ خلیفہ اسلام سے کفار خائف ہوتے تھے اور اسلامی ریاست کے کسی علاقے کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھتے تھے لیکن خلافت کے خاتمہ کے بعداور ڈیڑھ ڈیڑھ انچ مسجدیں بن جانے سے صلیبیوں یعنی امریکہ برطانیہ اور انکے اتحادیوں کا کام آسان ہوگیا۔ کفار کے عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیئے ایک اسلامی اتحاد OIC کے نام سے وجود میں آیا۔ اسکے منشور میں جو کچھ تھا اس پر رتی برابر عمل نہیں کیا گیا۔ گویا کہ مسلم اتحاد کے لیئے جو سوچا گیا تھا وہ اتحاد میں شامل امریکی ایجیٹی کرنے والے پورا نہیں کرنے دے رہے۔ یہود، ہنود اور نصاریٰ کے ساتھ سرکردہ ممالک کے حکمرانوں کے گہرے مراسم ہیں جن میں پاکستان اور سعودی عرب سرفہرست ہیں۔ اس صورتِ حال میں مسلم امہ کو شدید نقصان پہنچا،انکی معیشت پر صلیبیوں کا قبضہ ہے، انکے اتحاد میں رکاوٹیں ہیں۔ کشمیر میں ہونے والے مسلم قتل عام کو تو میں بڑے عرصے سے دیکھ رہاہوں۔ لیکن اب جو برما میں مسلمانوں پر ہونے والی درندگی کو دیکھا تو دیکھ نہ سکا نظر ہٹانی پڑی۔ ہم تو کسی غیر مسلم پر بھی ایسے وحشیانہ طریقے سے قتل عام کوبرداشت نہیں کرسکتے چہ جائیکہ اپنے مسلمانوں پر ہوتے مظالم کو دیکھیں۔ ایک جوان کے پاؤں ٹوکے سے جدا کررہے ہیں اور دوسر ا خبیث اسکے پیٹ پر آری چلارہا ہے تیسرا حرامی نسل خبیث معصوم مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے، معصوم بچوں کے سر بھکشو خبیث کاٹ کر پھینکتے ہیں۔ کئی لاکھ ربدر ہو گئے کتنے شہید ہوگئے۔بدھ مت کے ماننے والے خبیثوں نے پہلے ہی مسلمانوں کی معاشی حالت تباہ کر رکھی ہے۔ صلیبیوں نے اس اسلام دشمنی کے صلہ میں وہاں کی وزیراعظم ظالمہ خبیثہ کو نوبیل پرائیز سے عزت دی۔ اب دیکھیئے کہ مسلمانوں کا کیا حال ہے؟ پاکستان کے ٹی وی چینلز برمی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر پردہ ڈالے ہوئے تھے لیکن عوامی ردِ عمل کے پیشِ نظر کچھ چینل مکمل طور پر اور کچھ جزوی طور پر مظالم اور وحشیانہ کردار دکھا رہے ہیں۔ اسلامی ممالک میں سب سے پہلے ترکی کے صدر نے خلیفۃ الاسلام ہونے کا حق ادا فرمایا اور برمی مسلمانوں کے حق میں عملی اقدامات کیئے اور فوج کشی کا اعلان فرمایا۔ ترکی کی تقلید کرتے ہوئے مملکت اسلامیہ ایران کے صدر نے برمی مسلمانوں کی حمائت میں بیان دیا اور افواج کو تیار رہنے کا حکم دیدیا۔ پاکستان کے عوام کے شدید دباؤ کی وجہ سے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے برمی مسلمانوں کے حق میں بیان دیا۔ یہاں ضرورت اس امر کی تھی کہ پاکستان فوری طور پر برما سے سفارتی تعلقات منقطع کرتا اور اسکے سفیر کو یہاں سے چلتا کرتا۔ لیکن سوائے مالدیپ کے کسی نے برما کے ساتھ تعلقات نہیں توڑے۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ مسلمان ملکوں کی بڑی بڑی فوجیں، اسلحہ اور ایٹمی ہتھیا ر کن مقاصد کے لیئے ہیں؟ مسلمان ممالک کے لیئے برما پر حملہ بڑا آسان ہے کہ اس کی حمائت میں پوری دنیا سے ایک آواز بھی نہیں اٹھے گی۔ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے کہ : ومالکم لا تقاتلون فی سبیل اﷲ والمستضعفین من الرجال والنساء والولدان الذین یقولون ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃالظالم اھلھاواجعل لنا من الدنک ولیا وجعلنا من الدنک نصیرا۔ اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اﷲ کی راہ میں نہ لڑوکمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے کہ یہ دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب نکال ہمیں ظالموں کی اس بستی سے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمائتی دے اوراور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مدد گار دے دے۔تو اس آئت کے مصداق دنیا کے تمام مسلمانوں پر برما کے مسلمانوں کی حمائت میں جہاد فرض ہوچکا ہے۔

مشرقی پاکستان کی وزیراعظم کہتی ہے کہ ہمیں برمی مسلمانوں سے کیا تعلق ؟ اگر اس نے قرآن پڑھا ہوتا اور اسکے اندر اسلام کی روح ہوتی تو کبھی بھی ایسے کلمات استعمال نہ کرتی کیونکہ نظریاتی حدود میں سب مسلمان ایک جسم ہیں۔ حضور سیدالعالمین ﷺ نے جو دوقومی نظریہ دیا اسکے مطابق کلمہ طیبہ پر ایمان رکھنے والے ایک قوم اور اسکے منکر ایک قوم۔ یعنی مسلمان اور غیرمسلم دو علیحدہ علیحدہ قومیں ہیں۔ قوم کی تشکیل خطہ ارضی، رنگ و نسل یا زبان کی بنیاد پر نہیں ۔ اس فارمولے پر اکابرین اسلام نے پاکستان کا مطالبہ کیاتھا۔ برصغیر میں فساد کا بیج انگریز نے بویا۔ بھارت میں متعصب ہندومسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں، کشمیر ستر سال سے مسلمانوں کی قربان گاہ بنا ہوا ہے، برما میں مسلمان پچاس سال سے بہیمیت اور بربریت کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ اب مسلمان اس نظریئے پر جمع ہوجائیں کہ ہرملک ملک ما است کہ ہر ملک خدائے مااسست۔ قرآن کے نظریئے کے مطابق پوری دنیا پر اﷲ کے دین کا غلبہ ہو۔ ضروری نہیں کہ تمام کفار کو بزورِ طاقت مسلمان کیا جائے، بات تو صرف کفر کی طاقت کو مٹانا ہے، کافروں کو مٹانا نہیں۔ اسلام امن کا دین ہے اور قیام امن بغیر طاقت و قوت کے قائم نہیں ہوسکتا۔ اس لیئے اسلامی ممالک متحدہ قوت استعمال کرتے ہوئے برما کو آزاد کرائیں، پھر کشمیر کو اور اسی طرح مسلمان ممالک سے صلیبیوں کو نکالیں۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی قوت توڑیں ۔ صلح جوشریف غیرمسلموں کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھیں جن میں چین سر فہرست ہے۔ خلافت میں مسلمانوں کی زندگی ہے اس بارے بھی انشااﷲ تحریر کرونگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AKBAR HUSAIN HASHMI

Read More Articles by AKBAR HUSAIN HASHMI: 146 Articles with 82035 views »
BELONG TO HASHMI FAMILY.. View More
08 Sep, 2017 Views: 511

Comments

آپ کی رائے