اگر مجھے ہلاکت سے بچنا ہے تو

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
لوگ اللہ کے شکر گزار اور اللہ کے دین دین حق کے وفادار ہوتے ہیں اور سچّے اور ایمان دار مسلمان ہوتے ہیں ان کی باتوں سے بے بسی اور مایوسی کا شکار ہو کر گمراہی کے راستے پر چلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور اسلام سے بدظن ہوجاتے ہیں یہ انسانوں کی فطری کمزوریاں ہیں کہ جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ میرے لیے رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں تنقید ہے بے عزّتی ہے محرومیت ہے اور جو لوگ برے اور غلط ہیں اور سب جانتے ہیں کہ یہ شخص منافق ہے برا ہے بے ایمان ہے پھر بھی ان کی ہر سطح پر عزّت اور پذیرائی ہے حالانکہ یہ لوگ سر عام اسلام کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں تو مایوسی لازمی طور پر اہل ایمان پر طاری ہوجاتی ہے اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے مرتد اور غدّار اور اسلام پر طعنہ زنی کرنے والوں کو اور مجاہدین کے حوصلے پست کرنے والوں کو جرم ثابت ہو جانے پر قتل کرنے کا حکم دے رکھا ہے جو لوگ ایسے لوگوں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ خیر خواہی کے نام پر حمایت کے نام پر جو منہ میں آئے کہتے پھریں ایسے لوگ اللہ کے نافرمان اور ناشکر گزار اور منافق اور مشرک ہوتے ہیں اور وہ جتنا مرضی عملی طور پر مسلمانوں کی ترقّی اور خوشحالی کے کام کرتے پھریں اور فلاح و بہبود اور ٹرسٹ اور ہیلتھ کئر کے کام کرتے پھریں وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ اس کا سارا کریڈٹ دین دشمن لوگوں کو دے دیتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے اور اشرف المخلوقات بنایا ہے اور پھر انسانوں پر لازم کیا ہے کہ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ عبادت کے لائق صرف اور صرف اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے سب انسان اس بات کا دن رات صبح شام ہر ساعت اس بات کا اقرار کرتےرہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے جس نے ہمیں اس دنیا میں انسان بنا کر بھیجا ہے اور ہمیں طرح طرح کی بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں ہمیں ماں باپ بہن بھائی بیوی بچّے عزیز رشتےدار گھر کاروبار آزادی تندرستی عزّت مال گھیتیاں باغات عطا فرمائے ہیں اور کھانے کو طرح طرح کے کھانے سبزیاں پھل گوشت گندم چاول اور پینے کو مشروبات دودھ شہد ٹھنڈا اور میٹھا شفاف پانی جوس اور طرح طرح کی بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں اللہ کا کو یاد کریں اور اس کا ذکر کریں اور سب سے زیادہ اللہ سے محبّت کریں اللہ کو عبادت کے لائق جانیں اور جو کافروں اور بے دین مشرکوں نے دوسرے معبود بنا رکھے ہیں اور ان کو اللہ رب العزّت کا شریک بناتے ہیں ان کا طرزعمل نا اپنائیں ان کی پیروی نا کریں ان کو اپنا رہنما نا بنائیں ان کو کبھی بھی اپنا دوست نابنائیں اور نا ان کی دشمنی اور ناپاک سازشوں سے بے خبر رہیں حتّٰی کہ وہ ایمان لے آئیں اور اسلام میں داخل ہو جائیں اور یہ یقین دہانی نا کرا دیں کہ ہم اب ہداہت کے راستے کو دل سے قبول کر چکے ہیں یعنی اپنے کردار سے یہ ثابت کریں کہ ہم منافق اور غدّار نہیں ہیں اور اللہ کے دین کو دین حق مانتے ہیں اور تن من دھن سے دین حق کے وفادار ہیں -

جو لوگ ظاہری طور پر یہ جتائیں کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلام اور اہل اسلام کے وفادار اور خیر خواہ ہیں سارے کے سارے دین حق کو دل سے تسلیم کر چکے مگر ان کا طرزعمل اور کردار بلکل دین حق کے مخالف اور دشمنی اور نفرت سے بھر پور ہوتا ہے ایسے لوگوں کو منافق کہا جاتا ہے ایسے لوگوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے یعنی ان کو اپنے مال جان عزّت کا نگہبان نہیں بنانا چاہیے اس بات کو لازمی طور پرمدّ نظر رکھنا چاہئے کہ ایسے لوگ کبھی بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں ناہی اپنی قیمتی چیزیں ان کے حوالے کرنی چاہئیں نا ہی ایسے لوگوں کو اسلامی ریاست کے لکھت پڑھت کے معاملات میں شامل کرنا چاہیے اورنا ہی مسلمانوں کے معاملات کے فیصلے کرنے کا اختیار ایسے لوگوں کو دینا چاہیئے اور جو لوگ ایسے لوگوں کی طرف داری کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں سے بہتر ہیں وہ خیر خواہ ہیں عقلمند ہیں طاقت ور ہیں اور ہر طرح اہلیّت اور قابلیت کے حامل ہیں ایسے لوگوں کو بھی انہیں لوگوں میں شمار کرنا چاہیے اور اسلامی مفادات اور ریاستی ترقّی اور خوشحالی اور فلاح وبہبود کے بارے میں بھی ایسے لوگوں کو زبان درازی کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ یوں کریں تو بہتر ہوگا یوں کیا تو برا ہوا اور یوں ایسے معاملات کو درست کیا جا سکتا ہے یہ پالیسیاں اپنانی چاہئیں اگر ایسے لوگوں کو کھل کھیلنے اور اور زبان درازی کرنے کی اجزت دے دی جائے تو ناصرف اللہ پاک کی اور پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی
ہوتی ہے-

بلکہ ایسے ایسے برے نتائج نکلتے ہیں کہ امت مسلمہ میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور جو لوگ اللہ کے شکر گزار اور اللہ کے دین دین حق کے وفادار ہوتے ہیں اور سچّے اور ایمان دار مسلمان ہوتے ہیں ان کی باتوں سے بے بسی اور مایوسی کا شکار ہو کر گمراہی کے راستے پر چلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور اسلام سے بدظن ہوجاتے ہیں یہ انسانوں کی فطری کمزوریاں ہیں کہ جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ میرے لیے رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں تنقید ہے بے عزّتی ہے محرومیت ہے اور جو لوگ برے اور غلط ہیں اور سب جانتے ہیں کہ یہ شخص منافق ہے برا ہے بے ایمان ہے پھر بھی ان کی ہر سطح پر عزّت اور پذیرائی ہے حالانکہ یہ لوگ سر عام اسلام کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں تو مایوسی لازمی طور پر اہل ایمان پر طاری ہوجاتی ہے اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے مرتد اور غدّار اور اسلام پر طعنہ زنی کرنے والوں کو اور مجاہدین کے حوصلے پست کرنے والوں کو جرم ثابت ہو جانے پر قتل کرنے کا حکم دے رکھا ہے جو لوگ ایسے لوگوں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ خیر خواہی کے نام پر حمایت کے نام پر جو منہ میں آئے کہتے پھریں ایسے لوگ اللہ کے نافرمان اور ناشکر گزار اور منافق اور مشرک ہوتے ہیں اور وہ جتنا مرضی عملی طور پر مسلمانوں کی ترقّی اور خوشحالی کے کام کرتے پھریں اور فلاح و بہبود اور ٹرسٹ اور ہیلتھ کئر کے کام کرتے پھریں وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ اس کا سارا کریڈٹ دین دشمن لوگوں کو دے دیتے ہیں-

تو اگر مجھے ہلاکت سے بچنا ہے تو اپنے رب کو پہچاننا ہوگا معرفت حاصل کرنی ہوگی اور اللہ مسلمانوں کا رب ہے جو تمام جہانوں کارب ہے پروردگار عالم ہے مشکل کشا ہے حاجت روا ہے بگڑیاں بنانے والا ہے فریادیوں کی فریادیں سننے والا ہے لج پال ہے مصیبتوں اور بیماریوں سے نجات دینے والا ہے سورنا پکارنا نذر نیاز دینا عبادت کرنا توکّل کرنا عاجزی و انکساری کرنا صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے زبانی بدنی اور مالی عبادتیں اور تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرنا سب اللہ رب العزّت کے لیے ہے کسی بھی قسم کی عبادت اللہ کے علاوہ کسی دوسری ہستی کے لیے ہر گز نہیں ہے اللہ کے علاوہ کوئی بھی ہستی عبادت کے لائق نہیں ہے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جی جان سے تگ ودو کرنی چاہئے اور اللہ کے غضب اور غصّہ سے بچنے کے لیے ہر وقت فکر مند رہنا چاہئے یہ بھی عبادت میں شامل ہے اس لیے اللہ سے بڑھ کر کسی دوسری ہستی کی خوشنودی حاصل کرنے کا عقیدہ نہیں رکھنا چاہئے اور اللہ سے بڑھ کر کسی دوسری ہستی کے غضب غصّہ اور ناراض ہوجانے سے ڈرنا بھی نہیں چاہئے یہ معاملات بھی شرک میں شامل ہیں بہت سارے لوگ یہ باتیں کرتے ہیں کہ کسی بڑے افسر کے پاس جانا ہو کہ میرا فلاں مسئلہ حل کردیجیے فلاں معاملے میں آپکی مدد درکار ہے آپ کی بس زبان ہلے گی اور میرا کام بن جائے گا تو افسر کو ملنے کے لیے پہلے چپراسی سے دعا سلام کرنی ضروری ہوتی ہے-

پھر کلرک کو راضی کرنا پڑتا ہے اگر وہ چپراسی کلرک اور دوسرے اس کے مشیر سیکرٹری کو راضی کرنا ہوگا ان کو اگر ہم ناراض کر لیں گے یا ان کو غیر اہم سمجھیں گے تو ہم افسر سے ملاقات کرنے میں ہی کامیاب نہیں ہو سکیں گے اور جب ملاقات نہیں کر سکیں گے تو اپنا معاملہ کیسے کرا سکیں گے اور ہمیں ناکام ہونا پڑے گا اسی طرح اللہ کو اگر راضی کرنا ہو گا تو پہلے اللہ کے اولیاء کو راضی کرنا ضروری ہے غوث قطب ابدال قلندر اتقیاء اولیا ء کو پہلے راضی کریں گے تو اللہ پاک ہماری سنے گا ہماری ان کے آگے اور ان کی اللہ پاک کے آگے جیسا کہ مشرکین مکّہ سے جب اللہ کے رسوال صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے کہ تم اللہ کے ساتھ ان ہستیوں کو کیوں شریک بناتے ہو جن کے بت تم لوگوں نے بیت اللہ میں سجا رکھّے ہیں اور جن کو تم نے گھروں میں آویزاں کر رکھّا ہے آستانوں پر نصب کر رکھّا ہے تو مشرکین مکّہ آگے سے یہ جواب دیتے تھے کہ ہم ان ہستیوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ تاکہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں یہ ہمارا وسیلہ بن جائیں ہماری ان کے آگے اور ان کی اللہ کے آگے ہم گناہ گار ہیں ہم براہ راست اللہ کو پکارنے کے قابل نہیں ہیں ہم ان کو اپنے دکھڑے سنا لیتے ہیں تاکہ یہ ہمارے لیے اللہ سے بخشش طلب کریں اور ہمارے لیے اللہ سے سفارش کریں اور اللہ نے ان کو بھی جو طاقتیں دے رکھی ہیں اور اختیارات دے رکھّٰے ہیں ان کو بروئے کار لاکر ہماری بگڑیاں بنا دین ہمارے نصیب سنوار دیں یہ باتیں بھی قرآن و حدیث کے مطابق شرک میں شامل ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اگر ہم پیارے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مشکل کشا حاجت روا مختارکل اور غیب دان بھی نہیں کہہ سکتے تو ہمارا کلمہ ہمارا اسلام کس کام کا اور جو کوئی بھی ان کو ان اوصاف کے مالک نہیں مانتا وہ مسلمان کہلانے کا حق دار ہی نہیں ہے -

بلکہ وہ گستاخ رسول اور واجب القتل ہیں یہ سراسر سیکولر بے دین لوگوں کی سازش ہے جو بکاو علماء کو خرید لیتے ہیں جن میں طاہر القادری رضا ثاقب اور کوکب رضوی جیسے علماء سر فہرست ہیں یہ سب سیاست دانوں کی سازش ہے اپنی سیاست چمکانے کے لیے اور سیاست دانوں کو امریکہ برطانیہ اور بڑی طاقتوں سے لاکھوں کروڑوں ڈالر ملتے ہیں جس سے وہ ملک اور قوم کے مفادات کو بیچ ڈالتے ہیں اور میرے سامنے ایسے بہت سارے لوگوں نے اعتراف جرم بھی کیا ہے اور میں ان باتوں کو کوڈ کراتا ہی رہتا ہوں مگر نتیجہ یہ ہی سامنے آ تا ہے کہ اتنے بڑے بڑے مذہبی اور سیاسی راہنما اگر یہ کام کر رہے ہیں تو ہمیں بھی ان کی پیروی میں دولت مند بننے کے لیے بک جانا چاہئے ہم اتنے عرصے سے بے وقوفوں کی طرح پارسائی اور پر ہیزگاری اختیار کیے ہوئے ہیں اگر اتنی بڑی بڑی اتھارٹیاں اور سیلیبریٹیاں اور وی آئی پی ہستیاں یہ کام کرتے ہیں تو ظاہر ہے ہم تو گنہگار لوگ ہیں ہم بھی ان کی طرح مال دار بننے سے پیچھے کیوں رہیں اور مال دار بن کر بعد میں پھر توبہ کرلیں گے اللہ بڑا غفور الرحیم ہے تو بجائے اس کے کہ ان بڑے بڑے مگر مچھّوں کو گرفتار کرکے ان کو اللہ کے حکم کے مطابق سزائیں دی جاتیں دوسرے لوگ بھی اور افسران اور اعلٰی عہدے داران بھی ان کے غلط راستے کو اختیار کر لیتے ہیں ہمیں ہلاکت سے بچنا ہے تو ان تمام برائیوں کو روکنا ہوگا اور اسلام کا نفاذ کرنا ہوگا اور تمام کبیرہ گناہوں جرائم قرار دے کر ان کا ارتقاب کرنے والوں کو سزائیں دینی ہوں گی-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 82790 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2017 Views: 228

Comments

آپ کی رائے