مسلمانیت اور انسانیت میں تعلق

(Muhammad Mazhar Rasheed, Okara)

مذہب اسلام کے ماننے والوں کو مسلمان کہا جاتا ہے اور اسلام دو باتون پر زور دیتا ہے ایک حقوق اﷲ اور دوسری حقوق العباد۔ حقوق اﷲ کا تعلق عبادات سے ہے اور حقوق العباد کا تعلق انسانیت سے۔تو اس سے پتہ چلا کہ مسلمان بننے کیلیے عبادات اور انسانیت دونوں پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے۔اگر ان میں سے کوئی ایک بھی رہ جائے تو مکمل مسلمان نہیں بنا جا سکتا۔ آج کسی نہ کسی طرح ہم حقوق اﷲ کو تو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر حقوق العباد کو نظرانداز کر رہے ہیں اور یہ بڑے افسوس کی بات ہے کیونکہ حقوق اﷲ کا تعلق تو اس ہستی سے ہے جو ہماری خالق اور مالک بھی ہے اور غفورالرحیم بھی اور ہمیں اس کی رحمت سے مایوس بھی نہیں ہونا چاہیئے اس لیے اگر حقوق اﷲ کے پورا کرنے میں کوئی خامی رہ بھی جاتی ہے تو معافی مل سکتی ہے مگر حقوق العباد کا تعلق خالق کی اس مخلوق سے ہے جس سے وہ ستر ماوْں سے زیادہ پیار کرتا ہے اور ہمیں بھی یہی حکم دیا ہے کہ حقوق العباد کے معاملے میں محتاط رہو اور اس میں اس وقت تک معافی نہیں مل سکتی جب تک جسے تکلیف دی گئی ہے وہ معاف نہ کر دے۔ اس سے ہمیں حقوق العباد کی اہمیت کا اندازہ ہو جانا چاہیئے جن کو ہم نظرانداز کر رہے ہیں۔

اگر ہم عبادات کو انسانیت سے الگ سمجھ رہے ہیں تو ہمیں فتح مکہ کا واقعہ یاد کر لینا چاہیئے جب آپﷺ نے پوچھا ًلوگو ! تمھیں معلوم ہے کہ میں آج تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں،کیا بدلہ لینے والا ہوں؟ ًتو لوگوں نے کہا کہ آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔ تب آپﷺ نے فرمایا کہ آج میں تم سے وہ بات کہنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے میرے بھائی یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی کہ آج کے دن تمھارے لیے کوئی سزا نھیں۔اور یہ انسانیت کا صرف ایک پہلو تھاجسے رحم دلی کہا جاتا ہے۔اگر ہم اس کی مزید گہرائی میں جائیں تو پتہ چلے گا کہ رب العالمین کو محبوب ہی وہی ذات ہے جو انسانوں کیلیے باعث رحمت ہے۔انسانوں کو چھوڑ کر خالی عبادات کرنے والے عام طور پر کہیں نہ کہیں بھٹک جاتے ہیں۔انسانیت میں عام طور پر وہی باتیں آتی ہیں جنہیں ہم اخلاقی ذمہ داری کا نام دیتے ہیں اور اخلاقیات انسانیت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ کوئی بھی کام ہم اخلاقی ذمہ داری سمجھ کر کریں گے وہ انسانیت کے زمرے میں ہی آئے گا۔

اخلاقیات کو سمجھنا آسان کام نہیں ہے ہو سکتا ہے ہم ایک کام اخلاقی ذمہ داری سمجھ کر کریں مگر دوسری طرف وہ اخلاقیات سے باہر نکل جائے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی آپ کو کہتا ہے کہ دعا کر دیں میرے بیٹے کو عدالت سے معافی مل جائے اور آپ اخلاقی طور پر دعا کر دیں تو دوسری طرف اس کے بیٹے نے جس کا قتل کیا ہو اس کے ساتھ ناانصافی ہو جائے تو یہ بد اخلاقی کے زمرے میں آئے گا۔ اس لیے انسانیت اور اخلاقیات میں ان باتوں کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے کہ اچھائی کرتے کرتے ہم کسی دوسرے کے ساتھ زیادتی کر بیٹھیں۔ بہر حال اخلاقیات میں بالعموم بنیادی اصول کچھ اس طرح ہیں کہ لوگوں کی خدمت کرنا، جھوٹ نہ بولنا، گالی گلوچ نہ کرنا، ماں باپ کی نافرمانی نہ کرنا، بزگوں کا احترام کرنا،بے ایمانی نہ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، بے سہاراکا سہارا بننا، اکڑ کر نہ چلنا، گفتگو میں نرمی اختیار کرنا، ہوس پرستی اور زر پرستی سے بچنا، کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے دنیا میں فساد برپا ہو، کسی انسان سے ایسا سلوک نہ کرنا جو ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ساتھ ہو، یعنی وہ سب باتیں جو انسانیت کی بھلائی کے لیے ہوں اخلاقیات کے زمرے میں آتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں آج بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہم ہر جگہ اپنے حقوق کی بات تو کرتے ہیں مگر فرائض سے دور رہتے ہیں اور دوسروں کو فرائض تو یاد کرواتے ہیں مگر ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جس میں اپنے حق کے مطابق آپ اپنا معاوضہ حاصل کریں اور دوسروں کو ان کے حق کے مطابق ان کا معاوضہ ادا کریں تب ہی معاشرے میں توازن آ سکتا ہے اور معاشرے کی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشرتی برائیوں کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے۔جب تک ہم اپنے حقوق اور دوسروں کے فرائض کی بات کرتے رہیں گے تب تک نہ تو معاشرے میں توازن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہم معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

جس طرح ہر معاشرے، قوم اور ملک کو چلانے کے لیے کچھ قوانین موجود ہیں اسی طرح اﷲ تعالی نے بھی ہمیں کچھ قوانین دیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر ہمارے بنائے ہوئے قوانین اور اﷲ تعالی کے قوانین میں بہت فرق ہے۔ ہمارے بنائے ہوئے قوانین اکثر ناقص ہیں لیکن اﷲ تعالی کے قوانین کے بارے میں ایسا سوچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہمارے قوانین میں تنہائی کے جرائم جرائم ہی نہیں ہوتے کیونکہ ثبوت کے بغیر ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں کہ ہم کسی کو مجرم قرار دے سکیں۔ہمارے قوانین کے مطابق مجرم وہ ہو گا جو قانون کی زد میں آئے گااور جو قانون کی نظر سے بچا رہے گا وہ مجرم نہیں چاہے اس نے کتنا ہی بڑا جرم کیا ہوبلکہ وہ معاشرے کا مہذب شہری کہلاتا ہے۔مگر اﷲ تعالی کے قوانین میں گنہگار گنہگار ہی رہے گا چاہے وہ جتنی بھی تنہائی میں گناہ کر لے اور لوگوں میں نیکوکار ہی مشہور کیوں نہ ہو۔تو اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ دنیاوی قانون کی خلاف ورزی کرنے والامجرم کہلائے گا اور اﷲ تعالی کے قوانین سے روگردانی کرنے والاگناہ گار کہلائے گااور مجرم تو سزا سے بچ سکتا ہے لیکن گنہگار کبھی نہیں بچ پائے گا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہمارے فرائض میں عبادات اور انسانیت دونوں باتیں بہت اہم ہیں اور ہم دونوں پر عمل کرنے کے پابند ہیں اگر کسی ایک کو بھی اپنانے سے انکار کریں گے تو مسلمانیت کے دائرے سے باہر ہو جائیں گے۔

اسلامی تعلیمات نے یہ درس نہیں دیا کہ ہم دنیاوی ذمہ داریاں چھوڑ کر جنگلوں میں چلے جائیں اور صرف عبادات تک محدودہو جائیں، یہ رہبانیت ہے جو کہ منع ہے اور اسی طرح نہ ہی یہ درس دیا کہ ہم عبادات چھوڑ کر صرف دنیا کے ہو جائیں یہ بھی توایک طرح سے رعبانیت ہی ہے کیونکہ رہبانیت کا مطلب ہی یہی ہے کہ ہم سب کچھ چھوڑ کر کسی ایک کام کے لیے مختص ہو جائیں۔ تو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہم دنیاوی ذمہ داریاں بھی پوری کریں اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پیش ہو کر ان نعمتوں کا شکر بھی ادا کریں جو اس نے ہمیں دی ہیں۔بلکہ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز بنائی ہی انسان کیلیے گئی ہے اور ان کو استعمال کرنے کیلیے اﷲ تعالی نے انسان کو عقل سے بھی نوازا اور بنیادی اصول بھی بتا دیے تاکہ حلال اور حرام میں تمیز کی جا سکے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی عقل اور علم کو استعمال کر کے دنیااور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Mazhar Rasheed

Read More Articles by Muhammad Mazhar Rasheed: 129 Articles with 66468 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2017 Views: 523

Comments

آپ کی رائے