ریسرچ یا ڈپریشن ؟؟؟

(Kulsoom Jan, )

ریسرچ جو دنیا میں مقبول ہوتا ہوا ایک سبجیکٹ جِسکا تعلق تفصیلی مُطالعہ سے ہے، جو کے انسان کی ،خاص طور پر طلباء جو کسی بھی شُعبٙہ سے وٙابستہ ہوں اُسکے لئے نہایت ضروری سمجھا جاتا ہے۔ چُونکے ایک تعلیمِ یا فتہ اور عا م انسان میں بہت فرق ہے اور یہ فرق اُسکی سُوچ سے آتی ہے، لِہذٰا جو انسان سوچ رکہتا ہے وہ تحقیق کرنے پھر یقین رکہتا ہے ۔ ریسرچ منظم تحقیقات کی بنیاد کو اُبھار تہی ہے (systematic investigation) جو آپکی سوچ کی اِقتدام کو حٰتمیِ اور حقیقی شکل دے تھی ہے ۔ ریسرچ کا وٙاحد مقصد کسی سوچ کو کارآمد اور مددگار بنا نا ۔ دنیا میں جِتنی ا یجادات ابھی تک ہوپائی ہیں اورجو ہو رہی ہیں وہ صرف ریسرچ کے بٙدولت ممکن ہو پاہی ہیں، بات کینسر کے حلاج کی ہو یا ذیابیطس ویکسینیشن کی ،ایٹم بُم سے لے کر راکٹ کا سفر یا دنیا میں مقبول ہوتا ہوا عِلم الخلق کے رو سے تراش خراش کر کے احیوانی جسم کی ساخت ( genetically modified organisms)، انکے علاوہ اگر بات کی جاۓ تو ہم اِپنے تاریخ کو پڑھنے کے قبل بھی صرف ریسرچ کے بدولت ہو پاۓ ہیں۔ دوسرے بڑھئے مُمالک جہاں ریسرچ کو تفریحی مشغلہ کے طور پر لیا جاتا ہے اور وہاں بچے کو پرائمری سیکشن سے لے کر اسکول تک ہر لِحاظ سے تیار کیا جاتا ہیں!! بچے کو مختلف پروجیکٹ دئے جاتےہیں, اُنکے آئیڈیاز(ideas) کو اہمیت دی جاتی ہیں اور اُنہیں سُنا سٙمجھا جاتا ہیں ۔چونکے ہم پاکستان کے تعلیمِ نِظام سے بھی واقف ہے جہاں ریسرچ کے نام پر بچے کو ڈپریشن دیا جاتا ہے، جہاں بچے سے نٙہ اُسکا Interest پوچھا جاتا ہے نہ وہ سوال کرسکتا ہے!!!!

بس بھئیا material جمع کرو پہلے، چٙلو جِی وہ بھی کرلیا اب کیا کرےسٙرجی؟؟؟اب کیا کام کرو ؟؟ بس مجھ سے نہ پوچھوں!

سٹوڈنٹس پہلے سے بدنام کے وہ خود مطالعہ نہیں کرتے!!لہذٰا اِیسے صورتحال میں سٹوڈنٹس پر اور زیادہ الزام تراشی کی بر سات شروع ہوجاتی ہیں ۔

اب اِنکہوں کون سمجھاہے کے جہاں "ریسرچ" نام سے سٹوڈنٹس کا دُور دُور تک کوئی حٙال اِحوال نہیں وہ کیسے اور کہا تک مطالعہ کر پاۓ گا!! بٙچہ جیسے تیسے کرکے کام کرلے تھا ہے لیکن ذہنی طور پر ریسرچ سے اور خود کی سوچ سے کافی دُور چلا جاتا ہیں ۔ اٙصلی مٙرحلہ تو کام کرنےکے بعد شُروع ہوتا ہے!!جہاں اٙپکو تٙجزیہ( Analysis) کا کہا جاتا ہے،عام الفاظ میں شماریات( statistics) کا استعمال، statistics بہت ضروری ہوتا ہے کسی بهی Data کے تجز یے کیلیے! اب یہ وہ باہیولوجی کا سٹوڈنٹ جو نہ کبھی ریاضی کے نصاب سے ہوکر گزرا ہے اب وہ statistic کیسے کریگا؟ وہ بھی دو یا تین مہینے کے اندر اندر ؟؟؟
لیکن ہمارے استاد یہ بهی کروا دے تھے ہیں کافی رُونے دُونے کے بعد، چُونکے میں خود ایک سٹوڈنٹ ہوں لِہذٰا میں یہ سب دِیکھ چُکی ہوں !

کچھ سٹوڈنٹس ایسےبهی پریشان نظر آتےہیں جو ریسرچ ختم ہونے کے بعد بهی جواب نہیں دے پاتے کہ آیا اُنہوں نے مِقداری تٙجز یہ (quantitative analysis ) کیاہے یا تحلیلی تجزیہ( qualitative analysis)!

ہمارے تعلیم نظام کی بدولت یہاں ریسرچ سٹوڈنٹس ذھنی اذیت کے بِھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔

سٹوڈنٹس کام کرنا چاہتے ہیں ، اُنکھے بھی کچھ واجب حق ہیں!! طلبہ طٙبقہ کیسی بھی مُلک کے روشن مُستقبل کی زمانت سٙمجھی جاتی ہیں اور یقیناً یہ دُرست بھی ہے، لہذٰا اُنکھوں وہ آزاد منطقہ (comfort zone) دیا جاۓ جہاں وہ خُود کُچھ دریافت کر سکے اور اُنکھی حوصلہ افزائی کی جاۓ نہ ہی اُنکھیں سوچ اور اُنھیں دٙبانے کی کوشش کی جاہے! ہم کیوں ابھی تک اِس نِظام کے تبدیل ہونے کا انتظار کرے رے ہیں ؟؟؟؟ واجب رہے یہ نظام بن چُکی ہیں ،اب اِس نظام کو تبدیل کرنے سے پہلے ہمیں اور ہمارے اساتذہ ساتھ ہی ساتھ انسٹیٹوٹس جو ایک مثبت رویہ رکھتے ہے سٹوڈنٹس اور ریسرچ سے متعلق۔اب ہم سب کو اِسں نظام کا حصّہ بٙننے کیلیے اِبتداہی پِیش قٙدمی دیکھانی ہوگی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kulsoom Jan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Sep, 2017 Views: 655

Comments

آپ کی رائے