’’ آزادی کپ‘‘

(Rafi Abbasi, Karachi)
غیرملکی ٹیموں کو خوف سے آزاد کرگیا، ملک میں کانٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی امید ہے

پاکستان کرکٹ ٹیم اور عالمی الیون کے درمیان آزادی کپ کا میلہ جو 12ستمبر کو قذافی اسٹیڈیم میںسجایا گیا تھا، 15ستمبر کو اپنے عروج پر پہنچ کر ختم ہوگیا۔ غیرملکی کرکٹرز ان میچوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد اپنے ملکوں کو واپس لوٹ گئے، لیکن تین ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز نے کرکٹ کے عالمی حلقوں پر ایک مثبت تاثر چھوڑاہے۔ دنیا کے وہ ممالک جو کھیلوں کے حوالے سے پاکستان کو غیر محفوظ ملک سمجھتے تھے، ان کے کھلاڑی محفوظ ماحول اور امن و امان کی فضا میں کھیلتے رہے۔ تماشائیوں کی جانب سے ان کی بھرپور پذیرائی کی گئی اور اسٹیڈیم میں بعض دل چسپ مناظر بھی دیکھنے میں آئے ۔ ورلڈ الیون کے فیلڈر بین گٹنگ، فیلڈنگ کے دوران شائقین کو اپنے رقص سے محظوظ کرتے رہے۔ ویسٹ انڈیز کے کرکٹرڈیرن سیمی جو پاکستان میں پی ایس ایل میں شرکت کی وجہ سے خاصے مقبول ہیں، ان کے ہر ایکشن پر گراؤنڈ کے ساؤنڈ سسٹم پر ستائشی انداز میں، راحت فتح علی کا ریکارڈ’’ آفرین آفرین‘‘ بجایا جاتا رہا، جس پر کھلاڑیوں کے ساتھ شائقین بھی تالیاں بجاتے رہے۔ اسٹیڈیم میں غیر ملکی تماشائیوں کا ایک گروپ پاکستان پرچم کے رنگ کی سبز چادر لپیٹے ہوئے تھا۔ بی سی پی کی طرف سے اس ٹورنامنٹ کا نام ’’آزادی کپ‘‘ رکھنے کی وجہ بھی صرف یہی تھی کہ پاکستان کے خلاف عالمی پیمانے پر دہشت گرد اور غیر محفوظ ملک ہونے کا جو پروپیگنڈہ پھیلا ہوا ہے، اس ٹورنامنٹ کی صورت میں دنیا بھر میں پاکستان کا اچھا تشخص ابھرے اور غیرملکی ٹیمیں خوف سے چھٹکارا پاکر،آزادانہ ماحول میں کھیلنے کے لیے پاکستان آئیں۔

پاکستان کے اسٹیڈیم ساڑھے آٹھ سال قبل، سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد ویران ہوگئے تھے۔3 مارچ، 2009ء کو 12 مسلح افراد نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے قافلے کی بس کو قذافی اسٹیڈیم لاہور، کے نزدیک اس وقت دہشت گردی کا نشانہ بنایا جب وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کے کھیل کے لئے قذافی اسٹیڈیم جارہے تھے۔ اس حملے میں سری لنکا کی ٹیم کے چھ ارکان زخمی جب کہ ٹیم کی حفاظت پرمامور آٹھ پولیس اہل کاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ اس سے قبل مئی 2002ء میں نیوزی لینڈ نے اپنی کرکٹ ٹیم کو اُس وقت فوری طورپر پاکستان سے واپس بلالیا، جب کراچی میںٹیم کے ہوٹل کے باہر ایک خود کش حملے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان دو واقعات کی وجہ سے پاکستان کھیلوں کے حوالے سے ایک غیرمحفوظ ملک کےروپ میں دنیا کے سامنے آیا تھا اور غیر ممالک نے اپنی ٹیمیں یہاں بھیجنے سے انکار کردیا۔اس سانحے کےچھ سال بعدمئی 2015میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا ، جس میں دو ٹی ٹوئنٹی اور تین ایک روزہ میچز کھیلے گئے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تمام میچز قذافی اسٹیڈیم میں ہی منعقد ہوئے تھے۔ آئی سی سی کی طرف سے اگرچہ ان میچوں کو سرکاری رتبہ دیا گیا تھا لیکن پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کو بنیاد بنا کراس نے اپنے میچ آفیشلز بھیجنے سے گریز کیا۔

پاکستان اور غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہونے والی زیادہ تر ہوم سیریز کا انعقاد وبئی کے گراؤنڈز میںہوتاہے۔ 2015میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل کی طرز پر پاکستان سپر لیگ بنائی جس کی پانچ فرنچائز ٹیموں نے غیرملکی کرکٹرز کی خدمات حاصل کیں، جن میں ڈیرن سیمی قابل ذکر ہیں۔ ان لیگ میچز کےپہلے مقابلے 2016میںدوبئی میں منعقد ہوئے۔2017میں پی ایس ایل کا دوسرا سیشن ہوا، جس میں سے زیادہ تر میچ غیرملکی وینیوز پر ہوئے۔ فائنل میچ کا انعقادلاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوا، جس میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے درمیان مقابلہ ہوا اورجس میں پشاور زلمی فتح یاب ہوئی۔اس میچ میںپشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹر میں شامل، کئی غیرملکی کرکٹرزنے حصہ لیا ۔2017کے اوائل میںانگلینڈ، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز میں فتوحات، نئے ریکارڈ قائم کرنے اور آئی سی سی ورلڈچیمپئنز ٹرافی جیتنے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے عالمی کرکٹ کے حلقوں میں نرم گوشہ پیدا ہوا۔ پی سی بی کے سابق اور موجودہ چیئرمین پاکستان میں کرکٹ کے لیے دروازے کھولنے کے لیے عرصے سے کوشاں تھے۔ ان کی محنت رنگ لائی اور ورلڈ الیون کی صورت میں ایک عالمی ایونٹ کا پاکستان میںکامیاب انعقاد ہوا جو انتہائی خوش گواراور پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔

ورلڈ الیون میں دنیا کے آٹھ ممالک کی ٹیموں کے 14 صف اول کیےکھلاڑیوں نے میچ میںشرکت کی، ان میں سے پانچ کا تعلق جنوبی افریقہ، 2ویسٹ انڈیز جب کہ باقی سری لنکا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیااور بنگلہ دیش سے تھا، آٹھویں ملک زمبابوے کی نمائندگی ورلڈ الیون کے کوچ اینڈی فلاور کی صورت میں تھی۔یہ پاکستان میں عالمی کرکٹ کے دروازے کھولنے کی طرف پہلا قدم تھا، جس کے لیے پاکستان کرکٹ بو رڈ کے سربراہ کی کاوشیں تو تھیں لیکن انہیں انجام تک پہنچانے میں آئی سی سی کے چیئرمین ششانک منوہر اور ان سے بھی زیادہ انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور آئی سی سی میں پاکستان سے متعلق ٹاسک فورس کے سربراہ جائلز کلارک نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ جائلز کلارک نےجنوری میں لاہور کا دورہ کیا اور وہاں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے علاوہ پنجاب حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام سے ملاقاتوں کے بعد آئی سی سی کو مثبت رپورٹ روانہ کی، جس کے بعد آئی سی سی نے دنیاکے معروف کرکٹرز پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے فول پروف اقدامات کیے گئے۔

پاکستان حکومت کی جانب سے عالمی کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے گئے تھے۔ 10ہزارپولیس و دیگر سکیورٹی اہلکاروں کےعلاوہ سادہ لباس میں بھی اہل کار تعینات کیے گئے تھے، جو کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیےتیارتھے۔ہوٹل سے اسٹیڈیم جانے والی سڑک کو عام ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔ ورلڈ الیون کی ٹیم کو بلٹ پروف بس جب کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو لگژری بس میں ہوٹل سے اسٹیڈیم پہنچایا جاتا تھا۔ کھلاڑیوں کی حفاظت اور میچ کی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹر سے بھی مدد لی گئی۔ قومی کرکٹ اکیڈمی کے سامنے ایک گشتی ایمرجنسی اسپتال بھی بنایا گیا تھا جس کا عملہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے ضروری طبی آلات اور ادویات سے لیس تھا۔اسٹیڈیم کے اطراف کی تمام دکانیں اور تجارتی مراکزٹی ٹوئنٹی سیریز کے میچوں کے موقع پر بند کرا دیے گئے تھے۔ قذافی اسٹیڈیم سے ہوٹل تک کے تمام راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے تھے ۔ کنال روڈ لاہور کی مصروف ترین شاہ راہوں میں سے ایک ہے، ورلڈ الیون کی آمدپر اسے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ پورے شہر میں رنگ برنگی روشنیوں سے اس طرح چراغاں کیا گیا تھا کہ کسی تہوار کا گماں ہوتا تھا۔ اسٹیدیم اورمال روڈ پر جس فائیو اسٹار ہوٹل میں ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں کا قیام تھا، اس کے اطراف میںجگہ جگہ مہمان کرکٹرز اور جائلز کلارک کے لیے خیرمقدمی فلیکس لگائے گئے تھے۔ لیکن رات گئے تک وہاںپولیس ناکے لگےتھے، خاردارباڑھ اور سیفٹی بیریئرز لگائے گئے تھے جن کے قریب سے عام شہریوں کو گزرنے کی اجازت نہیں تھی۔ پولیس کی گاڑیاں، ایلیٹ فورس اور رینجراہلکار مسلسل گشت پر تھے۔ تماشائیوں کو ٹکٹوں کے حصول کے بعداسٹیڈیم میں داخل ہونے کے لیے چھ حفاظتی حصار عبور کرکے جانا پڑتا تھا جب کہ ان پر یہ شرط بھی عائد کی گئی تھی کہ ٹکٹ کے ساتھ قومی شناختی کارڈ، نوعمر ہونے کی صورت میں’’ ب ‘‘فارم جب کہ غیر ملکی اصل پاسپورٹ ساتھ لائیں جب کہ انہیں اسٹیڈیم تک پہنچانے کے لیے دو مقامات سےمفت شٹل سروس چلائی گئی تھیں۔ قذافی اسٹیڈیم کی طرف جانے والے راستے بند ہونے کی وجہ سےجگہ جگہ ٹریفک جام تھا جس کی وجہ سے پہلے میچ میںصرف تماشائی نہیں بلکہ ریڈیو کمنٹیٹرز بھی تاخیر سے اسٹیڈیم پہنچے جس کی وجہ سے سامعین پہلے سات اوورز کی کمنٹری سننےسے محروم رہ گئےآ ّزادی کپ کے میچوں کے باعث گلبرگ کے اسکولوں میں وقت سے پہلے چھٹی کا اعلان کرتے ہوئے والدین کو اپنے بچے گھر لے جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ والدین کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ بین الاقوامی کرکٹر زکے تحفظ کے لیے بچوں کی تعلیم کے آدھے وقت کی قربانی قبول ہے مگر راستے مسدود ہونے سے ہم پریشانیوں کا شکار ہیں۔

عالمی الیون کے کھلاڑی پیر کو کراچی پہنچے اورفلڈ لائٹس میں قڈافی اسٹیڈیم میں اگلے روز کے میچ کے لیے پریکٹس کی۔ اس سے قبل ورلڈ الیون کےکپتان فاف ڈوپلیسی اور کوچ اینڈی فلاورز نے ٹیم کی کٹ اور ڈوپلیسی نے سرفراز احمد کے ساتھ آزادی کپ کی ٹرافی کی رونمائی کی۔ پہلے میچ کے اختتام پر ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں آئی سی سی ٹاسک فورس کےسربراہ جائلز کلارک کو پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے پر اعزازی طور پر پاکستان کی روایتی پگڑی پہنائی گئی۔ آزادی کپ کے میچ سے قبل ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں کو خوب صورت ثقافتی رنگوں میںسجے ہوئے رکشوں میں بٹھا کر گراؤنڈ کے چکر لگوائے گئے۔ میچ ٹروع ہونے سے قبل ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں کوثقافتی رنگوں سےسجے ہوئے رکشوں میں بٹھا کر گراؤنڈ کےکا گشت کرایا گیاانہیں دیکھ کر تماشائیوں نے کھڑے ہوکرخیر مقدمی نعرے لگائے۔ اس موقع پر ڈیرن سیمی کا رکشہ خراب ہوگیا جس کی وجہ سے انہیں دوسرے رکشے میں بٹھانا پڑا۔

افتتاحی میچ دیکھنے کے لیے کئی سابق کرکٹر پویلین میں موجود تھے۔ تیسرے میچ کے اختتام پر اسٹیڈیم سے جانے سے قبل ،پاکستان کرکٹ ٹیم کے دو عظیم کھلاڑ یوں مصباح الحق اور شاہد آفریدی نے رنگ برنگے رکشوںمیں الگ الگ بیٹھ کر گراؤنڈ کا چکر لگایا۔ اس موقع پروہاں موجود .ہزاروںشائقین نے انہیں نشستوں سے کھڑے ہوکررخصت کیا۔ منگل کو پہلے میچ کے لیے روانہ ہونے سے قبل ورلڈ الیون کے کھلاڑیوںکی لاہور کے روایتی ناشتے سے تواضح کی گئی جس میں سری پائے، انڈا چنا، بونگ، حلیم اور نان، ہریسہ، لسی شامل تھے۔، جسے کھاتے ہوئےاسپنر عمران طاہر نے کہا کہ’’ واقعی لہور،لہور اے ‘‘‘۔غیرملکی کھلاڑیوں میں سے صرف جنوبی افریقہ کےعمران طاہر ہی واحد کھلاڑی تھے جن کے لیے یہ کھانے نئے نہیں تھے۔ وہ 38سال قبل شمالی لاہور کےعلاقے چاہ میراں میں پیدا ہوئے تھے،یہاں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ، پاکستان انڈر 19 اور پاکستان اے کی بھی نمائندگی کی۔ 2003ء میں انہیں پاکستان کی قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ میں مدعو کیا گیاتھا لیکن موٹر سائیکل حادثے میں زخمی ہونے کی وجہ سے شامل نہ ہوسکے اور ان کی جگہ دانش کنیریا قومی ٹیم کا حصہ بن گئے، جس کے بعد انھوں نےکاؤنٹی کرکٹ کھیلنا شروع کی، جس کے کچھ عرصے بعد وہ تلاش معاش کے سلسلے میں جنوبی افریقہ چلے گئے اوروہاں بھارتی نڑاد لڑکی سے شادی کرکے جنوبی افریقہ کی شہریت لے لی۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا اور سلیکٹ ہونے کے بعد ملکی و بین الاقوامی میچوں میں حصہ لینے لگے اور کئی میچوں میں سپر اسٹار کے طور پر پاکستان ٹیم کے مدمقابل آئے۔ورلڈ الیون کی جانب سے پاکستان میں وہ پہلا بین الاقوامی میچ کھیلنے کے لیے آئے تھے جب کہ اسٹیڈیم میںبیٹھے ہوئے ،ان کے بھائی سلمان طاہر اور دیگر اہل خانہ نے انہیں کھیلتے ہوئے دیکھا ۔

لاہور میں ہونے والےاس ٹورنامنٹ پر 30کروڑ روپے کے اخراجات آئے جن میں سے سکیورٹی کی مد میں آئی سی سی کی طرف سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو 11لاکھ ڈالر دیئے گئے۔ ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو سترہ کروڑ ، غیر ملکی کریو کو پروڈکشن کاسٹ کی مد میں سات کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی جب کہ اس سیریز کے تجارتی حقوق ایک نجی کمپنی کو دیئے گئے تھے۔ ایک پاکستانی بینک نے ٹائٹل اسپانسر شپ کی مد میں ایک کروڑ 65لاکھ روپے بورڈ کو ادا کیے ۔ بورڈ کی جانب سے ٹکٹوں کی قیمتیں عام آدمی کی استطاعت سے باہر تھیں۔ 500 روپے والے سب سے سستے ٹکٹ عید سے پہلے ہی فروخت ہو گئے تھے۔ دوسرے مرحلے میں جمعرات کو کئی بینکوںمیں باقی ماندہ 2500 سے 8000 روپے تک کے ٹکٹ فروخت کے لیے پیش کیے گئے البتہ 500 والے ٹکٹ میسر نہ ہونے پر ہزاروں کرکٹ شایقین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ، انتہائی دشواریوں کے باوجود اندرون و بیرون ملک سے بے شمار شائقین کرکٹ ان مقابلوں کو دیکھنے کے لیے آئے تھے۔ بعض تماشائی بونیر اور لاڑکانہ جیسے دورافتادہ علاقوں سے میچ دیکھنے کی خاطر آئے تھے جب کہ ایک صاحب فیملی سمیت ان میچوں کو دیکھنے کے لیے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے آئے تھے اور انہوں نے 6ہزار والا ٹکٹ 11ہزار میں خرید کر میچ دیکھا۔اسٹیڈیم میں بیٹھے شائقین ،سیریز کے میچوں کے ہر لمحے سے محظوظ ہوتے رہے جب کہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ میدانوں اور پارکس میں بڑی اسکرین لگائی گئی تھیں جب کہ گھروں میں بھی لوگ ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھے قومی ہیروز اور عالمی کرکٹرز کو کھیلتے ہوئے دیکھتے رہے۔

اس ٹورنامنٹ کی اہم بات یہ ہے کہ قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے ان تین ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریزکو انٹرنیشنل میچوں کا درجہ تو حاصل ہوگیا ہےلیکن اس سے قومی ٹیم کی رینگنگ پر کوئی اثر نہیںپڑا کیوں کہ یہ میچز کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ آئی سی سی کی مشترکہ ٹیم کے خلاف کھیلے گئے تھے لیکن پاکستانی کرکٹرز کی عالمی رینکنگ میں ضرور بہتری آئی ہے۔ آزادی کپ کے اختتام پر آئی سی سی کی نئی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ کے مطابق بابر اعظم کیرئیر کی چھٹی پوزیشن جب کہ احمد شہزاد 9درجے بہتری کے بعد 22ویںدرجے پر آگئے۔ ان میچوں میں کئی نئے ملکی و بین الاقوامی ریکارڈ قائم ہوئے جن میں احمد شہزادنے اٹھارویں اوور میں چھکوں کی ہیٹ ٹرک مکمل کی، بابر اعظم نے لگاتار تیس گیندوں میں رنز بنا کر ٹی ٹوئنٹی کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، اس سے قبل یہ ریکارڈ بھارت کے روہیت شرما کے پاس تھا جنہوں نے لگاتار 26گیندوں پر رنز بنائے تھے۔

آزادی کپ کے اختتام کے بعد سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر تھلنگا سما تھیپالا نے 2017کے آخر تک لاہور میں تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلنے کے لیے سری لنکن ٹیم کو پاکستان بھیجنے کا عندیہ دیا ہے لیکن اسے سکیورٹی سے مشروط کیا گیا ہے۔ جب کہ مستقبل قریب میں ویسٹ انڈین ٹیم کے بھی دورہ پاکستان کی امید ہے لیکن بی سی پی حکام کو ملک بھر میں شائقین کرکٹ کے جذبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے لاہو ر کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی انٹرنیشنل میچوں کا انعقاد کرنا چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 80754 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Sep, 2017 Views: 406

Comments

آپ کی رائے