فٹ بال کے میدانوں میں خواتین ریفریز

(Rafi Abbasi, Karachi)
مردوں کے میچز کی نگرانی، اب خواتین آفیشلز بھی کرتی ہیں

فٹ بال کو عموماً مردوں کا کھیل سمجھاجاتا ہے لیکن ایسا نہیںہے، اس کھیل میں تقریباً 130سال سے خواتین بھی شریک ہیں، مثلاًمصروف عمل ہیں۔1890میں شمالی لندن میں خواتین کے فٹ بال کلبز قائم کیے گئے۔ 1920میں باکسنگ ڈے کے موقع پر گوڈیسن پارک میں خواتین فٹ بالرز کے درمیان میچ کا انعقاد کیا گیا۔ 1969میں 44ممبرز کلبس کی مشترکہ تنظیم کا قیام ’’ویمنز فٹ بال ایسوسی ایشن‘‘ کے نام سے عمل میں آیا اور اسی سال انگلینڈ ویمنز انٹرنیشنل کے اشتراک سے پہلا ’’ایف اے ویمنز کپ‘‘ کا انعقاد ہوا اور ’’ڈونکاسٹر بیلیز‘‘ کی ٹیم کسی بڑے فٹ بال ٹورنامنٹ کی پہلی فاتح بنی لیکن متعدد کارناموں کے باوجود خواتین کی فٹ بال ٹیم عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے سےمحروم رہی، البتہ969سے خواتین نے اس میں اپنا مقام خود منوالیا۔اب عالمی سطح پر ان کے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کا انعقاد ہوتا ہے، فیفا، ورلڈ کپ، یوئیفا ،بنڈس لیگا اور دیگر لیگز میں بھی خواتین کی ٹیمیں موجود ہیں ۔ پہلے خواتین فٹ بال کے مقابلے مرد ریفریز کی نگرانی میں منعقد ہوتے تھے لیکن گزشتہ چند عشروں سے مردوں کےاکثر ٹورنامنٹس خواتین ریفریزسپروائز کرتی ہیں۔ان کی تعیناتی کا تجربہ سب سے پہلے یورپ میں کیا گیا تھا جو کامیاب رہا، جس کے بعد دنیا بھر میں اس تجربے سے استفادہ کیا گیا،پچاس سے زائد ویمن ریفریز مرد و خواتین کے فٹ بال میچوںکی نگرانی کررہی ہیں۔ فیفا کے مطابق اب تک 720خواتین کا بہ طور فٹ بال ریفری رجسٹریشن کیا گیا، جن میں سے 324مرکزی اور باقی اسسٹنٹ ریفری ہیں۔

فٹ بال جارحانہ انداز میں کھیلی جاتی ہے، اس میں خواتین ریفریز کو ہمیشہ چیلنجز درپیش رہتے ہیں، کھیل کے دوران مرد کھلاڑیوں کی فقرہ بازیوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے لیکن وہ انتہائی صبر و استقامت کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کرتی ہیں۔ 2004میں مینز ٹاپ لیگ میں ریفری کی حیثیت سے میچ کھلانے کے لیے ’’ ورجینیا ٹوڈیر‘‘ جب گراؤنڈ میں آئیں تو اسٹار کھلاڑی بلانکو نے انہیں دیکھ کر فقرہ چست کیا’’ جاؤ، گھر جاکر برتن صاف کرو‘ ‘ ارجنٹائن کی خاتون ریفری، سلومی ڈی لوریو ، مردفٹ بالر زکے فون نمبر مانگنے سے پریشان رہتی تھیں ، لیکن اس کے باوجود خواتین ریفریز ، کھیل کے قواعد و قوانین پر سختی سے عمل درآمد کراتی ہیں۔ خلاف ضابطہ کھیل پر کھلاڑیوں کو سرزنش کرتی ہیں، جب کہ بعض اوقات گراؤنڈ سے باہر نکالنے کی بھی سزا دیتی ہیں۔ ایسی ہی چند خواتین ریفریز کا ذیل میں تذکرہ پیش کررہے ہیں جنہوں نے مرد و خواتین کے فٹ بال میچوں کی نگرانی کرکے عالمی سطح پر اپنا مقام بنایا۔

بیبانا اسٹین ہاس
جرمنی کے قصبے لیگن ہیگن سے تعلق رکھنےوالی بیبانا اسٹین ہاس کو فٹ بال کا کھیل وراثت میں ملا تھا، ان کے والد بھی اس کے کھلاڑی اور ریفری تھے۔ اسٹین ہاس نے اپنے کیرئیر کا آغاز14سال کی عمر میں’’ایس وی بڈلاؤ ٹربرگ‘‘ کی فٹ بال ٹیم میںکیا،ساتھ ساتھ وہ اپنے والد سے ریفری کے کورس کی تربیت بھی حاصل کرتی رہیں۔1999میں جب وہ 20سال تھیں، ان کی تقرری ویمنزبنڈس لیگا میں میچ ریفری کے طور پر کی گئی ۔23سال کی عمر میں وہ جرمن پولیس کےعہدیدار کے لیے مقابلے کے امتحان میں شریک ہوئیں اورکامیاب ہوئیں۔ 2001میں انہوں نے فرائن بنڈس لیگا اور ریجنالیگا کے میچوں کو سپروائز کیا۔ 2007-8میںجرمن بنڈس لیگاکے میچوں کی چوتھے ٹیم آفیشل کی حیثیت سے نگرانی کی۔ 2011میں ویمن فٹ بال ورلڈ کپ اور ویمن چیمپئنز لیگ کے فائنل کے آخری سیزن کے میچ کھلائے۔ 2007سے اب تک تقریباً 80فٹ بال میچوں میں ریفری کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ 2012کے لندن سمراولمپکس کے فائنل کے علاوہ یورپین لیگ کے کئی اہم ٹورنامنٹس ان کی زیر نگرانی کھیلے گئے ۔ رواں سال مئی2017 میں یوئیفا ویمنز چیمپئنز لیگ کے فائنل میچ میں ریفری کی حیثیت سے ان کی خدمات حاصل کی گئیں،2017-18میں جرمنی میںمنعقدہونے والے سب سے بڑے ٹورنامنٹ، ’’جرمن بنڈس لیگا‘‘ کا ریفری مقرر کردیا گیا۔

فٹ بال میچوں کی نگرانی کے دوران انہیں بھی اکثر اوقات ناگوار صورت حال درپیش رہی ہے، لیکن وہ اس سے بہ خوبی نمٹتی رہیں۔ 2014میں ’’یورشیا مونچنگ لیڈبیچ‘‘ اور’’جرمن بائرن‘‘ کی ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا گیا جو ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا۔ میچ کے بعد بائرن ٹیم کا منیجر، پریپ گاڈیلا جو اس میچ کی چوتھے آفیشل کے طور پر نگرانی کررہا تھا، اسٹین ہاس کے قریب آیا اور بے تکلفی سے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ اسٹین ہاس نے سختی کے ساتھ اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور پولیس کے روایتی انداز میں کہا کہ ’’اپنے ہاتھوں کو قابو میں رکھو، ورنہ میں بھول جاؤں گی کہ تم کون ہو؟‘‘۔ 2015میں ایک میچ کے دوران ’’فارٹونا ڈوسل ڈورف‘‘ کے مڈ فیلڈر ، کیرم ڈیمربے ، کو جب انہوں نے دوسری مرتبہ یلو کارڈ دکھایا تو وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے غصے سے کہا کہ،’’ عورتیں مردوں کے کھیل میں دخل اندازی کرتے ہوئے اچھی نہیں لگتیں‘‘۔ اگرچہ اس نے فون پر اسٹین ہاس سے معافی مانگ لی تھی، لیکن ان کی شکایت پر جرمن فٹ بال ایسوسی ایشن نے تادیبی کارروائی کرتے ہوئے ڈیمبربے کو پانچ میچوں کے لیے معطل کردیا۔

ایمی فرن
برطانیہ کے ’’لاف ہارو‘‘ کے قصبے سے تعلق رکھنے والی ایمی الزبتھ فرن، برٹش فٹ بال ریفری ہیں، بچپن میں اپنے بھائی کے ساتھ فٹ بال کھیلتی تھیں، ان کے والد برٹش فٹ بال ایسوسی ایشن میں ریفری کے فرائض انجام دیتے تھے ۔ 13سال کی عمرمیں ایمی نے بھی اپنے باپ سےریفری کی تربیت حاصل کی اور 14سال کی عمر میں اس پر مکمل عبور حاصل کرلیا، جس کے بعد وہ انڈر12فٹ بال ٹیم کے ریفری کے فرائض انجام دینےلگیں۔\16سال کی عمر میں انہیں مڈلینڈ فٹ بال الائنس کے میچ سپروائز کرنے کی ذمہ داری مل گئی۔ جب وہ 26سال کی ہوئیں تو انہیں فیفا کی لسٹ میں اسسٹنٹ ریفری کی حیثیت سے رجسٹر ڈ کیا گیا۔ ۔ 2010میںانہیں انگلش فٹ بال ایسوسی ایشن کی جانب سے پہلی خاتون ریفری کی حیثیت سے’’ لیسسٹرشائر‘‘ میں تعینات کیا گیا،جس کے بعد ایک بااختیار مرکزی ریفری کی حیثیت سے انہوں نے فٹ بال لیگ کے میچوں کو سپروائز کیا۔ 2013میں ایف اے کپ کے دوران بھی ریفری کی خدمات انجام دیں۔ کھیل کے ساتھ ساتھ انہوں نے تعلیم بھی جاری رکھی اور 2010میں معاشیات میں ماسٹرز کرنے کے بعد وہ ایک ادارے میں اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر فائز ہوگئیں، لیکن انہوں نے فٹ بال کو نہ چھوڑا۔

انہیں بھی میچ کے دوران ناخوش گوار صورت حال کا سامنارہتا ہے۔ نومبر 2006میں لوٹن ٹاؤن اور کوئنزپارک رینجرز کے میچ کے دوران وہ اسسٹنٹ ریفری کی حیثیت سے گراؤنڈ میں موجود تھیں۔ اس میچ میں لوٹن کی ٹیم 2کے مقابلے میں 3گول سے ہار گئی، جس سے لوٹن کا منیجر مائیک نیویل طیش میں آگیا اور اس نے کہا کہ’’ اس کی ٹیم کو شکست ریفری کی جانب سے ایک پنالٹی کارنر نہ دینے کی وجہ سے ہوئی ہے، یہ پارک فٹ بال نہیں ہے، مردوں کے کھیل میں خواتین کا کیا کام ہے؟‘‘۔نیویل کی شکایت پر فٹ بال ایسوسی ایشن کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کرائی گئی جس میں ایمی بے گنا ہ ثابت ہوئی ۔تحقیقاتی کمیٹی کے فیصلے کے بعدنیویل نے اپنے روئیے پر ایمی سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ٹیم کی شکست پر اپنے حواس کھو بیٹھا تھا‘‘۔ ایسوسی ایشن کی طرف سے نیویل پر 6500پونڈ جرمانہ عائد کیا گیا، جب کہ لوٹن ٹاؤن کلب کی طرف سے اسے تنبیہ کی گئی۔

ڈیگمار ڈیمکووا
ڈیگمار ڈیمکووا، چیکوسلواکیہ کی فٹ بال ریفری ، سابق چیئرپرسن، ایف اے سی آر ریفریز کمیٹی، چیکوسلواکیہ ویمنزفٹ بال کمیٹی کی چیئرپرسن، فٹ بال کی بین الاقوامی تنظیموں، یویفا اور فیفا کی ریفریز کمیٹی کی رکن رہی ہیں۔ انہوںنےبوہیما یونیورسٹی سے انگریزی اور ایجوکیشن میں گریجویشن کیا، 1999میں ان کی انٹرنیشنل فٹ بال ریفری کی حیثیت سے تقرری کی گئی۔ ان کی زیرنگرانی پہلی مرتبہ بیلاروس اور مالدووا کے درمیان فٹ بال میچ کھیلا گیا۔ انہوں نے 2008میں اولمپکس، 2009میں یوئیفاویمنز یوروکپ اور 2011میں یوئیفا ویمنز چیمپئنز لیگ کے فائنل مقابلوں میں ریفری کی ذمہ داریاں ادا کیں، جب کہ 2007میں چین اور اس کے بعد جرمنی میں منعقد ہونے والے فیفاویمنز ورلڈ کپ کے عالمی ٹورنامنٹس کو سپروائز کیا۔2011میں انہوں نے آخری بار کیمبرنس لیگا کے میچوں میںمیچ آفیشل کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس کے بعد وہ چیکوسلواکیہ فٹ بال کے سابق ریفری اور ایف اے سی آر کے نائب صدر، رومن باربر کے ساتھ رشتہ ازواج میں منسلک ہوگئیں اور انہوں نے اس کھیل سے علیحدگی اختیار کرلی۔

کیرسی ہیکنن
کیرسی ہیکنن، فن لینڈ ویمنز فٹ بال ایسوسی ایشن کی ریفری تھیں۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا پہلا بین الاقوامی میچ مئی 2005میںسپروائز کیا جو کینیڈا اور سویڈن کے درمیان کھیلا گیا تھا۔ 2009میں یوروپین چیمپئن شپ، 2011میں عالمی کپ، 2012میں سمر اولمپکس، 2010میں ’’میں چیمپئنز لیگ کا فائنل، 2010کے انڈر17ورلڈ کپ اور ’’الگارو کپ‘‘ کے میچ ان کی نگرانی میں کھیلے گئے۔

جینی پام کوئسٹ
جینی پام کوئسٹ1969میں کوریا میں پیدا ہوئیںلیکن والدین کے سویڈن منتقل ہونے کی وجہ سے ان کی پرورش سویڈن میں ہوئی۔ بچپن سے ہی انہیں فٹ بال کھیلنا پسند تھا، ابتدا میں فٹ بال کلب کے ساتھ کھیلتی رہیں، 14سال کی عمر میں ریفری کا کورس کیا، جس کے بعد انہیں سویڈن کے ریفری پینل میں شامل کیا گیااور انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی سطح کے کئی ٹورنامنٹس میں ریفری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 2004کے سمر اولمپکس، 2006کا ایشین کپ، 2006کی انڈر 20ورلڈ چیمپئن شپ، 2007کا ورلڈ کپ، 2007کے سمراولمپکس،2009میں یوروپین چیمپئنز لیگ، 2011کا عالمی کپ، 2012میں سمر اولمپکس، 2004,2007,2008,2009,2010,2011اور 2012کی یوئیفا چیمپئنز لیگ کے میچوں میں انہوں نے ریفری کی حیثیت سے میچ میں حصہ لیا۔

جیکی میلک شام
جیکی میلک شام، آسٹریلیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے 2011کے فیفا ویمنزورلڈ کپ میں برلن کے اولمپک اسٹیڈیم میں جرمنی اور کینیڈا کے میچ میں ریفری کے فرائض انجام دیئے۔ کوارٹر فائنل مقابلہ جو برازیل اور امریکا کے درمیان ڈریسڈن کے ’’روڈلف ہارگ اسٹیڈیم‘‘ میں کھیلا گیا، اسے سپروائز کیا۔ وہ فٹ بال کے علاوہ گرافک ڈیزائنر کی حیثیت سے بھی کام کرتی ہیں۔

نکول پیٹگ نٹ
نکول پیٹگ نٹ، سوئٹزرلینڈ فٹ بال ایسوسی ایشن کی سابق ریفری ہیں۔ اسکول کے زمانے سے انہیں فٹ بال کھیلنا پسند تھا ۔ وہ فٹ بالر کے طور پر سیکنڈ ڈویژن لیو ل پر کھیلتی رہیں۔ 1983میںانہوں نے 17سال کی عمر میں ریفری کا کورس مکمل کیا اور نیشنل لیگ اے، جو بعد میں سوئس سپر لیگ کی نام سے معروف ہوئی، اس کے مقابلوں کی میچ آفیشل کے طور پر نگرانی کی۔ 1999میں لاس اینجلس میں منعقد ہونے والے فیفا ویمنز ورلڈ کپ کے فائنل میچ کو، جو امریکا اور چین کے درمیان کھیلا گیا، سپروائز کیا۔2000میں سڈنی کے اولمپکس گیمز میں ویمنز فٹ بال ٹورنامنٹ، 2001میں یوئیفاویمنز یوروکپ کا فائنل میچ، 2003میں فیفا ویمنز ورلڈ کپ،2005میں ویمنز یوروکپ اور 2007میں ویمن ورلڈ کپ میں ریفری کے طور پر خدمات انجام دیں۔2008میں وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئیں۔

نیلی وینوٹ
نیلی وینوٹ، کا تعلق فرانس سے تھا، انہوں نے 1987سے فٹ بال کیرئیر کا آغاز کیا۔ جنوری 1995میں انہوں نے خواتین کاانٹرنیشنل ٹورنامنٹ سپروائز کیا، 2002سے اپنی ریٹائرمنٹ تک وہ فرنچ فٹ بال لیگ میں ریفری کے طور پر حصہ لیتی رہیں۔ وہ پہلی مرتبہ فٹ بال کے حلقوں کی توجہ کا مرکز اس وقت بنیں جب انہیں ریفریز پینل کے 82بہترین ریفریز کے ساتھ شارٹ لسٹ کیا گیا۔ 2006میں انہوں نے فرینکفرٹ میںفٹ بال سے متعلق چار روزہ ورک شاپ میں شرکت کی، جس کے بعد ان کی60دیگر آفیشلز کے ساتھ فیفا ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے لیے اسسٹنٹ ریفری کی حیثیت سے نامزدگی کی گئی لیکن تربیتی کیمپ میں دوڑ کے ٹیسٹ میں ناکام ہوگئیں، جس کی وجہ سے ان کا نام نکال دیا گیا۔ اسی سال انہوں نے یوئیفا چیمپئنز لیگ کے مقابلوں کی نگرانی کی اور اس کے اختتام پر انہوں نے فٹ بال کے کھیل کو ہمیشہ کے لیےخیرباد کہہ دیا۔

کرسٹینا گال
کرسٹینا گال، ہنگری سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے2002میں اپنے کیرئیر کا پہلافٹ بال میچ جو رومانیہ اور کروشیا کے درمیان کھیلا گیا، ریفری کی حیثیت سے سپروائز کیا۔ 2007کے فیفا ورلڈ کپ کے دو گروپ میچوں کی نگرانی کی، 2011کے فیفا ویمنز ورلڈ کپ کے دوران ان سے نادانستگی میں غلطی سرزد ہوئی، جس کا اثر ان کے کیریئر پر بھی پڑا۔ اس عالمی ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا اور استوائی گنی کی ٹیموں کے درمیان میچ کے دوران، گنی کے دفاعی کھلاڑی نے آسٹریلین ٹیم کے پینالٹی ایریا میں جاکر گیند کو ہاتھ سےپکڑلیالیکن کرسٹینا کی طرف سے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اور میچ جاری رہا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ کھیل رکوا کر آسٹریلین ٹیم کو پنالٹی کارنر دیا جاتا،بعد میں انہوں نے آسٹریلین ٹیم سے اپنی اس کوتاہی پرمعافی مانگی۔

کرسٹینا وسٹرم پیڈرسن
کرسٹینا پیڈرسن کا تعلق نارویجین فٹ بال ایسوسی ایشن سے تھا۔ 1997سے 2005تک وہ ’’ٹاپ سیرین‘‘ کی ریفری رہیں۔2010میں انہوں نے فیفا انڈر20ویمنز ورلڈ کپ، 2011کا ویمن ورلڈ کپ اور 2012کے سمر اولمپکس میں ریفری کی حیثیت سے حصہ لیا۔لندن میں منعقد ہونے والے اولمپک مقابلے ان کے کیرئیر کے اختتام کا سبب بنے۔ فائنل میچ ، جو کینیڈا اور امریکا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا، کرسٹینا کے بعض متنازعہ فیصلوں کی وجہ سے کینڈین ٹیم کی شکست کا باعث بنااور امریکا فٹ بال کا اولمپک چیمپئن بن گیا۔ میچ کے اختتام پر کینیڈا کے فارورڈکرسٹائن سنکلیر نے کہا کہ، ’’ ریفری نے میچ کا نتیجہ شاید میچ شروع ہونے سے قبل ہی تیار کرلیا تھا‘‘۔ فیفا کی انضباطی کمیٹی نے تادیبی اقدام کرتے ہوئے سنکلیر کو چار میچوں کے لیے معطل کردیا، لیکن یہ ٹورنامنٹ کرسٹینا کے کیرئیر کا نقطہ اختتام ثابت ہوا اوراس واقعے کے بعد انہیںدوبارہ کسی میچ میں ریفری کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی۔

ٹامی اوگسٹن
ٹامی او گسٹن کا تعلق برسبین آسٹریلیا سے ہے۔ فٹ بال کی مقامی ٹیم کے ساتھ بہ طور کھلاڑی اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1993میں ریفری کا کورس کوالیفائی کیا اور برسبین لیگ کے میچوں میں انہیں ریفری کی حیثیت سے ذمہ داری سونپی گئی،1999میںانہوںنے فیفا ویمنز ورلڈ کپ میں ریفری کے فرائض ادا کیے۔ 1997سے2008تک وہ فیفا کے انٹرنیشنل ریفریز کے پینل میں شامل رہیں، متعدد ٹورنامنٹس کی نگرانی کی جن میں 2000میں سڈنی میں منعقد ہونے والے فٹ بال کے اولمپک مقابلے بھی شامل ہیں۔ 2003میں امریکامیں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ،2006میں روس میں ہونے والی فیفا انڈر20ویمنز ورلڈ چیمپئنز شپ، 2007میں چین میں فیفا کے خواتین فٹ بال کے عالمی کپ کے میچوں کی آفیشل کے طور پرنگرانی کی۔2011میںاوگسٹن نے کھیل سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ 2016میں فٹ بال کے کھیل میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے، انہیں فٹ بال فیڈریشن آف آسٹریلیا کی جانب سے ’’ہال آف فیم ‘‘ کے اعزاز سے نواز گیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 79342 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Sep, 2017 Views: 505

Comments

آپ کی رائے