خادم اعلیٰ صاحب!مجھے کیوں نکالا گیا۔۔۔۔؟

(Abdul Haseeb, )

وہ جمعرات کی شام بوجھل پاؤں سے چل کر میرے پاس آیا۔نوجوان کاچہرہ مُرجھایا ہوا اوررنگ اُڑے ہوئے تھے۔چہرے پرگزرے کل کی طرح تروتازگی اور بشاشت نہیں دِکھ رہی تھی۔میں اس کے جذبات و احساسات کو بھانپ چکا تھاشاید کہ اس پر اچانک سے کوئی قیامت ٹوٹ پڑی ہو اور اس پر یہ زمین تنگ کر دی گئی ہو۔ہاں!اس کی کیفیت کچھ ایسے ہی تھی وہ اپنے دل کا بوجھ اٹھائے آیا تھا،وہ اس بوجھ کو ہلکا کرنااور اپنا دکھ درد بانٹنا چاہتا تھا۔میں نے اس کو اپنے پاس بٹھایا اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کے لیے مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی مگر بے سود،وہ اندر سے رو رہا تھا۔میں نے اسے تھپکی دیتے ہوئے کہا کہ آج تمھیں ہوا کیا ہے کل تک تو بڑے خوش باش تھے،اچانک کیا عذاب نازل ہوا آپ پر؟وہ کچھ بتانا چاہتا تھا مگر ہمت نہیں ہو رہی تھی۔میں پھر سے اسے حوصلہ دیتے ہوئے گویا ہوا کہ آخر کیا بات ہے اتنے پریشان اور شکستہ دل کیوں ہو چکے ہو؟ وہ غصے سے چیخ کر پکارا کہ ہاں میں شکست کھا چکا ہوں، میری اُمیدیں ٹو ٹ گئی ہیں اور عزت وآبروخاک میں ملا دی گئی ہے۔’’آج کیا عزت رہ گئی دوست احباب اور رشتہ داروں میں میری‘‘؟وہ مجھ سے سوالیہ انداز میں بولا۔میں نے نوجوان کو تسلی دیتے ہوئے اُس سے پور ی بات سنانے کو کہا۔ وہ شکست خوردہ لہجے میں بولا کہ میں نے حصول علم کی خاطر گزشتہ تیرہ سال کا عرصہ گھر سے دور پردیس میں کاٹا۔پھر ہر خود دار نوجوان کی طرح حصولِ ملازمت کے لیے جدو جہد کی تا کہ اپنے بوڑھے والدین کے بڑھاپے کا سہار ابن سکوں۔بلآخر مجھے لاہور کے ایک نجی ادارے میں بحیثیت استادکام کرنے کا موقع ملا۔میں ہنسی خوشی اپنے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔

پچھلے سال نومبر میں ضلع خانیوال میں ایجو کیٹرز کی بھرتیاں آئیں جس پر میں نے بھی قسمت آزمائی کی ۔تمام مراحل طے کرتے ہوئے کامیاب ہوا۔ایک دن مجھے بذریعہ فون مطلع کیا گیا کہ میر انام ایجوکیٹرز کی ٹریننگ لسٹ میں آگیاہے۔لہذامیں نے نجی ادارے سے فوری استعفا دیا اور ۴۔اگست ۲۰۱۷ء سے ۳۱۔اگست ۲۰۱۷ء تک جاری رہنے والی ایجوکیڑزٹریننگ میں شامل ہوا۔ تما م عرصے میں مجھے اور میرے ساتھیوں کو اس خوش گمانی میں رکھا گیا کہ ٹریننگ مکمل ہوتے ہی آڈرز دے دیے جائیں گے۔

نوجوان نے اپنی روداد غم سناتے سناتے اچانک چپ سادھ لی ۔میں نے اُسے پانی کا گلاس پیش کیا نوجوان نے کڑوے لہجے میں جواب دیا :’’اب پانی بھی آگ بجھانے کی بجائے تیل کا کام کر رہا ہے‘‘۔پھر وہ آہستہ سے بولا :’’آج جب ٹریننگ کا آخری دن تھا ۔ میں اور میرے دیگر ساتھی خوشی سے جھوم رہے تھے کہ آج ہمیں آڈرز مل جائیں گے۔آج ہمیں سولہ سالہ تعلیم کا صلہ ملنے والا ہے اور ہم اپنے بوڑھے ماں باپ کا سہارا بننے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ خیالات آج سارا دن ہمارے دل و دماغ پر چھائے رہے مگر سہ پہر تین بجے کے قریب ٹریننگ سیشن کے اختتام پر ٹریننگ سنڑ ہیڈ نے بتایاکہ محکمہ کی جانب سے یہ حکم آیا ہے کہ آڈرز ابھی تک پرنٹگ کے مراحل میں ہیں،جس نے ہماری تمام امیدوں کو چکنا چور کردیا۔ساتھ ہی محکمہ ایجو کیشن خانیوال کی طرف سے جار ی ہونے والی لسٹ میں ٹریننگ کرنے والے چالیس کے قریب ایجو کیٹرز کے نام تک موجود نہ تھے ،اس خبر نے ہمارے سینوں کو چھلنی کر دیا۔ یہ خبر سن کر ہر امیدوار پریشان ہو گیا کہ کہیں اُن بدنصیبوں میں اس کا نام نہ شامل ہو۔اس نے کہا کہ جب میں نے فیس بُک کے خانیوال ایجوکیٹرز پیج پر لسٹ دیکھی تو وہاں وہ لسٹ موجود نہ تھی۔بلکہ وہ ڈی ایس ڈی کے ممبران نے انفرادی طور پر کچھ امیدواروں کو واٹس ایپ پر بھیجی تھی۔

وہ بولا کہ جب میں نے اس لسٹ میں اپنا نام گم پایاتو میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی ،جبکہ اس لسٹ میں کئی ایسے نام دیکھنے کو ملے جن کے نام ٹریننگ لسٹ میں تھے اور نہ ہی وہ افراد ٹریننگ میں شامل ہوئے تھے۔میں اور میرے دوسرے محروم ساتھیوں نے احتجاج کیا اور ٹریننگ سنٹر ہیڈ سے مطالبہ کیاکہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمیں کیوں نکالا گیا؟مگر اُن کی طرف سے صرف یہ جواب تھا کہ آپ اعلیٰ اتھارٹی سے پوچھیں جنہوں نے آپ کو سلیکٹ کرتے ہوئے ہمیں احکامات جاری کیے تھے کہ ان کو ٹریننگ دی جائے۔اب ہم نے تو اپنا فریضہ ادا کر دیا ،ہم نے آپ ہی کو استاد بنایا ہے اور آپ ہی کو استاد مانتے ہیں نا کہ ان کو جو بغیر ٹریننگ کے لسٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں۔جب میں اس کی ساری روداد سن چکا تو اس کو تسلی دی کہ ہر کام میں اﷲ کی طرف سے بہتری ہی ہوتی ہے آپ مزید پریشان نہ ہوں،اﷲ سب بہتر کر دے گا۔وہ تو چلاگیا مگرایک درد بھری داستان چھوڑگیا۔۔۔۔۔؟

کیا کبھی کوئی ریاست ایسا کرتی ہے کہ پہلے فوجی کو بھرتی کرے پھر اس پر قوم کا پیسہ خرچ کرتے ہوئے اس کو ٹریننگ دے ،جب اسے بندوق چلانا آجائے تو اسے گھر بھیج دے اور اس کی جگہ باڈر پر ملکی حفاظت کی خاطرایک عام بندے کو کھڑا کر دے!ہاں میرے ملک کے صوبہ پنجاب کی مثال اس کی عکاس ہے کہ ایک مہینہ ایجوکیٹرزکو ٹریننگ دی گئی اور پھر ان کو اسکولز بھیجنے کی بجائے گھر بھیج دیا گیا۔پڑھی لکھی بات ہے کہ سرکاری و غیرسرکاری ادارے سلیکٹڈ افراد کو ہی ٹریننگ دیتے ہیں لیکن محکمہ ایجوکیشن خانیوال نے قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انوکھا کام کر دکھایا کہ غیر حتمی لسٹ(جو کہ سینٹر ہیڈکے مطابق حتمی ہی تھی؟)پر ٹریننگ کروا دی اور ٹریننگ کے آخری روز حتمی لسٹ جاری کی۔کیا یہ پاکستان کے شہریوں سے دھوکہ نہیں ہے؟اور سب سے تعجّب کی بات تو یہ ہے کہ اس حتمی لسٹ کو خانیوال ایجوکیٹرز کے فیس بُک پیج پر اَپ لوڈ نہیں کیا گیاہے کہ کوئی ان کی دھوکہ دہی دیکھ نہ لے۔کیا اس ملک میں چوروں اور لٹیروں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ انصاف کے کٹہرے سے بچ جائیں گے ؟ہر گز نہیں ان سب کا حساب عنقریب ہونے والا ہے ، یہ دنیا تو بس تھوڑی سی ہے اس کے ہر عمل کا حساب دینا ہو گااصل زندگی تو آخرت ہی کی ہے جو ناختم ہونے والی ہے۔

خادم اعلیٰ صاحب! میں آپ سے پوچھنے پر مجبور ہوں کہ ان نوجوانوں کا کیا قصور تھا انہیں کیوں نکالا گیا؟کیا ان کی ڈگری جعلی تھی؟ ان افسران سے پوچھا جائے کہ جب نکالے جانے والے امیدوار میرٹ پر نہیں آتے تھے تو ان کو بلا کر ٹریننگ کیوں دی گئی،ان کا وقت کیوں ضائع کیا گیا؟ان کو پورا ایک مہینہ دھوکے میں رکھ کر سبز باغ کیوں دکھائے گئے؟یہ نوجوان تو پہلے ہی مختلف نجی اداروں میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے پیٹ کی آگ بجھا رہے تھے تو تم نے ان سے وہ لقمہ بھی چھین لیا۔۔۔۔!!

جناب اعلیٰ دعوے تو خیر آپ کے بہت ہیں کہ آپ نوکریا ں میرٹ پہ دے کر بے روزگاری کا خاتمہ کر رہے ہیں لیکن ان دعووں کے برعکس ضلع خانیوال میں تو آپ کے آفیسرز نے روزگار دینے کی بجائے ،پہلے سے چلتا ہوا روزگار بھی چھین لیا ہے۔معذرت کے ساتھ ،اگر آپ نے ان افسروں کو میرٹ پر بھرتی کیا ہوتا تو ان کو معلوم ہوتاکہ پالیسیاں کس لیے اور کیسے بنائی جاتی ہیں اور پھر ان پر عمل کیسے کیا جاتاہے ،توشاید آج پھران بے ضابطگیوں کو دیکھنے کی نوبت نہ آتی۔خدارا!اس معاشرے کی غریب عوام پر ترس کھایے اور ان کے سروں پہ وہ افسر بٹھایے جو باشعور ہونے کے ساتھ عوام دوست بھی ہوں۔

میں اس تحریر کے ذریعے سے آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ مذکورہ بے ضابطگیوں اور مَن مانیوں کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے بلکہ ان کو گھر بھیجا جائے جن کی مینجمنٹ کی ایک غلطی نے چالیس کے قریب سلیکٹڈ امیدواروں کو بغیر وجہ بتائے گھر بھیج دیا۔امید ہے کہ آپ ان غریب اور والدین کے بڑھاپے کے سہاروں کو سہارا دیتے ہوئے فوری طور پر محکمہ ایجوکیشن خانیوال کو آڈرز جاری کرنے کے احکامات صادر فرمائیں گے تاکہ جس مقصدکے تحت ان نوجوانوں کو ٹریننگ دی گئی ہے وہ اس کو پورا کرتے ہوئے اپنی قوم کے نونہالوں کو پڑھنا لکھنا سکھا کر ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Haseeb

Read More Articles by Abdul Haseeb: 2 Articles with 803 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Sep, 2017 Views: 363

Comments

آپ کی رائے