تبدیلی اور انقلاب کی ضرورت

(Muhammad Mazhar Rasheed, Okara)

تحریر: اعجاز علی
ہم تبدیلی اور انقلاب کیوں چاہتے ہیں؟ہمیں اسکی اتنی ضرورت کیوں ہے؟صرف اس لیے کہ اچھا پانی وہی ہے جو بہتا رہے اور اگر اس کا بہاؤ رک جاۓ تو وہ سڑ جاتا ہے۔دنیا میں کوئی بھی چیز جس کے اندر جان ہے کبھی ایک حالت پر رکی ہو ئی نہیں ہے بلکہ ہر لمحے کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ ساری فطرت دن بدن بلکہ منٹ منٹ پر بدل رہی ہے، ہاں مُردوں میں نشوونما ضرور رک جاتی ہے اور ان پر جمود چھا جاتا ہے۔یہی حال انسان اور قوموں کی زندگی کا ہے، خواہ ہم چاہیں یا نہ چاہیں ہم میں برابر تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ ننھے ننھے بچھے چند سال میں لڑکے ہو جاتے ہیں ، لڑکے جوان اور جوان بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو ہمیں ان تبدیلیوں سے گذرنا ہی پڑھے گاورنہ زمانہ ہماری ذرا بھی پرواہ کیے بغیر ہمیں چھوڑ کر آگے نکل جائے گا اور ہم رُکے ہوئے پانی کی طرح سڑ جائیں گے اور یہ زندہ قوموں کی نہیں بلکہ مُردہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔دوسری طرف ترقی اور خوشحالی صرف زندہ قوموں کے حصے میں ہی آتی ہے اور مُردہ قوموں کا وجود آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ ان کا حصے میں صرف مایوسی، بے بسی اور بربادی ہی آتے ہیں۔اس لیے یہ فیصلہ ہر قوم کو کرنا ہوتا ہے کہ وہ زندہ اور پائندہ رہنا چاہتی ہے یاپھر غلامی اور بے بسی کو اپنا مقدر بنانا چاہتی ہے۔ اور زندہ اور پائندہ صرف نعروں سے نہیں رہا جاتا بلکہ اس کیلیے قربانی دینا بھی پڑتی ہے اور لینا بھی پڑتی ہے۔ قربانی دینا ان کو پڑتی ہے جو زندہ اور پائندہ رہنا چاہتے ہیں اور لینا ان سے پڑتی ہے جو پوری قوم کو صرف اپنے مفاد کے لیے مُردہ دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ملک و قوم کی نہیں صرف اپنی بقاء کو عزیز سمجھتے ہیں اور بیوقوفوں کی طرح یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ان کی بقاء بھی ملک وقوم کی بقاء ہی میں ہے۔معاشرے میں اس بڑھے تضاد کی وجہ سے زبردست ٹکر کے مواقع بڑھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے دنیا میں بڑے بڑے انقلاب اور تبدیلیاں رونما ہوا کرتی ہیں۔آج ہمارے ملک پاکستان میں بھی کچھ ایسے ہی حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک طبقہ ان لوگوں کا ہے جو ملک کے وسائل پر قابض ہے اور طاقت کا بل بوتے پر دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹ رہا ہے اور یہ طبقہ کسی بھی تبدیلی سے منکر ہے کیونکہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی تبدیلی ان کے مفاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے گویا انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کر کے مقفل کر دیے ہیں اور نئے خیالات کو آنے ہی نہیں دے رہے، جتنا وہ غوروفکر سے گبھرا رہے ہیں کسی اور چیز سے اتنے پریشان نہیں ہیں اور اس کے لیے وہ آئین اور قانون میں تبدیلی سے بھی گریز نہیں کر رہے ۔ اس طبقے کو کہیں سے بھی کوئی احتساب کا خوف ہوتا ہے اس سے بچنے کے لیے آئین میں تبدیلی کی شق ڈال دیتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف وہ مظلوم طبقہ ہے جو اکثریت میں ہونے کے باوجود بے بسی اور مایوسی میں مبتلا ہے۔ یہ لوگ ملک میں ایسی تبدیلی اور انقلاب چاہتے ہیں جس کو ذریعے ملک لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کر کے ان سے لوٹی ہوئی دولت اور وسائل واپس لائے جا سکیں، غلامی کی زندگی سے چھٹکارہ حاصل کر کے آزادی اور خودمختاری کو اپنایا جا سکے،گندے پانی کے تمام تالابوں کو خالی کر کے ہر جگہ صاف اور ستھرا پانی بھرا جا سکے، تمام کوڑے کرکٹ کو صاف کر کے افلاس اور مصیبت کو اپنے ملک سے دور کیا جا سکے۔ اس بڑھ کر جہاں تک ممکن ہو پہلے طبقے کے لوگوں کے دماغ کے وہ جالے بھی صاف کیے جا سکیں جن کی وجہ سے ان میں غوروفکر کی گنجائش نہیں رہی اور وہ ذہنی طور پر حریص اور مُردہ ہو چکیں ہیں اور جسکے نتیجے میں وہ ملکی ترقی میں کوئی بھی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں اور غیر ملکی قرضوں پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔لیکن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کی کہ تبدیلی اور انقلاب کی یہ باتیں صرف ذہنی خیالات اور تحریروں تک محدود ہیں اور اسکی باتیں کرنے والے لوگ بھی ابھی اسے عملی جامہ پہنانے کو تیار نظر نہیں آتے اور کسی بھی ٹکراؤسے گریز کر رہے ہیں ۔ شاید اس لیے کہ ابھی وہ کسی بھی قربانی کے لیے تیار نہیں ہیں اور کسی نہ کسی مصلحت کے تحت وقت گزاری کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں مگر یہ سب زیادہ دیر نہیں چلے گاکیونکہ ابھی انکا جینا مشکل ہوا ہے ناممکن نہیں اور وہ چھوٹا سا طبقہ جن کا جینا ناممکن ہوا ہے وہ بے بسی اور مایوسی میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ بچوں کو بیچ رہے ہیں یا ان کو قتل کر کے خودکشی کر رہے ہیں۔لیکن جب کچھ عرصہ بعد جب لوٹ کھسوٹ اس حد تک پہنچ گئی کہ ایک کثیر تعداد کا جینا ممکن نہ رہا تو پھر ان کے پاس ٹکراؤ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔اور اس سے تاریخ کی وہ بات سچ ثابت ہو جائے گی کہ زمانے کا پہیہ گردش کرتا رہتا ہے ، جو نیچے ہوتے ہیں وہ اوپر آ جاتے ہیں اور اوپر والے نیچے چلے جاتے ہیں۔جب یہ گردش ہمارے ملک میں شروع ہو گئی تو اس زور کا چکر لگے گا کہ کسی کے روکنے سے رک نہیں سکے گا۔تب ًتبدیلی چاہتے ہیںً کا نعرہ ًتبدیلی زندہ بادً میں بدل جائے گا۔پھر لوٹ مار میں مصروف لوگوں کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہوتا جائے گا اور ان سے پائی پائی جرمانے کا ساتھ وصول کی جائے گی۔ اس لیے ان لوگوں کا پاس اب بھی وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لے کر ملک و قوم کے مفاد کی خاطر لوٹی ہوئی دولت واپس کر کے قوم سے معافی مانگ کر ملک سے کرپشن، بے ایمانی، بداخلاقی، بیہودگی اور اسلامی اقدار کی پامالی کو ختم کر دیں ورنہ خونی تبدیلی اور تباہی ان لوگوں کا مقدر بنے گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Mazhar Rasheed

Read More Articles by Muhammad Mazhar Rasheed: 129 Articles with 66388 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Sep, 2017 Views: 230

Comments

آپ کی رائے