عدم مساوات بھی ظلم ہے

(Ghulam Ullah Kiyani, )

صاحبان اختیاراپنی تنخواہوں، مراعات میں کئی سو گنا اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ جب موقع ملے، اپنے پیکیج پر از سر نو زیر غور لانے کی تاویلیں پیش کرتے ہیں۔اپنی گاڑیوں، دفاتر، فرنیچر، رہائش، ٹی ا ے ڈی اے وغیرہ جیسی آسانیوں کے بہانے اور طریقے تلاش کرتے ہیں۔اپنی انٹائٹلمنٹ یا استحقاق کے لئے سب کچھ کر گزرتے ہیں لیکن اپنے زیر نگرانی لوگوں مشکلات میں کمی پر ہمدردانہ غور مناسب نہیں سمجھتے۔گو کہ آمدنی میں اضافہ یا کمی کا انحصار پیداوار پر ہے۔ اگر پیداوار بڑھ رہی ہے تو آمدنی میں اضافہ ہو گا۔ آمدن میں اضافہ ہو گا تو معیار زندگی بلند ہو گا۔ خوشحالی نظر آ ئے گی۔ کسی فرد کی خوشحالی یا بدحالی عیاں ہو جاتی ہے۔ بعض لوگ جو نظر آتے ہیں وہ ہوتے نہیں۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جو لوگ طنز و مزاح کے رسیا ہوتے ہیں، دوسروں کو ہنسی مذاق سے خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر اندر سے دکھی اور غمزدہ پائے گئے ہیں۔ ایک حساس انسان کو غم اندر ہی اندر سے کھا جاتا ہے۔ یہ غم کیا ہے۔ انسان کے بس میں جو کچھ ہے ، وہ کرے، محنت ومشقت سے کام لے، لگن سے اپنی ڈیوٹی انجام دے۔ رزق حلال کی تلاش کرے، اگر آپ کی ڈیوٹی میں کسی کو دھوکہ دینا، جھوٹ بولنا، چاپلوسی، منافقت ہو گی تو اسے رزق حلال نہیں کہا جا سکتا ہے۔ انسان توکل کرے۔اﷲ پر بھروسہہو۔ ہر خوشی و غم اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔یہاں مواقع بہت کم ہیں۔ رشوت اور اثر ورسوخ سے لوگ بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ سرکاری ملازمین یا جو بھی سرکار کے رحم و کرم پر ہیں، وہ بھی خصوصی توجہ کے طالب ہوتے ہیں۔ اسی طرح نیم سرکاری یا خود مختار نجی اداروں کے ملازمین کا بھی یہی حال ہے۔ چونکہ ہر سال ہی نہیں بلکہ ہر مہینہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لوگوں کی آمدن یا تنخواہ میں اس رفتار سے اضافہ نہ ہو تو لوگ بدحال ہو جاتے ہیں۔ ان کی صلاحتیں ناکارہ ہو جاتی ہیں۔ جیسے کہ نزاکت بھی حسن سے ہی آتی ہے۔ حسن ہے تو پھر ہر ناز بروئے عمل رہتا ہے۔یہ ملازمینصاحبان اقتدار یا مالکان کی توجہ چاہتے ہیں۔ میرٹ کا ویسے بھی رواج ختم ہو رہا ہے۔ ہر کام صاحب کی پسند و ناپسند کا محتاج ہو کر رہ گیا ہے۔ اداروں میں ایسے مکر و فریب کے ماہرین بھی ہوتے ہیں جو دوسروں یا ماتحتوں کاسارا کریڈٹ خود لے جاتے ہیں اور ان کی ساری خوبیوں کا خود کو ہی سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ یہی لوگ اپنی ساری خامیوں کو دوسروں کے سر ڈال دیتے ہیں۔ باس پر یہ باور کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہی یہ سب کام تکمیل کو پہنچا ورنہ یہاں سب نااہل ہیں۔ سب کچھ ان کے دم خم سے ہے۔ جیسے سارا آسمان ان کے سینگوں پر کھڑا ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم، اسمبلی کے سپیکر، ڈپٹی سپیکر، وزرا، ارکان اسمبلی کی تنخواہوں، الاؤنسز ، مراعات میں ایک بار پھر بھاری اضافہ کر دیا گیا۔ چونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس لئے اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ لیکن یہ کرتا دھرتا جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہیں اور اس پر اپنا حق جتلاتے ہیں، اس سے دوسروں کو محروم کر دیتے ہیں۔ یہ نا انصافی ہے۔حکمران اپنی تنخواہوں اور مراعات میں جب بھی موقع ملتا ہے اضافہ کر دیتے ہیں اور بے چارے ماتحت منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

کشمیری مہاجرین 1989گزارہ الاؤنس میں 12سال سے مناسب اضافہ کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکناس مطالبہ کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس کے لئے مختلف تاولیں دیں جاتی ہیں۔ کوئی کام نہ کرنا ہو تو اس کے لئے لاکھ بہانے اور عذر ہوتے ہیں۔ کوئی کام کرنا ہے تو سیاہ کو بھی سفید بنا دیا جاتا ہے۔ مہاجرین کو روزہ مرہ گزر بسر کے لئے یا دو وقت کی روٹی کے لئے گزشتہ12سال سے 50 روپے یومیہ فی کس دیئے جا رہے ہیں۔ شاید گیارہ سال سے ان مہاجرین کے لئے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہو گا یا ایسا حکام کا خیال ہو گا۔ وہ گیارہ سال سے اس الاؤنس کو کم از کم دو وقت کی دال روٹی کی قیمت کے برابر کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ کشمیر کمیٹی کے چیئر مین مولانا فضل الرحمان کی برسوں سے مہاجرین کے ساتھ وعدے کر رہے ہیں لیکن کسی وعدے پر عمل نہ کیا جا سکا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے الیکشن میں کامیابی کے فوری بعد اعلان کیا کہ انھوں نے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف سے مہاجرین1989کے گزارہ الاؤنس میں 500روپے ماہانہ فی کس منظوری حاصل کی ہے۔ اس اعلان کو بھی عرصہ گزر گیا۔ ابھی تک اعلان پر کوئی عمل نہیں ہوا ہے۔ اس کے بعد وزیراعظم ساحب نے کئی بار اجافے کا وعدہ کیا۔لیکن اس پر عمل نہ ہوا۔حیرانی ہے کہ جو اسمبلی اپنے ارکان کی تنخواہوں اور بے شمار مراعات میں اضافے کو جائزقرار دیتی ہے۔ اس کے لئے قانون سازی کرتی ہے، نئے مسودہ قوانین اور ان میں ترامیم کے جواز پیدا کرتی ہے۔ وہی اسمبلی ان مہاجرین کو ان کے جائز حقوق سے محروم کر دیتی ہے۔ وزیراعظم اپنی تنخواہ میں کئی سو فیصد اضافے کرتے ہیں۔اداروں کے سربراہاں اپنی مراعات کو بڑھاتے ہیں۔ مگر مظلوم کی کوئی نہیں سنتا یا اسے محروم رکھنے کے بہانے کئے جاتے ہیں۔یہ بلا شک کھلا تضاد ہے۔ یہ امتیازی سلوک ہے۔ خود کو بالا تر اور بڑا اورمظلوموں کو کم تر اور حقیر سمجھا جا رہا ہے۔مہاجرین اور چھوٹے ملازمین اپنے حقوق کے لئے مطالبہ پیش کریں، پھر بھی یہ لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔ قومی خزانہ کو جب یہ لوگ اپنے لئے حلال قرار دیتے ہیں تو اسی خزانے کو دوسروں کے لئے حرام کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہ لوگ اﷲ تعالیٰ کے عدل و انصاف کو چیلنج کرتے ہیں یا انہیں اپنی موت و آخرت پر کوئی یقین نہیں۔

روزگار کے کم مواقع دستیاب ہونے کی وجہ سے لوگ بدحال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میرٹ پامال ہو تو بھی وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ان کی ترقی کے راستے میرٹ ناپید ہونے سے مسدود ہو جاتے ہیں۔ کچھ کرنے کی خواہش دم توڑ دیتی ہے۔ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ یہ میرٹ کی بالادستی یقینی بنائے گی۔ مظلوم کو انصاف دلائے گی، وغیرہ۔ مہاجرین کا نگران ادارہ ریفوجی منیجمنٹ سیل (آر ایم سی) ہے۔ وہ بھی مہاجرین کے گزارہ الاؤنس میں مناسب اضافہ اور آبادکاری کے لئے سفارشات پیش کر رہا ہے۔ ان سفارشات پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کم آمدن افراد کی آمدن میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ مارکیٹ کے مطابق غریب کی قوت خرید بھی بڑھائی جا سکتی ہے تا کہ اس کا معیار زندگی بہتر ہو ۔ من پسند اصول پر عمل سے معاشرے میں طبقہ بندیاں رواج پاتی ہیں۔ جو کہ سب کے لئے نقصان دہ ہے۔ مساوات کا تقاضا ہے کہ جو اپنے لئے پسند ہے وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کیا جائے۔ ارباب اختیار کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں، قانون سازی کرنے والوں کا منڈیٹ بھی منفرد ہے، اسے وہ خوب جانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انجان بنے ہیں۔ مہنگائی بڑھنے کے ساتھ اگر فرد کی قوت خرید بڑھانے کے لئے پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ معاشرے میں نا انصافی، امتیاز، میرٹ کی پامالی کا تاثر عام ہونے سے نفرت اور طبقہ بندی کو عروج ملتا ہے جس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیئے۔جو لوگ اپنے پیکیج کا خاص خیال رکھتے ہیں، انہیں دوسروں کی تکلیف کا احساس نہیں، جب ان کا احتساب ہو گا تواس کا وہ کیسے سامنا کریں گے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 221424 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
30 Sep, 2017 Views: 306

Comments

آپ کی رائے