وہ بے حیا عورت تھی یا مجبورعورت!!

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

کہتے ہیں کہ ایک شہر کے پوش علاقے میں ایک عورت کرائے کے مکان میں آبسی ۔ و ہ تنہا رہا کرتی تھی ۔لیکن ریشم کا چمکتا دھمکتا لباس پہن کر دل و دماغ کو مسخر کردینے والی خوشبو لگاکر بڑے اہہتمام سے گھر سے نکلا کرتی تھی ۔محلے کے لوگ تانک جھانک رکھئے ہوئے ہوتے تھے ۔کہاں گئی کیا کررہی ہے ۔وغیرہ وغیرہ چلو یہاں تک تو ٹھیک ۔ستم بالائے ستم یہ کہ اس محلے میں اکیلے رہنے والی عورت کے گھر کے سامنے مہنگی مہنگی گاڑیاں آتیں ۔کبھی کوئی مرد تو کبھی کوئی عورت اس کے گھر میں داخل ہورہاہوتا۔محلے میں تو جان پہچان اس کی تھی نہیں ۔الہی ماجراکیاہے ۔

اہل محلے میں سے کوئی کہتا۔کردار کی ٹھیک عورت نہیں ۔کوئی کہتامیں نے خود دیکھا ہے اچھی عورت نہیں ایک مرد فروٹ وغیرہ لیکر اس کے گھر جارہاتھا۔کسی نے کہا یہ خطرناک عورت لگتی ہے ۔کسی نے کہا ایجنٹ تو کسی نے کہا یہ محلے کو بدنام کرنے کی سازش وغیرہ جیسے تبصرے و تجزیے ہر خاص و عام کی زبان پر تھے ۔نہ جانے کیسے کیسے سنگین الزامات کی زد میں آنے والے وہ عورت اپنے گھر میں سکون کی نیند سورہی ہولیکن اہل محلہ کو تو جب تک کوئی دو چار گمان و بدگمان بیان نہ کردیں کھانا ہضم نہ ہو۔
اب سوال یہ پیدا ہواکہ یہ ماجرا ہے کیا۔اس کے متعلق کوئی کھوج لگائی جائے ۔کوئی پتا تو کریں یہ ہے کون ؟لیکن مجال کوئی جائے یا معلومات حاصل کرے بس ایک ہی بات بری ہے اوباش ہے ۔فاحشہ ہے ۔وہ عورت بازار جاتی تو آنکھیں اس کی حرکات وسکنات پر جمع رہتی ۔خیر ہواکچھ اسطرح ایک دن وہ عورت کئی دنوں سے باہر سودا لینے نہیں آئی تو لوگوں کو تشویش ہوئی۔ایک پڑوسن ہمت کرکے اس کے گھر پہنچ گئی، وہ بیمار تھی۔ پوچھنے پر اس عورت نے بتایا کہ وہ درحقیقت جلد کی بیماری میں مبتلا تھی اس لئے وہ باریک ریشم کے کپڑے پہنتی ، بدبو سے بچنے کے لئے خوشبو لگاتی تھی۔ وہ بیمار عورت جو پڑوسن کے لیے اس سے قبل ایک فاحشہ تھی ۔اوباش تھی ۔لیکن جیسے جیسے حقیقت حال کا سے پردہ اُٹھارہاتھاپڑوسن کا سرجھکتا چلاجارہاتھا۔خیر مزید اس ریشم اور خوشبو لگانے والی عورت نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ جو گاڑیاں آکر رکتی تھیں وہ سب اسکے امیر بہن بھائی تھے جو اس کا حال احوال پوچھنے آتے تھے۔آہ!پڑوسن تو ندامت و پشیمانی سے پانی پانی ہوگئی ۔

محترم قارئین اتنی بڑی کہانی سنانے کا مقصد کیاتھا مقصد میرا صرف یہی تھا کہ خداراہ حقیقت حال معلوم کئے بغیر کسی کے متعلق رائے قائم نہ کرلیاکریں ۔بلکہ تصدیق ضرور کرلیاکریں ۔

اب میں اس غلط فہمی ،اس بد گمانی کے نقصانات بتاؤں کہنے کو تو چھوٹی سی رائے ہے جو ہم نے کسی کے متعلق قائم کرلی ہے ۔لیکن حقیقت میں اس کے ناقابل تلافی نقصانات ہیں ۔اس سے ۔ نفسیاتی بیماریاں ۔ باہمی نفرتیں ، رنجشیں، رقابتیں ۔معاشرے میں انتشار ۔لڑائی جھگڑا اور قتال ۔ خاندانی ، قبائلی، لسانی اور اداروں کے تصادم جیسے خطرناک حادثات جنم لیتے ہیں ۔یہ تو تھا مرض ۔ظاہر ہے گمان تو دماغ میں جنم میں لے سکتاہے اچھا ہویا برا۔کھٹکا تو دل میں پیداہوسکتاہے ۔اب اس کا حل کیا ہے ۔

محترم قارئین :جب بھی آپ اس طرح کے حالات سے گزریں چند نسخے اپنالیں ۔جو میں نہیں کہہ رہا اہل علم اور نفسیات کے ماہرین نے تجویز کیئے ہیں ۔امید ہے کہ آپ بہت بڑے حادثات سے بچ جائیں گے اور کئی قیمتی رشتوں کوبچانے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے اور زندگی کے حقیقی حسن اور خوشبو سے بھی محظوظ ہوسکیں گے ۔
()اگر مسئلہ اہم ہے تو معلومات میں اضافہ کر کے گمان کو خاتمہ کردیں۔
()دوسروں کے متعلق بہت زیادہ سوچنے اور بلاوجہ رائے قائم کرنے سے گریز کریں۔
() اپنی منفی سوچوں پر قابو رکھیں اور کسی بھی ناخوشگوار خیال پر گرفت کریں۔
() اگر کسی کے خلاف کوئی بدگمانی پیدا ہو جائے تو آخری حد تک بدگمانی سے جنگ لڑیں۔ مثال کے طور پر کسی شخص نے آپ سے بد تمیزی سے بات کی اور آپ نے یہ سوچا کہ شاید یہ یہ میرا دشمن ہے۔ تو یہ گمان کریں کہ وہ میرا دشمن نہیں اور ممکن ہے وہ کسی گھریلو پریشانی میں الجھا ہوا ہو جس کی بنا پر وہ لڑا ہو۔
() اپنا حق لوگوں کے لئے چھوڑنا شروع کریں۔
() لوگوں کو انکی غلطی پر معاف کرنا سیکھیں کیونکہ اگر غلطی آپ کی ہے تو معا فی کیسی؟
()کوئی غلط گمان جنم لے تو دوسری جانب درست گمان کے تقابل سے اسے رد کردیں ۔
()کسی کی ذات کے برے پہلو پر گمان اٹک جاتاہے تو آپ اس کی اچھائیاں خود کو گنوائیں تاکہ یہ بد گمان زائل ہوجائے
() یہ ایک دن کا کام نہیں۔ لہٰذا ناکامی کی صورت میں کوشش جاری رکھیں۔

محترم قارئین: امید ہے آپ کے کئی مسائل حل ہوگئے ہوں ۔جب اتنی الجھنیں حل ہوگئیں تو میں دعاوں کا حقدار تو بنتاہوں ۔میرے حق میں دعا ضرور کیجئے گا۔آپ کسی بھی تناؤ ،الجھن کا شکار ہیں ۔مفید مشوروں کے لیے آپ میرے میل ایڈریس پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔
[email protected]

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 886 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 217 Articles with 207850 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

آپ نے اشفاق احمد صاحب کےسنائے گئے واقعے کو کاپی کرنے کی کوشش کی ہے مگر اس میں تھوڑی تبدیلی کر کے جسکا مزہ بھی خراب ھو گیاہے۔کوشش کریں کہ اپنے آئیڈیاز کو قلمبند کریں یا پھر اگر تقلید کریں تو مُحرر کا حوالہ یا نام درج کریں۔
By: zuhaib khan, karachi on Oct, 04 2017
Reply Reply
0 Like
شکریہ زوہیب بھاءی
دنیا میں انسان جو بھی تحقیق کررہاہے جو چیزیں تخلیق کررہاہے اس کا پہلے کہیں وجود ہوتا ہے اور اس کو وہ موڈریٹ کررہاہوتاہے ۔میں واقعہ کے حوالے سے عرض کرتاچلوں کہ واقعہ سنانے کا مقصود درس ہوتاہے ۔جہاں تک اشفاق صاحب کی بات ہے میرے علم میں نہیں ۔میں نے تو ایک اچھا واقعہ کہیں پڑھا تھا اس کو اپنے الفاظ میں پیش کردیا۔اآپ محترم ہیں۔لیکن عرض ہے دنیا میں اگر کسی شخص کی کسی شخص کی سوچ سے سوچ ملتی ہوتو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسے کاپی کررہاہے ۔بہر حال میں مشکور ہوں ۔
By: ڈاکٹر ظہوراحمد دانش , karachi on Oct, 05 2017
0 Like
Language: