8 اکتوبر 2005 ء کی یاد

(Shoukat Ullah, Banu)

8 اکتوبر 2005 ء کو پاکستان کی تاریخ کا ایک قیامت خیز زلزلہ آیا۔ ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 7.6 تھی۔پاکستان میں پہلی مرتبہ اس پیمانے کا بھونچال تھا، گزشتہ برس اس سے زیادہ شدت کا زلزلہ آیا تھا مگر خوش قسمتی سے زلزلے کا مرکز سطح زمین سے قریباً دو سو میل نیچے تھا۔8 اکتوبر کے ہولناک زلزلے سے صوبہ خیبر پختون خوا کے بالائی علاقے مانسہرہ، بٹ گرام، بالاکوٹ اور ہزارہ ڈویژن کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر تک گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے تھے۔جس میں 70 ہزار سے زائد اموات واقع ہوئیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ ایسے ایسے دل دوز مناظر آنکھوں نے دیکھے کہ کلیجے دہل گئے تھے۔

8 اکتوبر 2005 ء کو صبح آٹھ بج کر 52 منٹ پر پہلے زور دار جھٹکے سے قدموں کے تلے سے زمین نکل گئی، عمارتیں ہلتی ہوئی نظر آئیں، رنگ فق پڑ گئے، آنکھوں میں موت تیرتی ہوئی نظر آنے لگی اور چند منٹوں میں زندہ بستیاں اُجڑ گئیں۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے پہلے کچھ تھا ہی نہیں۔ بے شک اﷲ کی ذات ازل سے موجود ہے اور ابد تک موجود رہے گی۔
نہ تھا کچھ ، تو وہ تھا
نہ ہوگا کچھ، تو وہ ہوگا

یہ دھرتی ، یہ کائنات محض دوچار جھٹکوں کی مہمان ہے۔ ایک سانس کا رشتہ جو اس رب کریم نے اپنی عطاء سے انسانوں کے اندر قائم رکھا ہوا ہے، ورنہ پانی کے اس بے حقیقت بلبلے انسان ،اس کی دولت اور ہوس اقتدا کی حیثیت ہی کیا ہے۔

سائنس دانوں نے زلزلوں کی چار بڑی اقسام بیان کی ہیں۔ اولین قسم یہ ہے کہ زمین ایک سیارہ ہے، جو محوِ گردش ہے۔ اس کے علاوہ کائنات میں کروڑوں اربوں ستارے اور سیارے موجود ہیں اور جب کوئی ستارہ یا شہاب ثاقب زمین کے کسی حصے سے ٹکراتا ہے، تو زمین کے اُس حصے میں زلزلہ آجاتا ہے۔ زلزلوں کی دوسری قسم یہ ہے کہ سطح زمین کے نیچے آتش فشاں لاوا اُبل رہے ہیں اور اس لاوے کا پھٹنا زلزلے کا موجب بنتا ہے۔ تیسری قسم کے مطابق زلزلوں کی ایک وجہ موجودہ دور میں زیر زمین ایٹمی تجربات ہیں۔ جب کہ آخری اور چوتھی قسم زمین کی ساخت میں آنے والی تبدیلیاں، چٹانوں کی پرتوں اور سطح زمین کی حرکات و سکنات ہیں۔

کرۂ ارض کے اس خطے میں سترہ پتروں (پلیٹس) میں سے پانچ آپس میں قریب واقع ہیں۔خط استوار کے شمال میں انڈیا ، یوریشیا اور عربیا کی پلیٹس موجود ہیں۔ ان بڑے ٹکڑوں کے نیچے پگھلی ہوئی چٹانیں ہیں جن میں بے پناہ Heat پائی جاتی ہے اور ان پگھلی ہوئی چٹانوں (Melted Rocks ) کے اوپر زمین کی پلیٹس تیرتی رہتی ہیں۔سائنس دانوں نے پچھلی نصف صدی سے زائد عرصے میں جو تجربات کئے ہیں۔اُن سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انڈین پلیٹ (Plate ) سالانہ 1.6 انچ کی رفتار سے شمال کے جانب بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے ہمالیہ ، قراقرم ، ہندوکش اور دیگر پہاڑوں کی چوٹیاں نیچے دھنستی جارہی ہیں۔ انڈین پلیٹ شمال کی طرف حرکت کے دوران کبھی کبھی یوریشیائی پلیٹ کے کسی حصے سے ٹکرا جاتی ہے۔ جب ان دو بڑی پلیٹوں کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں زلزلے آتے ہیں۔ ٹکرانے کے مقام کو ایپی سنٹر (Epicenter ) کہا جاتا ہے۔

8 اکتوبر 2005 ء کی صبح جو زلزلہ آیا تھا اس کا ایپی سنٹر اسلام آباد سے 84 کلومیٹر شمال مشرق میں مظفرآباد اور بالاکوٹ کے درمیان واقع تھااور زلزلے کا مرکز سطح زمین سے دس میل نیچے تھا۔ اس کی براہ راست لہروں نے اسلام آباد ، جموں ، ہزارہ ، کابل ، گلگت ، اور شانگلہ تک کے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیا۔جب کہ زلزلے کے جھٹکے تاجکستان (دو شنبہ) سے ملتان تک محسوس کیے گئے۔زلزلے کے جھٹکے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایپی سنٹر کے قریب عمودی جھٹکے لگتے ہیں، جو زیادہ نقصان کا موجب بنتے ہیں۔ قومِ لوط ؑ کو عمودی جھٹکوں سے صفحۂ ہستی سے مٹایا گیا تھا۔اس کے برعکس وہ علاقے جو ایپی سنٹر سے دور دراز واقع ہوتے ہیں، وہاں یہ جھٹکے اُفقی ہوتے ہیں۔ جو زیادہ تباہ کن نہیں ہوتے۔زلزلوں کے بعد آفٹرشاکس کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، جس کی وجہ پلیٹوں کے شدید ٹکراؤ کے بعد ارتعاش کا عمل ہے جو وقفوں وقفوں سے کئی دن جاری رہتا ہے۔زلزلے اﷲ کی طرف سے بندوں کے انفرادی امتحان کے ساتھ قوم کی اجتماعی آزمائش بھی ہوتے ہیں۔
رنج سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 124837 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Oct, 2017 Views: 454

Comments

آپ کی رائے