ٹریفک وارڈنز عظیم فورس

(Muhammad Ashfaq, )

ٹریفک وارڈنز سے میرا واسطہ تقریبا پچھلے پانچ سال سے ہے اور میڈیا میں ہونے کی وجہ سے اکثر ان سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہی ہیں میڈیا ہی کی وجہ سے ان کی حرکات و سکنات پر بھی نظر رہتی ہے پہلے ان کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی تھیں لیکن ان کا کام ان کی انتھک محنت دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ نہایت ہی عظیم فورس ہے جسے نہ تو دھوپ اور نہ ہی سخت سردی کی پرواہ ہے بلکہ ان کا کام سخت سے سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنا ہے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر چوکوں میں کھڑے رہنے والوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ نہ جانے کب کوئی بے قابو گاڑی ان سے جا ٹکراتی ہے لیکن وہ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود چوک ہیں بلا خوف وخطر اس طرح کھڑے ہوتے ہیں کہ جیسے یہ چوک ہی ان کے لیے محفوظ ترین جہگہ ہے گرمیوں میں کچھ ماہ ایسے بھی آتے ہیں جن میں گھروں سے باہر منہ نکالنا ہی جان جوکھوں کا کام سمجھا جاتا ہے مگر اس عظیم فورس کے سپاہی روڈ پر کھڑے نظر آتے ہیں ان کے اندر ایک جزبہ کار فرما ہے جو ان کو درس دیتا ہے کہ آپ کے فرائض کی راہ میں کوئی بھی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی ہے آپ کا کام سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کرنا ہے اور اسی جذبے کومدنظر رکھ کر وہ اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں یہ پڑھے لکھے نوجوان خود کو عوامی کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں اس عظیم فورس کی ایک ٹیم عمران خا ن کی سربراہی میں ٹریفک سرکل کلر سیداں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے عمران خان ایک نہایت ہی دیانتدار شخص ہیں ان کے بارے میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی کمی واقع نہیں ہونے دیتے اس مخنتی ٹیم کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو حیرانگی ہوتی ہے کہ یہ چھٹی کب اور کس ٹائم کرتے ہیں اگر روات جایا جائے تو عمران خان مانکیالہ مل کے آس پاس کھڑے ٹریفک کے حوالے سے مختلف کاروائیاں کرتے نظر آرہے ہوتے ہیں اگر تھوڑی دیر بعد کلر سیداں بائی پاس کے قریب دیکھا جائے تو وہ وہاں پر کھڑے ہوتے ہیں کچھ دیر بعد وہ کلر سیداں گرلز کالج کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں الغرض کوئی بھی خاص مقام جہاں ٹریفک کے حوالے سے تھوڑے سے بھی مسائل موجود ہوں وہاں پر وہ خود جاتے ہیں اور جب تک وہ مسئلہ ختم نہیں ہو جاتا سرکل انچارج وہاں سے ہٹنے کانام بھی نہیں لیتے ہیں اکثر ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز حضرات سے باتیں ہوتی رہتی ہیں سب کا کہنا ہے کہ باقی وارڈن اہلکار پھر بھی تھوڑی گنجائش کر دیتے ہیں لیکن عمران خان نہایت ہی سخت آدمی ہیں وہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کبھی بھی برداشت نہیں کرتے ہیں ہمیں ان کی طرف سے خطرات لاحق رہتے ہیں نہ ہی ان کا کا کوئی وقت مقرر ہے پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس موڑ پر کھڑے ہوں اور ہماری کوتاہیوں کی مانیٹرنگ کر رہے ہوں ٹریفک کے اس بے ہنگم دور میں تمام معاملات پر نظر رکھنا بہت مشکل کام ہے یہ کام تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم سب اپنی اپنی زمہ داری محسوس کرتے ہوئے خود ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں گئے لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کو ہر وقت یہ خطرہ رہتا ہے کہ نہ جانے کس موڑ میں کھڑے ٹریفک وارڈنز ان کو چالان کر دیں اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ انچارج ٹریفک سرکل کلرسیداں کام کر رہے ہیں جس کے باعث ٹرانسپورٹرز حضرات ان کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں جس طریقے سے بھی ٹریفک مسائل کی نشاندہی کی جائے وہ وہاں پر جا کر کاروائی ضرور کرتے ہیں کلر سیداں میں اور بھی لاتعداد سرکاری محکمے موجود ہیں لیکن اگر اس وقت کوئی محکمہ صیح کام اور عوامی خدمت کر رہا ہے تو وہ ٹریفک وارڈنز ہیں جو اپنی زمہ داریاں نہایت ہی دیانتداری کے ساتھ نبھا رہے ہیں جو خود تو دھوپ میں کھڑے ہو تے ہیں اور ہمیں دھوپ سے نکا ل رہے ہوتے ہیں کلر سیداں میں ٹریفک کنٹرول کرنے میں نمایا ں کردار ادا کرتے جو وارڈنز نظر آتے ہیں ان میں انچاج عمران خان بیٹ آفیسر چوکپنڈوری عنصر محمود قریشی اور ماجد حسین شامل ہیں ان کے علاوہ بھی تمام اہلکار اپنی ڈیوٹیاں صیح معنوں میں ادا کر رہے ہیں لیکن اگر آپ کو دوران سفر کہیں اتفاق ہو تو غور سے دیکھیں تو یہی وارڈنز آپ کو اکثر نظر آئیں گئے اور یہ اہلکار آپ کو اتوار اور دوسری سرکاری چھٹیوں میں بھی کام کرتے نظر آئیں گئے ان کی کا رکردگی کو اگر دیکھا جائے تو یہ ہر ماہ لاکھوں کے حساب سے محصولات گورنمنٹ کے خزانے میں جمع کروارئے ہیں ان کی سخت کاروائیوں کی بدولت آج آپ کو کاڑیوں کے پیچھے لٹکے سٹونٹ نظر نہیں آئیں گئے کوئی بھی گاڑی والا ٹاپے پر سواریاں نہیں بٹھارہا ہے ان کی سخت پالیسیوں کی بدولت آج ٹریفک مسائل میں واضع کمی آچکی ہے باقی رہا مسئلہ کمی بیشی کا تو وہ ہر جہگہ موجود ہیں کوئی بھی انسان مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکتا ہے کچھ خامیاں ضرور باقی رہتی ہیں سٹی ٹریفک آفیسر راولپنڈی سے گزارش کروں گا کہ اس ٖفرض شناس ٹیم کو کلر سیداں میں مزید بہتری کے لیے ضروری سہولیات مہیا کی جائیں تاکہ یہ ہمارے لیے بھی مزید سہولیات مہیا کر سیکں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 143 Articles with 45830 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Oct, 2017 Views: 428

Comments

آپ کی رائے