لٹل ماسٹر حنیف محمد

(Rafi Abbasi, Karachi)
پاکستان کرکٹ کے ابتدائی دور میں انہوں نےاپنے کھیل سے کرکٹ کی تاریخ مرتب کی
17سالہ کرکٹ کیرئیر میں انہوں نے بے شمار کارنامے انجام دیئے، جن میں سے کئی ریکارڈ آج بھی
ناقابل تسخیر ہیں، پاکستان کے واحد کرکٹر جن کا تذکرہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں کیا گیا

لٹل ماسٹرحنیف محمد کا شمار پاکستان کے بلے بازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان کرکٹ کی تاریخ کی بنیاد رکھی،کرکٹ کے لیجنڈ کھلاڑی حنیف محمد، جنہوں نے پاکستان کرکٹ کی ابتدائی دورمیں بے شمار کارنامے انجام دیئےاور لازوال ریکار ڈبنائے تھے،21دسمبر 1934 میںبھارت کی ریاست جونا گڑھ کے چھوٹے سے قصبے مناودر میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں کے مردوں کے علاوہ خواتین بھی کھیلوں سے گہرا شغف رکھتی تھیں۔ ان کے والد شیخ اسماعیل محمد، برٹش آرمی میں ملازم تھے اور کلب کرکٹ کھیلتے تھے ۔ ان کی والدہ امیر بی جوناگڑھ میں ریجنل بیڈمنٹن اور ٹیبل ٹینس چیمپئن تھیں۔ جب کہ ان سمیت ان کے چار بھائی، بیٹے، بھتیجے اورپوتے سمیت خاندان کے بیشتر افراد پاکستان میںکرکٹ کے کھیل سے وابستہ رہے ہیں ۔ ان کا پوتا اور سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب محمد کا بیٹا، شہزر محمد اس وقت بھی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیلتا ہے۔ حنیف محمد کے والدین نےاپنے بیٹوںمیں کرکٹ کھیلنے کا رجحان پیدا کرنے کے علاوہ اسے پروان چڑھانے میں ہر ممکنہ مدد کی ۔ ان کی دیرینہ خواہش تھی کہ ان کے بیٹے کرکٹ کے کھیل میں نمایاں مقام حاصل کریں۔ حنیف محمد اور ان کے بھائیوں نے بچپن میں جوناگڑھ میں واقع اپنے گھر کے بالمقابل سیمنٹ کی روش پر برقی بلب کی روشنی میں کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ پاکستان بننے کے بعدیہ خاندان ہجرت کرکے کراچی آگیا اور اس کے نوجوانوں نے کرکٹ کے کھیل پر نصف صدی تک حکم رانی کی اور حنیف محمد اور ان کے بھائی ’’محمد برادران‘‘ کے نام سے معروف ہوئے۔ 1949میں دولت مشترکہ کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ یہ ٹیم برطانیہ، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے نامور کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جب کہ اس میں اکثریت لنکا شائر لیگ میں کھیلنے والے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔ کراچی میں اس نے سندھ الیون کے خلاف تین روزہ میچ کھیلا جس میں پہلی مرتبہ رئیس محمد نے بارھویں کھلاڑی کی حیثیت سے میچ میں حصہ لیالیکن محمد برادران میں رئیس محمد وہ واحدکرکٹر ہیں، جومیرٹ پر پورا اترنے کے باوجودقومی ٹیم میں شامل رہنے سے محروم رہے۔کرکٹ کے حلقوں کے مطابق وہ پاکستان کی نمائندگی کے لیے ہر معیار پر پورا اترتے تھے لیکن بعض لوگوں کویہ بات ناگوار لگتی تھی کہ ا یک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے تین بھائی ٹیسٹ کرکٹرزہیں اور ان کی قومی ٹیم میں اجارہ داری قائم ہوگئی ہے۔1954ء کے دورۂ انگلینڈ کے لیے بہاولپورمیں ٹیم سلیکشن کے لیے کیمپ لگا،اس میں رئیس محمد بھی شامل تھے،ٹرائل میچ میں انہوں نے رنزبھی اسکور کیےبہترین بالنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے وکٹیں بھی لیں لیکن انہیں قومی ٹیم کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔ 1950میں سری لنکا کی ٹیم جب پہلی مرتبہ پاکستان کے دورے پر آئی تو ان کے ایک اور بڑے بھائی وزیر محمد کراچی اور سند ھ کی مشترکہ ٹیم کی جانب سے کھیلے۔

ان کے والد آرمی سے ریٹائر ہوکرغیر منقسم ہندوستان میںایک فیکٹری میں منیجر کی حیثیت میں کام کررہے تھے اور ساتھ میں ان کا اپنا کاروباربھی تھا۔1947ء میں ن کا خاندان ایک لانچ میں سوار ہو کر پاکستان پہنچا، جہاں معاشی مسائل منتظر تھے۔کچھ روز تک بھیم پورہ کے ایک مندر میں کے ہال میں ان کا خاندان مقیم رہا۔اس زمانے میںوہ سٹی اسکول کی طرف سے کرکٹ کھیلتے تھے۔ حنیف محمد کے والد کوکینسرتھا اوروہ بیمار حالت میںپاکستان پہنچے، 1949ء میں ان کا انتقال ہوگیا،ن کی وفات کے بعد امیربی نے تنہا بچوں کی پرورش کا بوجھ سنبھالا۔۔1951میں ایک جاننے والےشخص کفیل الدین احمدنےنہ صرف حنیف محمد کو پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ میں روڈ انسپکٹرکی نوکری ملازمت دلوائی بلکہ انھیں گھر بنانے کے لیے زمین بھی دلوائی۔

حنیف محمدجب پاکستان آئے تو ان کی عمر 13برس تھی، اس دور میں نوزائیدہ مملکت میں کرکٹ کا جنون عروج پر تھا، جسے مہمیزدینے میں غیر منقسم ہند کے چند سابقہ کھلاڑیوں نے، جو اب پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ تھے، اہم کردار ادا کیا تھا۔ حنیف محمد نے اسکول کی ٹیم کے ساتھ کرکٹ کھیلنا شروع کی۔انہوںنےکھیل کا آغاز سندھ مدرسۃ الاسلام کراچی سے کیااور اسکول کی جانب سے کھیلتے ہوئے میٹنگ وکٹ پر 305 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور بیٹنگ ریکارڈ بنایا۔ ان کی یہ منفرد اننگز ساڑھے سات گھنٹے جاری رہی۔انہوں نے اس کارکردگی سے کراچی کے مستند کرکٹ کوچز کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی۔ ان کوچز میں سے ایک عبدالعزیز درانی تھے جنہوں نےحنیف محمد کو اپنی شاگردی میں لے لیا اور ان کی تربیت کرنے لگے۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے کرکٹر عبدالعزیزدرانی، جو رانجی ٹرافی میں جام نگر کی جانب سے کھیلے اور بھارتی کرکٹر سلیم درانی کے والد تھے۔ حنیف محمدکی بلے بازی کی مہارت کا حسن ان کا فٹ ورک تھا وہ بیک وقت فرنٹ اور بیک فٹ پر کھیلنے پر ملکہ رکھتے تھے اور یہ خاصا عبدالعزیز درانی کی وجہ سے ہی ان کی بلے بازی میں آیا تھا۔

کرکٹ کے ابتدائی میچز وہ سندھ مدرستہ الاسلام اسکول، کراچی جیم خانہ اور کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کھیلے ۔پارسی گراؤنڈ پر فرسٹ کلاس میچ کھیلتے ہوئے انہوں نے اسی زمانے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے سندھ الیون اور پنجاب الیون کے درمیان کرکٹ میچ منعقد ہوا جس میں انہوں نے پنجاب الیون کے خلاف 93رنز کی اننگز کھیلی جس میں ان کے مقابل فضل محمود اورخان محمد جیسے فاسٹ اور امیر الٰہی جیسے اسپن بالرنے گیند کرائی۔1950-51میں انہوں نے اپنے پہلے فرسٹ کلاس میچ میں ناردرن مسلم جیم خانہ کے خلاف سندھ کراچی کی جانب سے کھیلتے ہوئے آٹھ گھنٹے تک بیٹنگ کا ریکارڈ قائم کیا، اس اننگ میں انہوں نے 158رنز بنائے۔

قیام پاکستان کے بعد کراچی کے اسکولوں کے درمیان سالانہ ربی شیلڈ کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوتا تھا۔ یہ انگریزوں کے دور کا ٹورنامنٹ تھا اور تقسیم ہندسے پہلے سے منعقد ہورہا تھا۔اس ٹورنامنٹ کا انعقاد 1955ء تک پابندی سے ہوا۔ ربی شیلڈ نےپاکستان کو حنیف محمد کے علاوہ انتخاب عالم، والس میتھائس، اکرام الہٰی، خالد وزیر، اینتائو ڈی سوزا اور مناف جیسے ٹیسٹ کھلاڑی دئیے۔ 1950میں حنیف محمد نے پہلی مرتبہ اس ٹورنامنٹ میں حصہ لیا اور ایک میچ میں ٹرپل سنچری بناکر لوگوں کو محو حیرت میں ڈال دیا۔ اس وقت وہ صرف پندرہ برس کے تھے۔

نومبر 1951میں ایم سی سی کی ٹیم پاکستان آئی۔ حنیف محمد کو بھی اسکے خلاف میچ کھیلنے کا موقع ملا۔انہوں نےلاہور کے باغ جناح اسٹیڈیم میںبرطانیہ کی کرکٹ ٹیم، میریلیبون کرکٹ کلب(ایم سی سی) کے خلاف فرسٹ کلاس میچ میںڈیبیو کرتے ہوئے سوا تین گھنٹے تک بیٹنگ کی اور 26رنز بنائے۔اس میچ میں انہوں نے پہلی مرتبہ اوپننگ بیٹسمین اور وکٹ کیپر کے طور پر شرکت کی تھی۔ اگرچہ انہوں نے انتہائی سست بیٹنگ کی تھی لیکن انگلش ٹیم کے نامور بالرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وکٹ پر جم کر کھیلے۔دوسرے میچ میں انہوں نے برطانوی کھلاڑیوں کی بالنگ پر خوب صورت شاٹس کھیلتے ہوئے، مدثر نذر کے والد نذر محمد کی شراکت میں 96رنز اسکور کیے اور وکٹ کے پیچھے دو کیچ لیے جب کہ ایک کھلاڑی کو اسٹمپ آؤٹ کیا۔ ایم سی سی کے اگلے میچ یونیورسٹیز الیون اور سندھ بہاولپور الیون سے ہوئے۔ حنیف محمد اور وزیر محمد نے سندھ بہاولپور الیون کی طرف سے کھیلتے ہوئے قومی ٹیم کو بڑا اسکور فراہم کیا۔ دوسرا غیرسرکاری ٹیسٹ ڈرا ہوا جس میں حنیف محمد نے 71 رنز بنائے۔

ایم سی سی کے بعد برطانیہ کی اے ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی اور کراچی جیم خانہ کرکٹ گراؤنڈ پرایک میچ منعقدہوا، اس میں حنیف محمد کے یادگار کھیل کی بدولت نہ صرف پاکستان ٹیم نے میچ میں کامیابی حاصل کی بلکہ اس جیت نے 1952میںپاکستان کو آئی سی سی سے ٹیسٹ اسٹیٹس دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس میچ میں 64 رنز کی اننگ کھیلی۔ پاکستان کے وزیر اعظم، خواجہ ناظم الدین اس میچ کے مہمان خصوصی تھے۔ کرکٹ کی عالمی تنظیم، امپیریل کرکٹ کانفرنس، جس کا نام تبدیل کرکےبعد میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل رکھ دیا گیا تھا، 1948میںپاکستان کرکٹ بورڈ کے قیام کے بعد پاکستان نے آئی سی سی کی رکنیت کے لیے درخواست دی ہوئی تھی۔ حنیف محمد نے مختلف مواقع پر کئی مرتبہ تہرے ہندسے پر مشتمل اسکور بنایا۔ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں برطانیہ کے دورے پر جانے والی پاکستان ایگلٹس میں شامل کرلیا گیا۔ اس دورے میں انہیں ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ برطانوی ٹیسٹ کھلاڑی ’’الفریڈ رچرڈ گاور‘‘ کے کوچنگ کیمپ میں شمولیت کا موقع ملا لیکن ان کا کھیل دیکھ کر گاور نے کہا کہ اس نوجوان کو تربیت دینے کی نہیں بلکہ اس سے کرکٹ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل حنیف محمد بھارت کے سابق ٹیسٹ کرکٹر ، ناؤ مل،جیو مل ما‘‘ کے زیر تربیت بھی رہےتھے۔

اسکول کے زمانے میں وہ اپنی ٹیم کے ساتھ لاہورآئے تومخالف ٹیم کے بولریاورسعید کوان کے کھیلنے کا اندازبہت اچھا لگا۔گھرجاکراپنے والد میاں محمد سعید کوبتایا،جوپاکستان کے پہلے غیرسرکاری ٹیسٹ میچ میں کپتان اورمعروف کرکٹرتھے،انھوں نےحنیف محمد کو اپنے گھر کھانے پرمدعو کیااور کرکٹ سے متعلق گفتگو کی۔دوران گفتگو، میاں سعیدنے انہیں اس موقع پر نصیحت کی کہ’’ تمہارے اندر بے شمار صلاحیتیں ہیں اور تم اس کھیل میں بہترین مقام بناؤگے، لیکن تمہاری کتنی ہی عمدہ پرفارمنس کیوں نہ ہوکبھی اپنے کالرکھڑے نہ کرنا، یعنی تکبر نہ کرنا‘‘۔

1951میں جب عبدالحفیظ کاردار، میاں محمد سعید کی جگہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے تو انہوں نے باصلاحیت کھلاڑیوں کی تلاش کے لیے مختلف شہروں کے دورے کیے اور فرسٹ کلاس میچز میں نوجوان کرکٹرز کی کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بہ غور جائزہ لیا۔ کراچی کے چند میچوں میں انہوں نے حنیف محمد کا کھیل بھی دیکھا اور انہوں نے اس 17سالہ نوجوان کو قومی ٹیم کے لیے منتخب کرلیا۔پاکستان کی انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز1952میں بھارت کے دورے سے ہوا۔پاکستانی ٹیم میں سینیئر کھلاڑیوں کے ساتھ حنیف محمد اور ان کے بھائی وزیر محمد بھی شامل تھے۔

10اکتوبر 1952کو مہمان ٹیم نے اپنا افتتاحی تین روزہ میچ امرتسر میں نارتھ زون کے خلاف کھیلا۔ 17سالہ حنیف محمد نے اس میچ میں حیران کن بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے دونوں اننگز میں سینچریاں بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے دو روز بعد دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میںپاک، بھارت ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ منعقد ہوا۔ حنیف محمد اس دور میں اسکول کے طالب علم تھے جب کہ ان کے مقابلے میں لالہ امرناتھ اور وینومنکڈ جیسے دنیا کے نام ور بالر تھے۔ لیکن انہوں نے جس طرح ان کی گیندوں کو کھیلا، اس پر کرکٹ کے ناقدین محو حیرت رہ گئے۔ انہوں نے اس میچ میں اپنی نصف سینچری مکمل کی، اس میچ کے دوران بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو بھی اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ انہیں ابتدا میں وکٹ کیپراور اوپنر کی حیثیت سے کھلایا گیا لیکن عبدالحفیظ کاردار نے ان کی پوزیشن تبدیل کرکے امتیاز احمد کو وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری دے دی۔ اس کے لیے یہ جواز بنایا گیا کہ کم سن، حنیف محمد کے ہاتھ بہت چھوٹے ہیں جن سے وکٹ کے پیچھے گیند پکڑنا مشکل ہوتا ہے جب کہ وہ بلا ّمضبوطی سے پکڑتے ہیں اس لیے ان کی توجہ صرف بیٹنگ پر مرکوز رکھنے کے لیے انہیں وکٹ کیپنگ سے ہٹایا گیا ہے۔ دورہ بھارت کے دوران انہوں نے ممبئی ٹیسٹ سے قبل سائیڈ میچز کھیلے۔ انہوں نے ناگ پور میں ممبئی الیون کے خلاف ڈبل سینچری اسکور کی۔ ٹیسٹ میچ میں بھارتی ٹیم کے خلاف انہوں نے 360منٹ تک بیٹنگ کی اور نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے، وہ پہلے پاکستانی کھلاڑی جو چند رنز کی کمی کی وجہ سے اپنی سینچری مکمل نہ کرسکے اور آؤٹ ہوگئے۔انہوں نے اپنے کیریئر کی پہلی ٹیسٹ سینچری بھرات کے دورے کے دورزان ہی بنائی۔ کمنٹری باکس میں بیٹھ کر اس وقت دنیاکے دو مشہور کمنٹیٹرز،مہاراجہ ہزیانگرم اور ڈاکٹر وجے آنند اس کم سن بیٹسمین کی بیٹنگ کے جوہر دیکھ رہے، ساڑھے پانچ فٹ قامت کے حنیف محمد گراؤنڈ میں موجود تمام کھلاڑیوں میں سب سے چھوٹے لگ رہےتھے ۔ اس موقع پر ان د ونوں کمنٹیٹرز نے حنیف محمد کو ’’لٹل ماسٹر‘‘ کا خطاب عطا کیا، جو بعد میں ان کے نام کا ایک جزو بن گیا۔ اس کے بعد یہ خطاب بھارتی کرکٹرز سنیل گواسکر اور سچن ٹنڈولکر کو دیا گیا لیکن خود ٹنڈولکرنے ایک موقع پر تسلیم کیا کہ حقیقی لٹل ماسٹرصرف حنیف محمد ہی ہیں۔

1954-55میں میلورن کرکٹ کلب کی ٹیم دوبارہ پاکستان کے دورے پر آئی۔اس کا پہلا میچ کراچی میں گورنر جنرل الیون کے خلاف ہوا جوپاکستان ہار گیا۔ دوسرا میچ لاہور میں کھیلا گیا اس میں کاردار نے بیٹسمینوں کو سست رفتاری سے بیٹنگ کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر حنیف محمد نے 525منٹ تک بیٹنگ کرتے ہوئے تاریخ کی سست ترین سینچری بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔1958میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے دوران ایک ایسا عالمی ریکارڈ بنایا جوآج تک ناقابل شکست ہے۔ یہ کارنامہ انہوں نے بارباڈوس میں کھیلے جانے والے برج ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران انجام دیا۔ اس دور میں آج کی طرح کھیل کی سہولتیں دستیاب نہیں تھیں اور بلے بازوں کو ہیلمٹ، چیسٹ گارڈ اور تھائی گارڈ کے بغیر فاسٹ بالنگ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اس لیے زیادہ تر بالر ان کی بالنگ کے دوران خائف رہتے تھے اور ذرا سی غلطی پر آؤٹ ہوجاتے تھے۔ اس میچ کی پہلی اننگ میں حنیف محمد صرف 17رنز پر آئوٹ ہوگئے۔ اس میچ میںویسٹ انڈیز کے پہلی اننگز کے اسکور 579 کے مقابلے میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 106رنزبنا کر پر آئوٹ ہوگئی تھی۔دوسری اننگ میں بھی پاکستانی بیٹسمینوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن تھی اور میچ تیسرے دن وہ فالو آن کا شکار ہوگئی تھی ۔ اننگ کی شکست سے بچنے کے لئے پاکستان کو 476 رنز درکار تھے۔ چھ روزہ ٹیسٹ میچ کے ساڑھے تین دن باقی بچے تھے۔ زیادہ تر پاکستانی کھلاڑی آؤٹ ہوکر پویلین واپس جاچکے تھے اور پاکستان کو اپنی شکست یقینی نظر آرہی تھی۔ اس موقع پر حنیف محمد نے ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بالرز کا جم کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے حنیف کو آؤٹ کرنے کے لیے انتہائی خطرناک انداز میں باؤنسرز کرائے جن میں سے کئی گیندوں پر وہ زخمی ہونے سے بچے،لیکن وہ انتہائی استقامت کے ساتھ بیٹنگ کرتے رہے۔ گلکرسٹ کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے تیز ترین بالرز میں ہوتا تھا لیکن حنیف وکٹ پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے 970منٹ تک بیٹنگ کرتے ہوئے 337رنز بناکر پاکستان کوشکست سے بچالیا، پاکستانی کپتان نے 657رنزکے اسکورپر اننگ ڈیکلیئر کرکے میچ ڈرا کرالیا۔ حنیف محمد نے اس اننگ میں بیک وقت دو عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ ٹرپل سینچری اسکور کرنے والے دنیا کے چھٹے کھلاڑی بن گئے جب کہ انہوں نے دیر تک وکٹ پر ٹھہرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا جو آج تک برقرارہے۔1959میں انہوں نے قائد اعظم ٹرافی میں کراچی الیون کی جانب سے حصہ لیا۔ بہاولپور الیون کے خلاف بیٹنگ کرتےہوئے انہوں نے 499رنز اسکور کیے اور ایک رن کی کمی سے وہ پانچویں سینچری بنانے سے محروم رہ گئے ۔ سر ڈان بریڈ مین کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سےبڑا اسکور کرنے والے دنیا کے پہلےبیٹسمین تھے۔ اس اننگز کی تکمیل پر انہیں پاکستانی صدر محمد ایوب خان اور ڈان بریڈ مین نےتحریری طور پر مبارک باد کے پیغامات بھیجے، اس میچ کی خاص بات یہ تھی کہ 11سالہ آنجہانی باب وولمرجو بعد میں پاکستان ٹیم کے کوچ بنے، اس ریکارڈ ساز اننگ کو دیکھنے کے لیے شائقین میں موجود تھے۔ ان کا یہ ریکارڈ 1994میں ویسٹ انڈین کرکٹر، برائن لارا نے 501رنز ناٹ آؤٹ بنا کر توڑا۔اسی سال دسمبر کے مہینے میں جب آسٹریلوی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تو امریکی صدر جنرل آئزن ہاور پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔ کراچی ٹیسٹ کے پہلے دن انہوں نے صدر ایوب خان کے ساتھ نیشنل اسٹیڈیم میں بیٹھ کر یہ میچ دیکھا۔ حنیف محمد کی بہترین پرفارمنس سے متاثر ہوکر امریکی صدر نے انہیں بلا کر ان سے ہاتھ ملایا۔ حنیف محمد کا شمار دنیا کے ان صف اول کرکٹرز میں کیا جاتا ہے جو ہر گیند کو اس میرٹ پر کھیلنے کے قائل تھے۔ کرکٹ ماہرین نے انہیں ’’ریورس سوئپ شاٹ‘‘ کا ماہر قرار دیا۔ ان کا ہر شاٹ ٹائمنگ کے اعتبار سے خاصا نپا تلا اور موقع کی مناسبت سے ہوتا تھا۔ وہ کسی بھی گیند کو غیر ضروری نہیں سمجھتے تھے، صرف اپنی نظریں گیند پر مرکوز رکھتے تھے، چاہے وہ لائن اور لینتھ سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ ان کی بیٹنگ کی بنیاد ان کی مستقل مزاجی، صبر و تحمل پر مبنی تھی۔ اعصاب لمحات میں وہ حیرت انگیز بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے تھے۔ حنیف محمد بہترین بالر بھی تھے، وہ بہ یک وقت دائیں اور بائیں ہاتھ سے بالنگ کرتے تھے۔1959میں ویسٹ انڈیز کے دورہ پاکستان کے موقع پرایک میچ کے دوران ان کا گھٹنا زخمی ہوگیا جس کی وجہ سے وہ سیریز کے دو میچ کھیلنے سے محروم رہے۔1964میں انہیں قومی ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا اور انہوں نےگیارہ ٹیسٹ میچوں میں قومی ٹیم کی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں پاکستان کو دو میچوں میں فتح اور دو میں ہار نصیب ہوئی جب کہ سات میچ برابر رہے۔ انہوں نے بحیثیت کپتان اپنا آخری میچ 24 اگست 1967 کو انگلینڈ کے خلاف لندن کے اوول کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جو پاکستان آٹھ وکٹوں سے ہار گیا۔ ماہرین انہیں ایک محتاط کپتان خیال کرتے تھے۔

حنیف محمد واحد پاکستانی کرکٹر ہیں جن کا تذکرہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں موجود ہے۔ 1955 میں شائع ہونے والے پہلے ایڈیشن میں پاکستانی لیجنڈ کرکٹر کانام سست ترین سنچری اسکورکرنے والے بلےباز کے طور پر کیا گیا ہے۔

گنیز بک کے مطابق حنیف محمد نے 55- 1954میں بہاول پور کے مقام پر بھارت کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے جو اسکور (142 رنز)کیا تھا، اس میں ابتدائی سو رنز 7 گھنٹے 48 منٹ میں مکمل ہوئے تھے ۔ یہ اس وقت دنیا کی سست ترین ٹیسٹ سنچری کا عالمی ریکارڈ تھاگنیز بک کی پوسٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دنیا کی سست ترین ڈبل سنچری انگلش بلے باز ایس جی بارنی نے 1946-47 میں سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے ٹیسٹ میچ میں 10 گھنٹے 42 منٹ میں اسکور کی تھی

حنیف محمد کا ٹیسٹ کیریئر 1952 سے 1969 تک 17 برسوں پر محیط رہا، انہوں نے مجموعی طور پر 55 ٹیسٹ میچز کھیلے، جن کی 97 اننگز میں بیٹنگ کی۔ آٹھ مرتبہ ناٹ آؤٹ رہے. بارہ سینچریوں اور پندرہ نصف سنچریوں کے ساتھ3915 رنز بنائے۔انہوں نے ہوم اور غیرملکی گراؤنڈز پر یکساں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔اپنے کیریئر میں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچز انگلینڈ کے خلاف کھیلےاوراٹھارہ میچوں میں تین سینچریاں اسکور کیں۔ زیادہ سے زیادہ اسکور 187ناٹ آؤٹ رہا۔ یہ اننگز انہوں نے جولائی 1967 میں لارڈز کے میدان میںکھیلی۔برٹش ٹیم کے خلاف کھیلتے ہوئے انہوںنے تیرہ کیچ بھی پکڑے۔بھارت کے خلاف انہوں نے پندرہ میچ کھیلے، جن میں رنز اسکور کرنے کے علاوہ انہوں پانچ کیچ بھی پکڑے۔ بالر کی حیثیت سےکیریئر کی واحد وکٹ بھارتی کھلاڑی ’’پناں مل پنجابی‘‘ کو بولڈ کرکے حاصل کی۔نیوزی لینڈ کی ٹیم کے خلاف انہیں دس ٹیسٹ میچز کھیلنے کا اعزاز حاٹل ہے، جن میں سے تین نیوزی لینڈ اور سات پاکستان میں منعقد ہوئے۔ انہوں نے 238فرسٹ کلاس میچز بھی کھیلے جن میں انہوں نے 55سینچریاں بنائیں جب کہ 53وکٹیں حاصل کیں۔ حنیف محمد کے ساتھ سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ ان کے بیش بہا کارناموں کے مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ یا حکومت کی جانب سے آج تک نقد انعامات نہیں دیئے گئے۔

کرکٹ کی افسانوی شخصیت حنیف محمد کا کیریئر کھیل کے بہترین ریکارڈز سے مزین ہے سےلیکن ان کے سترہ سال کیریئرمیں کچھ تنازعات بھی رونما ہوئے، اس عظیم کھلاڑی کے کرکٹ کیریئر کا اختتام بھی انتہائی افسوس ناک انداز میں ہوا اور انہیں جبری طور سے ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا گیا۔عبدالحفیظ کاردارکا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے حنیف محمدکے کرکٹ کیریئر کو پروان چڑھانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیاتھا۔ انہوں نے کلب کرکٹ کھیلنے والے نوعمر کھلاڑی، حنیف محمد کو قومی ٹیم کے لیے منتخب کیااور انہوں نے، کاردار کی قیادت میں اپنے ٹیسٹ کیرئیرکا آغازکیا۔کھیل میں حنیف کی مہارت اور کارہائے نمایاں انجام دینے کی وجہ سے کاردار کو کرکٹ کے معاملات میں ان کی سوجھ بوجھ پرکافی بھروسہ تھا اور اکثر معاملات میں وہ ان سے مشاورت کرتے تھے لیکن ان کے کیریئر کا اختتام بھی انہی کے ہاتھوں انجام پایا۔24اکتوبر1969 انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی اورآخری مرتبہ محمد برادران میں سے تین بھائی حنیف محمد، صادق محمد اور مشتاق محمدنیوزی لینڈ کے خلاف کھیلنے کے لیے میدان میںآئے، چار روزہ ٹیسٹ میچ ڈرا ہوگیا۔نیوزی لینڈ سے میچ کے بعدقومی ٹیم کے چیف سیلکٹر اے ایچ کاردارنےسلیکٹر وزیرمحمد کو حنیف محمد سے ریٹائرمنٹ کے لیے دباؤ ڈالنے کی ذمہ داری سونپی تووزیرنے انکارکردیااورکہا کہ ابھی حنیف تین چارسال کرکٹ کھیل سکتا ہے۔

اس پرکاردارنے اخبارنویسوں کوڈریسنگ روم میں بھیج دیا اور انہیں کہاکہ حنیف کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ جب اخباری نمائندے حنیف کے پاس توانہوں نے کہا کہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔اس کے فوراً بعد کاردارخودلٹل ماسٹر کے پاس آئے اورکہنے لگے کہ ایک دن سب کوریٹائرہونا ہے، اس لیے انہیں ریٹائرمنٹ کا اعلان کردینا چاہیےان کے دو چھوٹے بھائی مشتاق محمد اور صادق محمد بھی ٹیم میں شامل ہیں، اس لیے انہیں ان کا خیال کرنا چاہیے،یہ ایک طرح سے دھمکی تھی کہ اگرحنیف نے ریٹائرمنٹ نہ لی توان کے بھائیوں کا کیرئیرمتاثرہوسکتاہے۔انہیں1958 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا جب کہ 1967کے ’’وزڈن کرکٹر آف دی ایئر‘‘ کے پانچ بہترین کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا۔ 2009 میں حنیف محمد کو انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے نام ور کرکٹ کھلاڑیوں کی اولین فہرست ’’ہال آف فیم‘‘ میں جاوید میاں داد اور عمران خان کے ساتھ شامل کیا گیا۔

حنیف محمد کا آسٹریلیا کے خلاف میلبورن میں 4 دسمبر1964 میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ ان کی ’’اسپورٹس مین اسپرٹ‘‘ کے حوالے سے یاناقابل فراموش قرار دیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے پہلی اننگز میں 104 رنز بنائے تھے۔ دوسری اننگز میں جب وہ 93 پر پہنچے تو انہیں ایمپائرکی جانب سے اسٹمپڈآؤٹ قراردیاگیا جو واضح غلطی تھی۔ تاہم حنیف محمد نے بغیر کسی چون و چرا کے کریز چھوڑ دی۔ بعد ازاں ایمپائرنے پریس کانفرنس میں اپنی غلطی تسلیم کی اور کہا کہ ان کا حنیف محمد کو آئوٹ دینے کا فیصلہ غلط تھا۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پی آئی اے کی کرکٹ ٹیم کے منیجر اور کوچ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔1972سے تک انہوں نے ایک کرکٹ میگزین میں ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔11اگست 2016میں کینسر کے عارضے کی وجہ سے اس عظیم کرکٹر کا انتقال ہوگیا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 79421 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Oct, 2017 Views: 504

Comments

آپ کی رائے