ورلڈالیون کی آمد۔ تازہ ہوا کا جھونکا

(Wisal Khan, )

دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ نے جہاں پاکستان کے دیگرتمام شعبوں کاکباڑاکیاوہاں اس سے کھیلوں کی سرگرمیاں بھی متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکیں یہ بات مسلمہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی کھیل کاٹیلنٹ ناصرف موجودہے بلکہ بکھراپڑاہے بس اس ٹیلنٹ کوتلاش کرنے اورمواقع ملنے کی دیرہے یہ دنیاکے کسی بھی کھیل اورکسی بھی میدان پراپنی اہلیت کے جھنڈے گاڑسکتاہے انتہائی ناکافی سہولیات ، حکومتوں کی عدم توجہی ،عدم تعاون اورعدم سرپرستی کے بغیرہم کرکٹ کے تقریباً تمام بڑے ٹائٹلز،سکواش کے تمام چھوٹے بڑے کپ اورٹورنامنٹس اورہاکی کاہرایونٹ جیت چکے ہیں ان میں سے کچھ کھیل ایسے بھی ہیں جواب تقریباًپاکستان سے ناپیدہورہے ہیں جن میں سکواش اورہاکی سرفہرست ہیں یہ دونوں ایسے کھیل ہیں کہ کسی زمانے میں کسی بھی بین الاقوامی ٹورنامنٹ کے شروع ہونے سے پہلے اس کھیل کے بین الاقوامی تمام پنڈت پاکستان کے فتح کی پیشنگوئی کرتے تھے مگرآج یہ عالم ہے کہ ہاکی میں ہم ورلڈکپ کیلئے کوالیفائینگ راؤنڈزکھیلنے پرمجبورہورہے ہیں جبکہ سکواش کے ٹاپ ٹوینٹی میں بھی شائدہماراکوئی کھلاڑی موجودنہیں دیگرکھیلوں کی تنزلی اورتباہی کے متعددوجوہات بیان کئے جاسکتے ہیں ایک توکرکٹ کواس قدربھرپورتوجہ دی گئی کہ اسکے سامنے تمام کھیل ناصرف ماندپڑگئے بلکہ اسکی مقبولیت ہی ملک سے ختم ہوگئی دوسرے حکومتوں نے کھیلوں کی سرگرمیوں پرکوئی توجہ نہیں دی اورجوبرائے نام توجہ دیگئی وہ بھی اپنی پبلسٹی کیلئے تھی کسی کھیل کی مخلصانہ سرپرستی نہیں کی گئی کھیلوں کیلئے مختص فنڈزکادرست استعمال نہیں کیاگیابلکہ ہماری روایت کے مطابق ان فنڈزپرجس کابس چلااس نے ان پرہاتھ صاف کرنے کی بھرپورکوشش کی لے دے کے ایک کرکٹ ہے جس سے کرکٹ بورڈ کوآمدنی بھی ہوتی ہے اورعوام کی جذباتی وابستگی بھی اسکے ساتھ ضرورت سے زیادہ موجود ہے ذرا واضح الفاظ میں یہ کہاجاسکتاہے کہ اس کھیل نے خودکوخودہی منوایااورزندہ رکھاورنہ یہاں کسی کوکرکٹ کے زندہ رکھنے کاکوئی شوق نہیں تھایہاں توعدم توجہی کایہ عالم ہے کہ ملک کے اربوں روپے سے بنائے گئے گراؤنڈزویران ہوگئے وہاں الوبولنے لگے مگرکسی کے کان پرجوں تک نہیں رینگی دنیاکی تاریخ میں شائدپہلی بارکسی ملک میں دوسرے ملک کی کرکٹ ٹیم پرقاتلانہ حملہ ہواکھلاڑیوں کوگولیاں ماری گئیں انہیں زخمی کرکے ہسپتالوں میں پہنچایاگیامگرایٹمی طاقت رکھنے والاملک اپنے مجرموں کوکیفرکردارتک پہنچانے میں ناکام رہادنیاکی چھٹی فوجی قوت اپنی سرزمین پرغیرملکی کھلاڑیوں کوزندگی کاتحفظ تک فراہم کرنے قاصررہی مجرموں کوقرارواقعی سزانہ ملی جس سے ناصرف کرکٹ کی مدمیں ملک اربوں روپے کے نقصان سے دوچارہوابلکہ دنیائے کرکٹ کے اہم مقابلوں کے انعقادسے بھی محروم ہوناپڑاکرکٹ کی مقبولیت کودیکھتے ہوئے یہ بلاجھجھک کہاجاسکتاہے کہ کسی ایک کرکٹ میچ کے انعقاد سے ملک کومعاشی اورمعاشرتی طورپرلاتعدادفوائدسمیٹنے کاموقع ملتاہے مگرحکومتیں اس جانب توجہ دینے کی بجائے سیاست چمکانے میں مصروف رہیں بھلاہوکرکٹ بورڈکے نئے چئیرمین جناب نجم سیٹھی کاجنہوں نے اپنے عہدے کاچارج سنبھالتے ہی ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے کوششوں کاآغازکیااس سلسلے میں پی ایس ایل کافائنل لاہورمیں کرانے کابولڈفیصلہ کیاگیاجس میں اگرچہ سٹارانٹرنیشنل کھلاڑیوں نے شرکت سے معذرت کی مگرنجم سیٹھی جیساان تھک اورمحنتی شخص اپنی ضدسے بازنہیں آیااوراس نے دیگرغیرملکی کھلاڑیوں کے ہمراہ لاہورمیں فائنل منعقد کرانے کاقابل قدرکارنامہ سرانجام دیااگرچہ آنے والے کھلاڑیوں کوپھٹیچراورریلوکٹے کہاگیامگرپھٹیچراورریلوکٹوں کے ساتھ منعقدکئے گئے فائنل کافائدہ یہ ہواکہ آج جوکھلاڑی پاکستان آئے ہیں ان کے نام اورمقام پرکوئی انگلی توکیااٹھائیگاکسی کے پاس انکے خلاف بولنے کیلئے ایک لفظ تک موجود نہیں ہے آج جوکھلاڑی پاکستان آئے ہیں پاکستان کے سابق کھلاڑی بھی اس پائے کے کھلاڑی نہیں تھے بہرحال ورلڈ الیون کے پاکستان آکرمیچزکھیلنابے حدخوش آئندہے اگرپی ایس ایل کافائنل بارش کاپہلاقطرہ تھاتو ورلڈ الیون کی آمد اس بارش کی مانندہے جس نے صحرامیں پھول کھلادئے ہوں اورہرسوں ہریالی نظرآنے لگی ہو طویل خشک سالی کے بعدبارش برسی ہے زمین سیراب ہوچکی ہے اب اس تیارزمین پرفصل کے کاشت کی ضرورت ہے کاش اس زمین کے مالک یاکسان کے پاس اہلیت ہواوروہ ایسی فصلیں اگانے کی منصوبہ بندی کرسکیں جس سے آنے والی نسلیں فائدہ اٹھاسکیں ورلڈالیون کے بعدویسٹ انڈیزٹیم کے پاکستان آنے کی امیدپیداہوچکی ہے خداکرے یہ معرکہ بھی سرہوتاکہ ملک کے سونے میدان آبادہوسکیں لاہورمیں ورلڈالیون کے تین میچوں کے دوران میلے کاسماں رہالاہوری گراؤنڈمیں میچز سے لطف اندوزہوتے رہے جبکہ پورے ملک کے کرکٹ شائقین ٹی وی پرمیچزدیکھ کراپنے پیاس کی تسکین کرتے رہے ملک کے ہرشہری اورکرکٹ شائق کی یہ شدیدخواہش ہے کہ انکے قریبی شہروں میں بھی میچزکاانعقادہویہ وقت اب زیادہ دورنہیں جب پورے ملک کے کرکٹ گراؤنڈزمیں بین الاقوامی میچزمنعقدہونگے جس سے صحت مندتفریح کے ساتھ ساتھ ملک میں دیگرکھیلوں کی سرگرمیوں کوبھی فروغ ملے گااورگھٹن زدہ ماحول سے نجات کے راستے ہموارہونگے ورلڈالیون کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے تمام میچوں میں شائقین کاجوش خروش دیدنی تھاتینوں میچزمیں گراؤنڈشائقین سے کھچاکھچ بھرچکے تھے اورلوگوں کے چہروں پرخوشی کے تاثرات دیکھنے لائق تھے تین میچوں کی سیریزپاکستان ٹیم نے دوایک سے اپنے نام کی ان میچوں میں احمدشہزاداوربابراعظم نے اپنی صلاحیتوں کالوہامنوایاجبکہ چیمپئینزٹرافی فائنل کے ہیروفخرزمان بجھے بجھے سے دکھائی دئے بابراعظم اوراحمدشہزادکی بیٹنگ صلاحیتوں سے انکارممکن نہیں مگرانگلینڈ آسٹریلیااورنیوزی لینڈ کی باؤنسی پچزپرانکی کارکردگی کوئی خاص نہیں انکے پاس کافی وقت پڑاہے انہیں اپنی صلاحیتوں کونکھارناہوگابڑابلے باز بننے کیلئے ہرقسم کی وکٹوں پرپرفامنس دینی ہوگی ورنہ ایک دو سیریزکھیلنے کے بعدانکی کیرئیرپرزوال آسکتاہے اسی طرح باؤلرزکوبھی اپنی خامیاں دورکرنے کی جانب توجہ دیناہوگی حسن علی ، شاداب خان اوررومان رئیس کی باؤلنگ میں وہ کاٹ دکھائی نہیں دی جو چیمپئینزٹرافی کے دوران نظرآرہی تھی امیدہے ہیڈ کوچ مکی آرتھراورچیف سیلیکٹرانضمام الحق اس جانب توجہ دیں گے تاکہ مستقبل میں ٹیم کوبہترین کھلاڑیوں کاساتھ دستیاب ہوسکے ایک مرتبہ پھرپاکستان کرکٹ میں اپناکھویاہواوقاربحال کرسکے اورٹیم کی بہترین کارکردگی سے دیگرٹیمیں مجبورہوں کہ وہ پاکستان آکرکرکٹ کھیلیں تاکہ لوگوں کے مرجھائے ہوئے چہروں پرخوشیاں بکھیرسکیں ورلڈ الیون کی پاکستان آمد کو تازہ ہواکاجھونکاہی قراردیاجاسکتاہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wisal Khan

Read More Articles by Wisal Khan: 80 Articles with 31848 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Sep, 2017 Views: 425

Comments

آپ کی رائے