اینٹی رائٹ فورس لاہور

(Fareed Ahmed Fareed, )

انسان کی تخلیق مٹی سے کی گئی انسان اپنی شعور کی وجہ سے دوسری ذی روح اجسام سے فوقیت رکھتا ہے اور اشرف المخلوقات کہلاتا ہے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام انسانوں کا باپ مانا جاتا ہے انسان کے خمیر میں اچھائی اور برائی کو برابر رکھا گیا ہے اور یہ انسان کی اپنی سوچ پر منحصر ہے کہ وہ اچھائی پر چل کر خود کو کامیاب بناتا ہے یا برائی کے رستے پر چل کر خود کو برباد کرتا ہے شروع انسانیت سے ہی انسان حق اور سچ کا متلاشی رہا ہے اور خود احتسابی کے عمل کو خود پر لاگو کرتا رہا ہے وقت کے ساتھ ساتھ جب انسان شعور کی منازل طے کرتا رہا تو انسان میں ایسی برائیاں عود کر آئی جس سے انسان نے منہ پھیرنا شروع کردیا اور یہ عادتیں معاشرتی بگاڑ کا باعث بننے لگی زمانہ جاہلیت کے بارے میں تو آپ جانتے ہونگے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت کے پہلے کا زمانہ تمام ادوار کے حساب سے اس دور کی حالت سب سے پتلی تھی چھوثی چھوٹی باتوں پر ایسی خون ریز جنگ و جدل کا بازار گرم ہوتا کہ خدا کی پناہ!پھر حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو آپ نے لوگوں کو ایسا شعور دیا جس جیسی روشن مثال آج تک دنیا میں نہیں ملتی لوگوں میں اتنا شعور آگیا کہ انسان نے خوداحتسابی کا عمل شروع کردیا جس سے انسان کے کردار اور لہجے میں واضح تبدیلی آگئی جب تک حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اس دنیا میں رہے آپ کے پیروکار صحابہ کرام میں خود احتسابی کا جذبہ بدرجہ اتم موجود رہا صحابہ کرام سے اگر کوئی غلطی سرذد ہوجاتی تو صحابہ کرام خود کو خود احتسابی سے عمل گزارتے جس سے ایک احسن اور اچھے معاشرے کی راہ ہموار رہی پھر حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کا دور آیا اور صحابہ کرام میں وہی جذبہ کارفرما رہا دور دراز کے علاقوں میں اسلام پھیلنے کی وجہ سے کثیر تعداد میں لوگ اسلام میں داخل ہوئے جس سے مشکلات تو پیش آئی لیکن ایک اچھے معاشرے کی راہ ہموار رہی خلیفہ اول کے بعد خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق کا دور شروع ہوا اس دور میں لوگوں کی اصلاح کے لیے ایسا محکمہ قائم کیا گیا جسے "الشرطہ" کا نام دیا گیا جسے ہم لوگ پولیس کا نام دیتے ہیں ہر ملک کے امن و امان کو قائم رکھنے کے لیے فوج کے ساتھ ساتھ پولیس کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے جو ملک کے اندرونی حالات کو قابو میں رکھتی ہے چوری چکاری،ڈکیتی،دہنگا فساد کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نپٹتی ہے چونکہ ہم پاکستان کے مشہور شہر لاہور سے تعلق رکھتے ہیں جہاں آئے روز کوئی نہ کوئی جلسہ جلوس احتجاج ہنگامہ آرائی ہوتی رہتی ہے جس سے پورے شہر کا نظام دھرم بھرم ہوجاتا ہے لاہور پولیس کے پاس ان کو منتشر کرنے کے لیے ایک فرسودہ سا نظام موجود تھا جس سے احتجاج کرنے والوں کا بے حد نقصان ہوتا احتجاج کرنے والے بھی تو ہمارے لوگ ہوتے ہیں تو پھر پولیس کے اعلی افسران سرجوڑ کر بیٹھ گئے کہ اپنی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی حفاظت کو بھی مقدم رکھا جائے اوراور کم سے کم نقصان کیا جائے تو ترکی کے تعاون سے ایسی فورس بنائی گئی جس کو "اینٹی رائٹ فورس"کا نام دیا گیا لاہور پولیس سے قابل افسران جس میں سب انسپکٹر حسن رندھاوا،سید حسن شاہ،حافظ خرم،فاروق اعظم، عابد علی،محمد محفوظ اور دوسرے اسسٹنٹ سب انسپکٹر جس میں فرحت اﷲ لودھی،ذکاء اﷲ اور علمدار حسین قابل ذکر ہیں ۰۴ رکنی ٹیم کو ترکی بھیجا گیا جس میں چھ خواتین بھی شامل تھی جنہوں نے انتہائی محنت اور جانفشانی سے ٹریننگ کی اور ان کو "ماسٹر ٹرینر" کا لقب دیاگیا ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد لاہور پولیس کی یہ40رکنی ٹیم ترک پولیس کے ایس ایس پی باریش صاحب کی زیرنگرانی وطن واپس پہنچی اور لاہور پولیس کے گیارہ سو اہلکاروں جس میں ستر کے قریب محترم خواتین بھی شامل ہیں کو جدید خطوں پر تربیت دی گئی اپنی جدید ٹریننگ اور کمال مہارت کی وجہ سے اینٹی رائٹ فورس نے جلد ہی اپنا مقام بنالیا اور اس فورس کی کمان ایسے شخص کے حوالے کی گئی جو اپنی ذات میں مکمل اور ہمہ جہت شخصیت ہیں انتہائی ملنسار اور خوش اخلاق وہ ہیں جناب ایس پی محمد نوید صاحب جن کے زیرسایہ ہر جوان انتہائی محنت اور ایمانداری سے اپنے اپنے فرائض کو سرانجام دے رہا ہے ہر جوان کے ذاتی مسائل کو حل کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں لاہور میں کوئی بھی جلسہ جلوس یا احتجاج ہوتا ہے تو اینٹی رائٹ فورس اپنے جدید سامان کے ساتھ فورا پہنچ جاتی ہے اگر ہجوم کو منتشر کرنا ہو تو بغیر کسی کا نقصان کیے ہجوم کو منتشر کردیا جاتا ہے پچھلے دنوں مال روڈ پر ینگ ڈاکٹر کے احتجاجی دھرنے کو کس خوبصورتی اور کمال مہارت سے نپٹایا گیا اس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اینٹی رائٹ فورس لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کے جوانوں کو چاک و چوبند رکھنے کے لیے پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں سب انسپکٹر حسن رندھاوا کی زیرنگرانی پیشہ ورانہ مشقیں وقتا فوقتا جاری رہتی ہیں جس میں ایس پی محمد نوید صاحب خود موجود ہوتے ہیں اور جوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ہیں،دعا ہے کہ اﷲ پاک ہمارا حامی و ناصر ہو اور ملک کے لیے کچھ کر دکھانے کا جذبہ اور ہمت عطا کرے ،آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ahmed Fareed

Read More Articles by Fareed Ahmed Fareed: 27 Articles with 12833 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Oct, 2017 Views: 543

Comments

آپ کی رائے