کرامت کا استعمال

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

 ایک شخص نے ایک بزرگ کی کئی سال خدمت، اس نیت سے، کی کہ اسے اس بزرگ سے کوئی کرامت مل جائے۔ وقت گزرتا گیا ، اور آخر اس بزرگ کا دنیا سے رخصت ہونے کا لمحہ آ گیا۔
اس نے اپنے اس خدمت گار سے پوچھا : ’تم نے ہماری اتنے سال خدمت کی ہے کچھ مانگنا چاہتے ہو تو مانگ لو ، ہو سکتا ہے خدا کی بار گاہ سے عطا ہو جائے‘۔
اس خادم نے موقعہ غنیمت جانتے ہوئے ، اس بزرگ سے گزارش کی :’ اﷲ کی بار گاہ سے مجھے کوئی کرامت لے دیں‘۔
بزرگ نے کہا :’ تم خود ہی بتاؤ کون سی کرامت لینے کو تمہارا دل کرتا ہے۔ پھر دعا مانگ لیتے ہیں‘۔
اس خادم نے کہا :’ آپ مجھے یہ کرامت لے دیں کہ جب میں مر جاؤں تو اپنے بیٹے کے ساتھ میرا رابطہ بحال رہے اور کسی چیز کے ذریعے ہماری ایک دوسرے تک پیغام رسانی رہے۔ میں زندگی میں اپنے بیٹے سے اکثر دور ہی رہا ہوں ، اب چاہتا ہوں کہ مرنے کے بعد میرا اس سے تعلق بنا رہے‘۔
بزرگ نے اپنے اس خادمِ خاص کے حق میں خدا کی بارگاہ میں دعا کی۔ دعا کو شرفِ قبولیت عطا ہوا اور اس خادم کو ادھر یہ کرامت میسر آئی، ادھر اس بزرگ کا انتقال ہو گیا۔ خادم نے شکر کیا کہ اتنے سالوں کی خدمت کا اسے بہت معقول صلہ مل گیا ہے۔
اس کرامت میں یہ بات بھی شامل تھی کہ اس شخص کے مرنے کے بعد بھی اس کے خاندان میں یہ کرامت باقی رہے گی اور اس کی آنے والی نسلیں بھی اس کی اس محنت سے فیض یاب ہوتی رہیں گی۔ جیسا کہ قرآنِ پاک کی سورہ کہف میں بڑوں کی نیکی چھوٹوں کے کام آنے کے تین واقعات حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کے درمیان بیان ہوئے ہیں۔دنیا کا دستور بھی یہی ہے، بڑوں کی وراثت چھوٹوں کے کام آتی ہے۔ اور قانون اس بات کو درست مانتا ہے۔
مدت گزرنے کے بعد اس شخص کا بیٹا جوان ہو گیا اور وہ شخص خود بوڑھا ہو گیا، جیسا کہ قانونِ فطرت ہے۔ ہر چیز اپنے کمال سے زوال کی طرف مراجعت کرتی ہے۔ اس نے اپنے بیٹے کو اس کرامت کا امیں بنا لیا اور ایک ہُد ہُد اس کام کے لئے رکھ لیا کہ وہ اس شخص کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر آیا کرے گا اور اس کا پیغام لا کر اس کے بیٹے کو سنایا کرے گا اور بیٹے کا جواب یا بات جا کر اس کے باپ کو اس کی قبر پر سنایا کرے گا۔ غیب سے ان کو اتنی استطاعت مل چکی تھی کہ وہ دونوں ہد ہد کی اور ہد ہد ان کی بات کو سمجھ سکتے تھے۔
اس شخص کا وقت پورا ہوا اور عزرائیل نے آکر اس کی روح قبض کی اور اس کی شریعت کے مطابق تدفین کر دی گئی۔ باپ اور بیٹے کا بھید تھا، کسی کو بتا نابھی نہ تھا اور دکھانا بھی نہ تھا۔
کچھ دن باپ بیٹے کے درمیان پیغام رسانی کا بہت مصروف سلسلہ چلا۔ بیٹا روزانہ پھولوں کے تحفے لے کے آتا اور اپنے باپ کی قبر پر پھولوں کی ایک چادر بچھا کر کافی دیر بیٹھا کچھ پڑھتا رہتا ،اور جی بھر کر دعائیں مانگنے کے بعد گھر واپس چلا جاتا۔ وہ قبرستان میں بیٹھ کر سوچتا کہ باقی قبروں والوں کے بیٹے ان کے پیچھے کیوں نہیں آتے۔ قبرستان اتنا ویران کیوں ہے۔ آخر یہ سارے لوگ بھی پیچھے اپنے خاندان چھوڑ کر آئے ہیں۔ وہ اپنے دل ہی دل میں کہتا کہ میں تو اپنی زندگی کے آخری دن تک روزانہ اپنے باپ کی قبر کی زیارت کے لئے آتا رہوں گا۔ میری محبت کبھی کم نہ ہو پائے گی۔
پھر آہستہ آہستہ بیٹے کی مصروفیات میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کے پاس ہد ہد کی بات سننے کا وقت ملنا مشکل ہو گیا۔ کبھی ہد ہد ایک دن میں کئی بار آتا جاتا تھااور دونوں باپ بیٹے کے درمیان پیغام رسانی کرتاتھا۔ بیٹا گھر کی تمام چھوٹی موٹی باتیں باپ سے شیئر کرتا اس سے مشاورت کرتاتھا۔ اور مشاورت کی روشنی میں اقدامات اٹھاتا۔ ادھر باپ اس کو قبر میں پیش آنے والے حالات و واقعات سے آگاہ کرتا۔لیکن آہستہ آہستہ اس آمدورفت میں کمی واقع ہوتی گئی۔
اس کے باپ کی قبر بھی اب باقی قبروں کی طرح ویرانی کا منظر بن چکی تھی۔ اس پر اب پھولوں کی کیاریاں اپنا جلوہ نہیں بکھیرا کرتی تھیں۔ اور اس کے پاس اپنے باپ کی قبر پر حاضری کا وقت بھی میسر نہ تھا۔۔
اب ہد ہد آتا ، صبح سے شام تک بیٹے کے پاس اس کی بات سننے کا وقت ہی نہ نکلتا۔ وہ شام کو جا کر باپ کو بیٹے کی مصروفیت کا حال بتا دیتا۔ باپ اپنے بیٹے کی خوشحالی کے لئے مذید دعا کر دیتا۔ لیکن دل ہی دل میں بہت کڑھتا کہ ایسی بھی کیا بات ہے کہ بیٹے کے پاس اس کی بات سننے کا وقت ہی نہیں۔اسے اپنی اتنی محنت سے حاصل کی گئی کرامت بے کار سی لگنے لگتی۔
اس طرح بیٹا مصروف اور زیادہ سے زیادہ خوش حال ہوتا گیا۔ اور باپ سے اس کا رابطہ پہلے ایک دن چھوڑ کر پھر ایک ہفتہ چھوڑ کر اور پھر سال چھوڑ کر ہوتا رہا۔ الغرض وقفے کا دورانیہ بڑھتا گیا اور آخر باپ نے اپنے بیٹے سے رابطے کی آس ختم کر دی اور اپنی زندگی کے قیمتی سالوں کے بدلے میں مانگی گئی کرامت کی جگہ کچھ اور مانگ لینے میں بہتری کا احساس ہوتا ، لیکن اب وقت گزر چکا تھا۔ لیکن خیر اس کی اولاد کے پاس یہ کرامت رہے گی۔
اب اس کا بیٹا بھی بڑہاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا اور اب اس کے اور اس کے بیٹے کے ما بین وہ کرامت ایک بار پھر سے اپنی افادیت دکھانے والی تھی۔
وقت کے خاموش لمحے صدیوں کا سفر طے کرنے کے باوجود بھی نہیں تھکتے۔اور چلتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اور ہر مسافر کو اس کے اسٹیشن پر اتارکے چپکے سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
اب اس بیٹے نے اپنے بیٹے کو اس کرامت میں شامل کیا اور اپنے درمیان اسی ہد ہد کو پیغام رساں رکھ لیا کہ وہ اب اس باپ بیٹے کے درمیان پیغام رسانی کا فریضہ ایک بار اور ادا کرے۔ اس ہد ہد نے یہ کام ایک وقت کے کھانے کے بدلے لے لیا۔
باپ فوت ہو گیا، بیٹے نے باپ کی قبر پر روزانہ کی حاضر اپنا معمول بنا لی اور پھر اس ہد ہد کے ذریعے اپنے باپ سے گھنٹوں بات کرتا رہتا۔ آہستہ آہستہ اس کا دل سنبھل گیا اور پھر دنیا کے کام کاج نے اسے اپنی طرف نہ صرف بلا لیا بلکہ اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کا روزانہ کا معمول آہستہ آہستہ ہفتے وار ، اور پھر ماہ وار ہوگیا۔ اور چند مہینوں بعد سالانہ میں ڈھل گیا۔
ہد ہد ایک بار پھر اس انتظار میں رہنے لگا کہ بیٹے کے پاس اپنے مرحوم باپ کی بات سننے کا وقت نکل آئے لیکن کئی کئی گھنٹے نکل جاتے لیکن دو منٹ کا وقت نہ نکلتا۔ ہد ہد اپنے فریضہ کی ادائیگی میں ذرہ برابر بھی غفلت نہ کرتا۔لیکن وہ اپنا دوپہر کا وقت قبرستا ن میں ایک گھنے درخت کی شاخوں میں بیٹھ کر گزارتا، ادھر ادھر سے کچھ دانا دنکا چگ لیتا اور پھر شام کو جا کر دیکھتا تو بیٹا اب بھی اپنے کام میں مصروف ہی ہوتا۔ اس طرح اس کی دلچسپی میں بھی کمی آتی گئی اور اسے اس سے پہلے کے معاملے اور اس معاملے میں بڑی یکسانیت محسوس ہوئی۔
پہلے، دوسرے اور پھر تیسرے باپ بیٹے کے درمیان بھی یہی معاملہ رہا ۔ اس کے بعد آنے والے تمام باپ ،بیٹوں کے درمیان یہ معاملہ اسی طرح ہی چلتا رہا اور آج بھی ایسے ہی چل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نتیجہ: دراصل انسان، دوسروں کو بہت جلدبھلا دیتا ہے۔ اسے جیسے ہی آسانی اور خوش حالی میسر آتی ہے وہ دوسروں کو یاد کرنا بند کر دیتا ہے۔ ’نانی یاد آنا‘ محاورہ اسی بات پر مبنی ہے کہ مشکل میں دوسرے یا پیارے یاد آتے ہیں اور آسانی اور عیش میں کوئی یاد نہیں کرتا بلکہ جب خوش حالی آ جائے تو لوگ اپنے قریبی رشتہ داروں سے بھی کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ جب باپ بیٹے کا رشتہ پائیداری سے محروم ہو جاتا ہے تو پھر کوئی دوسرا رشتہ کیا اہمیت رکھ سکتا ہے۔قبرستان ویران اور بازار آباد ،یہ رویہ ہے دنیا کا ۔
اس لئے اپنے فرائض کی ادائیگی کی جائے ، مناسب محبت بھی رکھی جائے لیکن اپنے آپ کو دوسروں کے لئے نا گزیر نہ سمجھا جائے۔ وقت سب جذبات کو کھا جاتا ہے۔ لوگ اپنی مصروفیت کو باقی ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں۔ قدرت نے انسان کو جس حد تک اختیار اور قربت دی ہے شاید اتنی ہی زیادہ مناسب ہے۔ قدرت اپنے اندر بہت بڑی دانائی رکھتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 182060 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
13 Oct, 2017 Views: 341

Comments

آپ کی رائے