تحویلِ قبلہ

(Prof Akbar Hashmi, Rawalpindi)

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ۔

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وَّضِعَ للِنَّاسِ لَلِّذِیْ بِبَکَّۃَمُبَارَکًاوًّھُدًی لِّلْعٰلَمِیْن (سورۃ آل عمران ۔۱۰) بے شک سب سے پہلا مبارک گھر جو انسانوں کے لیئے بنا وہ ہے جو مکہ میں ہے اور تمام جہانوں کے لیئے مرکزِ ہدائت ہے۔تحویل ِ قبلہ کا پسِ منظر، مضمرات حکمتِ الہی،مقاصدکے بے شمار پہلو ہیں ۔بیت اﷲ کی کعبہ ہونے میں اولیت وافضلیت روز ازل سے ہے۔ قارئین کو اس کا پسِ منظر معلوم ہونا چاہیئے۔ نیز قبلہ کی ضرورت اور سیاست ِ انسانیت پر اسکے اثرات کیا ہیں۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے جنت سے زمین پر اتارا تو فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایک گھر بھی اتار رہا ہوں جو بیت المعمور کا پرتو ہے۔ کائینات کے مرکز میں ساتوں آسمانوں کے اوپر سماوی مخلوق کے طواف کے لیئے ایک گھر ہے جسے اﷲ تعالیٰ نے بیت المعمور فرمایا اور زمین کے مرکزی نقطہ پر عین بیت المعمور کی سیدھ میں اس گھر کو رکھ دیا گیا۔ یہ ایک مکاں ہے اس وقت اسکے درودیوار نہ تھے۔ پہلی تعمیر بحکمِ الٰہی فرشتوں نے کی ۔ حضرت آدم علیہ السلام کا نزول سرلنکا میں ہوا اور گھر دور تھا جبکہ اماں جی کو اس گھر کے قریب اتارا گیا۔ پھر اس گھر کے قریب ہی جبل رحمت پر دونوں کی گریہ و زاری وجہ تخلیقِ کائینا ت سیدالعالمین ﷺ کے وسیلہ سے اﷲ کے حضور قبول ہوگئی۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ اولادِ آدم کا زمین پر پہلا گھر مکہ معظمہ ہے۔ پہلی ھدائت کا چراغ حضرت آدم علیہ السلام نے ہی یہیں سے جلایا۔ یہ گھر اور یہ شہر اپنی اولیت میں یکتا ہے۔

ضرورت قبلہ:انسان کوئی بھی کام کرتا ہے تو اس کا رخ کسی نہ کسی سمت میں ہوتا ہے۔قبلہ کا تعین محض عبادت الٰہی میں نوعِ انسانی کے نظم و ضبط کے لیئے ہے اور یہ مسجود نہیں بلکہ مسجود الیہ ہے ۔ اﷲ اسکے کے اندر نہیں رہتا۔ اﷲ کا گھر محض ایک نسبتِ شرف ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی موحدانہ تعلیمات مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی گئیں۔ شیطان نے اپنا فریضہ ادا کرنے میں نہائت تندہی سے کام کیا۔ رحمتِ الہی بھی خوب جوش میں رہی۔ انبیاء کرام علیہھم الصلوٰۃ والسلام نے اﷲ کے دین کو اس کی مخلوق تک پہنچانے میں کما حقہ حق ادا فرمایا۔ آسمانی فرامین کو انسانوں نے پسِ پشت ڈالا اور آسمانی ھدائت کو ماننے کا دعویٰ کرنے والے صائبی ستارہ پرست ہوگئے ۔ یہ لوگ شمال کی طرف قطبی ستارے کے پجاری ہیں۔ عیسائی بیت المقدس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت اللحم کو قبلہ مانتے ہیں جبکہ یہودی ہیکل سلیمانی کو اپنا قبلہ مانتے ہیں۔اور مسلمان مکہ معظمہ میں موجود اﷲ کے گھر کو قبلہ مانتے ہیں۔ اولاد ِ آدم کی وحدت و یگانگت کے لیئے ایک مستقل قبلہ ہو نا ضروری تھا۔ قبلہ ایسی چیز ہوکہ جو ناقابلِ انتقال ہو اور سمتوں سے پاک ہو۔ کہ روئے زمین پر بسنے والے جہاں کہیں ہوں قبلہ کی سمت رخ کرکے عبادت الہٰی سر انجام دیں۔ قبلہ بھی ایسا ہوکہ اپنے وجود کی تاریخ سے مستحکم ہواور کسی قسم کی کمزوری اس کے استقرار میں نہ پائی جائے۔ تمام مخلوق اﷲ کا کنبہ ہے یعنی اسکی مخلوق ہے ۔ سب کا خالق و مالک و معبود وہ ایک ہی ہے لھذامخلوق کا فکر و عمل میں یکسو ہونا ضروری ہے۔ ہدائت کو ماننے والوں کی وحدت ملی کو قائم رکھنے کے لیئے ایک مستحکم قبلہ انکی فکری اور فطری ضرورت ہے۔ سو اﷲ تعالیٰ علیم و خبیر نے ارضی مستقر پر حضرت انسان کی آمد سے قبل ہی قبلہ کو وجود دیدیا۔

تحویلِ قبلہ کا پسِ منظر: زمانہ گذرتا گیا ۔ انبیاء کرام علیہھم الصلوٰۃ والسلام آتے رہے جاتے رہے۔ لیکن ان سب کا مرکز یہ پہلا گھر ہی رہا۔ وہ فریضہ حج ادایہیں کرتے رہے۔ اس کا ثبوت ہے کہ حطیم میں ستر انبیاء کرام علیھم السلام مدفون ہیں۔ فرشتوں کے تعمیر کردہ بیت اﷲ شریف کو طوفانِ نوح میں اﷲ تعالیٰ نے اٹھا لیا۔ بیت اﷲ شریف کی تعمیر مختلف تاریخی روایات کے مطابق گیارہ تعمیر کندگا ن نے کی۱۔ فرشتے ۲۔ حضرت آدم علیہ السلام۔۳۔حضرت شیث علیہ السلام۔ ۴۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ۵۔ قومِ عمالقہ۔ ۶۔قبیلہ جرہم۔ ۷۔ قصیء بن کلاب رضی اﷲ عنہ۔۸۔قریش مکہ۔ ۹۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ۔ ۱۰۔ حجاج بن یوسف۔۱۱۔ سلطان مراد سلطانِ اسلام ترکی نے ۱۰۴۰ہجری میں ۔

بیت المقدس صخرہ کا قبلہ بننا:حضرت ابراہیم کے دو بیٹے تھے ایک سیدنا حضرت اسحٰق علیہ السلام اور سیدناحضرت اسمٰعیل علیہ السلام ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام عرب نہ تھے آپ کو عرب مستعربہ کہا جاتا ہے کہ آپ کی زبان بھی اور تھی۔ عربی زبان قبیلہ جرہم کی تھی اور بعد میں لغت عرب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پر اﷲ نے اتاری۔ اور اہل حجاز کی یہی عربی زبان تھی ۔ جب حضور سیدالاولین و آخرین ﷺ تشریف لائے تو لغت ِ عرب جدید نازل ہوگئی۔ آپ ﷺ کو جوامع الکلمات عطا ہوئے۔ یہی وجہ ہے بے شمار مقامات پر آپ نے کلام فرمایا تو عرب کے بڑے بڑے فصحا بلغا اور شعرا بے بس ہوگئے اور پوچھا یا رسول اﷲ ﷺ اس کا کیا مطلب ہے؟ پھر آپ ﷺ نے انہیں سمجھایا۔ اہل عرب صاحب الکلا م قادرالکلام اپنے سوا کسی کو سمجھتے ہی نہ تھے مگر ہزاروں اشعار زبان کی نوک پر رکھنے والے مرد اور عورتیں حضور ﷺ کے کلام کے سامنے زچ ہوگئے۔ یہی نہیں بلکہ آپ ﷺ نے کسی صحابی کو بیان کرنے کا فرمادیا تو وہ ایسے کلام افشاں ہوئے کہ ڈینگیں مارنے والوں کے ہوش اڑگئے۔ جیسا کہ ایک قبیلے کے کچھ چند شعرا کو لے کر حاضر ہوئے جو آپ ﷺ کی ہجو کرنے لگے آپ ﷺ نے حضرت حسان رضی اﷲ عنہ کو فرمایا کہ ان کو جوابدو۔ انہوں نے آقا کریم کی شانِ اقدس میں بتائید روح القدس ایسے نعت خوانی فرمائی کہ انکے شعرا شرمندہ ہوگئے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ علیہ السلام کے سامنے مصر کے جادوگروں کا حال ہوا تھا۔

خلیل اﷲ علیہ السلام پر آزمائش: اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی زوجہ اور نوزائیدہ بچے کو ہمارے گھر چھوڑ آؤ۔ اﷲ کے گھر کا بظاہر نام و نشان نہ تھا۔ اس کے پاس بیس قدم کے فاصلے پر بیوی بچے کو چھوڑ چلدیئے۔ پھر آپ علیہ السلام جب ثنیۃ کے مقام پر پہنچے تو بیت اﷲ کی طرف منہ کرکے دعا کی: رَبَّنَااِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍغَیْرِذِیْ زِرْعٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ ( سورۃ ابراہیم۔ ۳۷) (صحیح بخاری احادیثِ انبیاء)اے ہمارے رب میں اپنی اولاد میں سے بعض کو ایک بے زراعت میدان میں تیرے گھر کے پاس آباد کررہاہوں۔ آپ تشریف لے گئے مگر کبھی کبھار تشریف لاتے رہے۔ جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کام کاج کے قابل ہوئے تو حکمِ الہٰی کے تحت اﷲ کے گھر کی تعمیر کا حکم ہوا۔ اﷲ تعالیٰ نے بادل سے بیت اﷲ شریف کی جگہ نشان دہی فرمادی۔ حضرت ابراہیم نے پانچ پہاڑوں حراء، ثبیر، لبنان،طور اور جبل الخیر کے پتھروں سے تعمیر فرمائی۔ ان پہاڑوں سے پتھروں کا اکھیڑنا، لانا اور لگانا حضرت خلیل اﷲ علیہ السلام کا معجزہ ہے۔ ناممکن کو ممکن بنانا انبیاء کرام کا کام ہے۔ (تاریخ مکہ مکرمہ ص۔۳۵)تعمیر بیت اﷲ شریف میں مستری کا کام حضرت خلیل اﷲ علیہ السلام نے اور مزدور کا کام حضرت اسمٰعیل ذبیح اﷲ علیہ السلام نے سرانجام دیا۔ بیت اﷲ شریف تعمیر عظیم الشان عبادت الٰہی تھی قبولیت دعا کا محل تھاسو دونوں نے یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اوردعاؤوں میں مشغول رہے۔ یہیں اﷲ تعالیٰ نے آپ دونوں سے عہد لیا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ، رکوع و سجود کرنے والوں کے لیئے صاف ستھرا رکھیں۔ آج بھی اﷲ کے گھر کی صفائی پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہی ہے۔ ادھر اہل عرب اور دنیا بھر سے انبیاء کرام حج کے لیئے آتے رہے اور اﷲ کے گھر کی طرف رخ کرکے عبادت الٰہی کرتے رہے۔ دوسری طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے فرزند حضرت اسحٰق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے ملک شام و فلسطین میں تھے اور پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے شاہِ مصر بننے کے بعد سارا گھرانہ مصر چلا گیا۔ حضرت یعقوب علیہ کا دوسرا نام اسر ایل ہے یعنی عبداﷲ۔ اسی وجہ سے آپ اسرائیل مشہور ہوئے اور آپ کے بارہ بیٹوں کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ گستاخیوں اور بد اعمالیوں کی بنا پر فرعون کے محکوم ہوگئے ۔قرآنِ پاک میں فرعونی مظالم مذکور ہیں۔ وہاں سے صحرا ئے سینا آگئے۔ ان پر اﷲ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات بے انتہا ہوئے مگر ان کی اکثریت ناشکراور بداعمال نکلی۔ بنی اسرائیل میں مسلسل انبیاء کرام کی آمد جاری رہی۔ بعض کو جھٹلایا، ان پر ظلم کیا اور بعض کو شہید بھی کیا، کئی ایک پر گندے الزامات لگائے۔ مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو حکم دیا کہ اپنے گھروں کو قبلہ بنائیں۔ پھر حضرت داوؤدعلیہ السلام نے بیت المقدس شہر میں مسجد کی تعمیر کا ارادہ فرمایا جو بعد میں آپکے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ۱۳۰۰ سال بعد مسجد تعمیرکی اور اسے بنی اسرائیل کے لیئے بحکم الٰہی قبلہ قرار دیا۔ اس معبد کی تعمیر۶۱۲ ق م ۷ سال میں تعمیر ہوئی اور ۲ لاکھ افراد نے کام کیا ۔ فتح بیت المقدس کے وقت یہاں عمارت نہ تھی ۔ بعد میں عبدالملک بن مروان نے ۷۲ ہجری میں مسجد اقصیٰ اور صخرہ قبہ کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک وسیع قطعہ اراضی ۳۵ ایکڑہے جس میں مسجد اقصٰی اور قبۃ الصخرۃ ہیں۔ قبۃ الصخرہ ایک مقدس چٹان ہے جس پر قبۃ سب سے پہلے عبدالملک بن مروان نے بنوایا اور بعد میں کئی دفعہ زلزلوں سے نقصان پہنچا تو متعدد لوگوں نے بنوایا۔ عیسائیوں نے اپنے قبضہ کے دوران اس پر صلیب لگائی جو سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اﷲ علیہ دوبارہ قبضے کے بعداتاردیا۔ اس مقدس چٹان پر سرور عالمین ﷺ نے معراج شریف کی رات قدم مبارک رکھ کر براق کو شرف سواری بخشا۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کوہر لحظہ نئی شان عطا فرمائی جو انبیاء سابقین کو نہ ملی تھیں۔ انہیں میں معراج شریف ہے کہ راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیااور وہا ں جملہ انبیاء کرام علیہمالصلوٰۃ والسلام کا اجتماع جوبن پر تھا یہاں صرف انبیاء تھے اور روح القدس حضرت جبریل علیہ السلام ہم رکاب تھے ہی۔ اﷲ کے جملہ معصوم نبیوں کی امامت مہتمم بالشان امر تھا یہ حضرات آپ ﷺ کی آمد کی خوشخبریاں دیتے رہے اور آپکے توسل سے دعائیں کرتے رہے۔ لوگوں کو چند انبیاء کرام کے مزارات کے علاوہ کسی کے مزار کا علم نہیں کہ وہ زمین پر کہاں ہیں لیکن اﷲ علیم وخبیر نے سبھی کو وہاں زندہ صحیح سلامت اکٹھا فرمادیا۔کچھ انبیاء کرام زمین پر نہیں جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام چوتھے آسمان پر ، حضرت ادریس علیہ السلام جنت میں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت المعمور کے پاس ہیں۔ صفوفِ انبیاء میں سبھی شامل تھے۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب سیادت و امامت کا تاج بنی اسرائیل سے بنی اسمٰعیل میں منتقل ہوگیا۔ گویا کہ اﷲ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کی خاطر کیا کیا نہیں کرتا۔ اب یہاں آپکو تاجِ امام الانبیاء سے نوازا گیا۔در آں مسجد امامِ انبیاء شد ۔ صف پیشیناں را پیشوا شد۔ ایسی خوبصورت جماعت، کیا ہی مقتدی اور کیا ہی امام ۔ ایسی باجماعت نماز کائینات میں کہیں نہ ہوئی اور نہ ہوگی۔ یہاں اس بات کو ثابت کردیا گیا کہ سب نبیوں کی شریعتیں تاجدار انبیاء ﷺ کی شریعت کے تابع ہوگئیں اور تمام امتیں اب ان کی پیروکار ہوں۔نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سر عیاں ہوں معنی اول آخر ۔ کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کرگئے۔ اسکے بعد قبلہ کی تبدیلی لازمی امر تھا۔

اب یہاں سے آپ ﷺ نے الصخرہ چٹان پر قدم مبارک رکھے اور عالم ملکوت کی سیر کا آغاز فرمایا۔ معراج میں نماز کی فرضیت ہوگئی۔ آپ ﷺ نے واپس آکر تین سال تک مسجد الحرام میں اس طرح نمازیں ادافرمائیں کہ بیت اﷲ شریف کو سامنے رکھ کر بیت المقدس الصخرہ کی طرف رخ فرماتے۔ بعد ہجرت مدینہ پاک میں سمت بدل گئی مکہ معظمہ جنوب کو اور بیت المقدس شما ل کو تھا۔ تو آپ ﷺ نے مختلف روایا ت کے تحت ۱۶ یا ۱۷ ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نمازیں ادافرمائیں۔ لیکن آپ ﷺ بے چین رہے ۔ آپ چاہتے تھے کہ امت کی یکجہتی کے لیئے ازلی اور دین حنیف کے امین حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعمیر کردہ بیت اﷲ ہی قبلہ ہوجائے۔ اس دوران یہود طعن و تشنیع کرتے کہ آپ ﷺ دین لے کر آئے مگر رخ تو ہمارے قبلہ کی طرف ہی کرتے ہیں۔ بیت المقدس کے قبلہ ہونے کی صورت میں یہود منافقین مسلمانوں کے ساتھ نمازیں اداکرتے اور کہتے کہ قبلہ تو ہمارا ہی ہے ۔آقاکریم ﷺ ٍ یہود منافقین کی تمام حرکات اور ان کی باطنی غلاظت سے بخوبی آگاہ تھے۔ آپ ﷺ تحویل قبلہ کے لیئے بار بار آسمانوں کی طرف نگاہ مبارک بلند فرماتے کہ کب حکمِ باری تعالیٰ آتا ہے۔ اس امر قوی نے ظہور پذیر ہونا تھا کیونکہ دینا قیما ملۃ ابراہیم حنیفا کے مصداق قبلہ بھی قیم ہو۔ بیت المقدس کا قبلہ محض بنی اسرائیل کی آزمائش کے لیئے بنایا گیا۔ بیت المقدس حضرات انبیاء کرام علیہھم الصلوۃ والسلام کی سرزمین تو ہے لیکن یہ مستقل قبلہ نہ تھا۔ اور یہاں اب مکمل شریعت اور ہر امر کو مضبوط و مربوط اور مہتمم بالشان کیا جارہاتھا۔آپ ﷺ کے بعد کسی شارع یا مقنن کی آمد قطعی بند کردی گئی تھی۔انسانی زندگی اﷲ و رسول کی مرضی کے مطابق بسر کرنے کے لیئے مہتمم بالشان امور اور قواعد و ضوابط اﷲ اور اسکے رسول ﷺ نے وضع کردیئے۔

معراج شریف اور قبلہ کی تبدیلی: حضور ہمارے اعلیٰ و بالا آقاکریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم عالمِ بالا کی سیر کو جانے سے پہلے جب تمام انبیاء کرام علیہھم الصلٰوۃ والسلام کے امام ہوئے اور ولسوف یعطیک فترضیٰ جملہ خصوصیات اور انعامات میں مرضی کے مسجود الیہ کا ہونا بھی ختم المرسلین ﷺ کی شان کے لیئے ضروری تھا۔ ہم بھی اس پر نازاں ہیں کہ ہمارا قبلہ بھی شان میں نرالا اور اپنی شان آپ ہی ہے۔ کوئی ہمارے نبی جیسا نبی لائے، کوئی ہمارے قبلہ جیسا قبلہ تو دکھائے، کوئی ہمارے قرآن جیسی کتاب لائے، ہمارے شریعت جیسی شریعت تو دکھائے۔ ہمارا سر فخر سے کیوں نہ بلند ہو۔ مگر یہ سبھی کچھ تو اس ذات کا صدقہ ہے جوسب انبیاء کی امید ہیں۔

سیقول السفھاء ُ :حقیقی قبلہ کی طرف رخ کرنے سے پہلے اﷲ علیم و خبیر نے اپنے محبوب ﷺ کو یہود منافقین کی طعن و تشنیع سے مطلع فرمادیا۔ کہ اب بے وقوف کہیں گے کہ انہیں کیا ہوگیا ہے کہ کبھی بیت المقدس کو قبلہ بناتے ہیں اور کبھی کعبہ کو قبلہ ٹھہراتے ہیں۔ اس کا جواب فرمایا کہ مشرق و مغرب یعنی تمام اطراف اﷲ کی ہیں۔پوری کائینات میں اﷲ وحدہ کا حکم ہی چلتا ہے۔ بندوں کا کام ہے حکمِ الٰہی کی تعمیل کرنا۔ یہود کو اس امر کے بارے معلوم تھا کہ خاتم النبیین ﷺ کی چاہت پر اﷲ تعالیٰ الصخرہ بیت المقدس سے کعبہ کو قبلہ قرار دیا جائے۔ اور ساتھ ہی آپ ﷺ کی امت کو عظیم شانِ صداقت و شہادت عطافرمائی کہ آپ ﷺ کی امت کو امت وسط قرار دیا گیا۔ حضرت ابو سعیدخدری رضی اﷲ عنہ سے روائت ہے کہ سیدالعالمین ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا وہ کہیں گے لبیک و سعدیک یا ربِّ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا، وہ عرض کریں گے جی ہاں۔ پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے نہیں آیا۔ اﷲ فرمائے گا کہ کیا کوئی گواہ ہے ؟ تو حضرت نوح علیہ السلام کہیں گے کہ حضرت محمد مصطفٰے ﷺ اور آپ کی امت گواہ ہے۔ امت گواہی دے گی کہ بے شک انہوں نے تبلیغ کی۔ اور رسول پاک ﷺ امت کی گواہی کی تصدیق فرمائیں گے۔(بخاری شریف ص۔۶۴۵)
قد نریٰ تقلب وجھک فی السماء:ٍتحویل قبلہ کا واقعہ ۱۔ جمادی الاول۔ نصف شعبان بروز سہ شنبہ۔ نصف رجب بروز دو شنبہ

ان تین روایات میں مشہور ماہ رجب کی روائت ہے۔ اسی بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کی مدت بارے بھی روایات ہیں : سولہ ماہ، سترہ ماہ یا اٹھارہ ماہ۔ آقا کریم ﷺ ام بشر بن البرا بن معرور کی دعوت پر تشریف لے گئے۔ ابھی کھاناپک رہاتھا اور نماز ظہر کا وقت ہوگیا آپ ﷺ نماز ظہر کے لیئے تشریف لے گئے ۔ دورکعت ادا فرمائیں کہ تبدیلی قبلہ کا حکم بحالتِ نماز آگیا۔ (بخاری شریف ص ۵۷)دوسری روائت میں کہ آپ ﷺ مسجد بنی سلمہ میں نماز عصر پڑھا رہے تھے کہ تبدیلی قبلہ کا حکم آگیا۔ مرد آگے اور عورتیں پھر کر انکے پیچھے ہوگئیں بعض نے نمازِ ظہر بتائی۔

حضرت برا رضی اﷲ عنہ سے روائت ہے کہ حضور ﷺ نے مدینہ پاک میں ۱۶ یا ۱۷ ماہ بیت المقدس کی طرف نماز ادا فرمائی۔ اور آپ ﷺ چاہتے تھے کہ قبلہ بیت اﷲ شریف ہو۔ پھر آپ ﷺ نے نماز عصر ادا فرمائی اور لوگوں نے نماز ادا فرمائی۔ پھر ایک آدمی جس نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی تھی نکلا اور مدینہ پاک کی کسی مسجد میں لوگ رکوع میں تھے اس نے آواز دی کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اﷲ ﷺ نے مکہ معظمہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔ (بخاری شریف جلد دوم ص۔۶۴۴)

تبدیلی قبلہ میں بنیادی عنصر حضور ﷺ کی چاہت ہے خدا کی رضا چاہتے ہیں دوعالم اور خدا چاہتا ہے رضائے محمد ﷺ ۔ بوقت ہجرت حضور ﷺ مکہ کو چھوڑے پر بے حد رنجیدہ تھے کیونکہ ٓپ ﷺ کو بیت اﷲ شریف سے بے حد پیار تھا۔ یہی پیارومحبت رنگ لایا کہ بیت اﷲ تا قیامت نوع انسانی کا مرکز بن گیا، اسکی طرف رخ کرنے والوں کا دائرہ نہ صرف زمین پر بلکہ فضا خلا میں قائم ہوگیا۔ نبی ﷺ کی شان اور عظمت کا پتہ چلتا ہے۔ یہ تو اشارے ہیں اصل پتہ اس وقت چلے گا جب قیامت کے روز بلند ٹیلے پر آپ ﷺ ہونگے اور آپکے اشارہ ابرو پر بنی آدم کے فیصلے ہورہے ہوں گے۔ حضور ﷺ نے ہجرت کے وقت حزورہ کے مقام پر کھڑے ہوکر(بیت اﷲ شریف کی طرف دیکھ کر) فرمایا اﷲ کی قسم تو اﷲ کی ساری زمین سے افضل ہے ،تو اﷲ تعالیٰ کی سب سے محبوب سرزمین ہے اگر مجھے یہاں سے نکالا نہ جاتا تو میں یہاں سے نہ جاتا( حزورہ ایک اونچا ٹیلہ جو حضرت امہانی رضی اﷲ عنہا کے گھر کے پاس تھا ۔ اب یہ جگہ مسجد حرام کی توسیع میں آچکی ہے(تاریخ مکہ مکرمہ بحوالہ سیرت ابنِ ہشام)ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا تو مجھے ہر شہر سے زیادہ پسند اور محبوب ہے ، اگر میری قوم کے لوگوں نے مجھے یہاں سے نکالا ہوتا تو یہاں کے علاوہ کسی دوسری جگہ سکونت اختیار نہ کرتا((جامع ترمذی کتاب المناقب) بہت ساری احادیث مزید ہیں کہ جن سے آپ ﷺ کی بیت اﷲ شریف اور شہر مکہ معظمہ سے غائت درجہ کی محبت ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار یوں فرمایا کہ جو محبو ب نے چاہا اسے اصول دین بنادیا۔

بنی سلمہ کی مسجد کو بڑی ناموری حاصل ہوئی کہ وہاں اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی چاہت پوری فرمائی۔ اسی روز وہ مسجد مسجد ِ قبلتین بن گئی۔ اﷲ اور رسول کے حکم کی تعمیل میں چلنے پھرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی، کوئی نماز اداکرتا ہواور اس دوران اﷲ کے رسول ﷺ بلائیں تو آپ ﷺ کے حضور حاضری سے نماز نہیں ٹوٹتی اگرچہ کہ اس حاضری میں چلنا اور سمت قبلہ سے رخ کا پھر جانا بھی شامل ہے مگر نماز وہی ہے جواﷲ رسول کے رسول ﷺ کی تابعداری میں ہوئی۔ تبدیلی قبلہ کی اطالاعات جیسے جیسے دیگر مساجد میں پہنچتی رہیں لوگ قبلہ بیت اﷲ شریف کی طرف پھرتے گئے۔ یہ مسجد ایک ٹیلے پر ہے مسجد میں جانے کے لیئے سیڑھیاں ہیں۔ بیت المقدس عین شما میں ہے اور مکہ معظمہ عین جنو ب میں ہے ۔ سیدنا حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ مسجد قبامیں نمازِ فجر کے وقت تحویلِ قبلہ کی اطلاع ملی (بخاری شریف ص۔۶۴۵)

مجھے جب بھی مدینہ طیبہ حاضری کی سعادت ملی میں وہاں پیدل بھی گیا۔ وہاں اپنے آقا کریم ﷺ کی شانِ رسالت کے جلوے نظر آتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ سب غلاموں کو حاضری کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AKBAR HUSAIN HASHMI

Read More Articles by AKBAR HUSAIN HASHMI: 146 Articles with 83806 views »
BELONG TO HASHMI FAMILY.. View More
23 Oct, 2017 Views: 515

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ