زمانہ معترف ہے اب ، ہماری استقامت کا !

(Roqiya Ghazal, Lahore)

میں سوچ رہی تھی کہ اس بار حکومتی کامیابیوں کو تلاش کر کے ان پر ستائشی کالم لکھونگی مگر بدقسمتی سے اچھی خبر تو کوئی ملی نہیں لیکن ایک ایسی خبر سامنے آئی جو کہ حالات کی ستم ظریفی کا عبرت ناک نقشہ پیش کر رہی ہے کہ رائیونڈ کے ایک بڑے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی اور انتظامیہ کے علاج سے انکارکیوجہ سے ہسپتال کے باہر فرش پر ایک عورت نے مردہ اور بے حس لوگوں کے ہجوم میں زندہ بچی کو جنم دیا ہے انسانیت کی ایسی تذلیل ۔۔بلاشبہ لندن کے ہسپتالوں میں علاج کروانے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے! کیونکہ اطلاعات کے مطابق مذکورہ ہسپتال میں گائنی سے متعلقہ تمام سہولیات وافر موجود ہیں مگر ایک عام شہری کے لیے کہیں کوئی جگہ نہیں ہے ؟ ایسے ترقیاتی منصوبوں کا کیا فائدہ ہے ؟ ایسے اخراجات کس کام کے ہیں کہ عورتیں ہسپتالوں کے فرشوں ،سیڑھیوں ، رکشوں اور فٹ پاتھوں پر بچے جنم دے رہی ہیں اور اگر اتفاقاً ہسپتال میں جگہ مل جائے توبیشتر واقعات میں زچہ بچہ ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کی لاپرواہی کیوجہ سے زندگی ہار جاتے ہیں اور غیر اخلاقی رویوں سے ایسے وا قعات رونما ہو رہے ہیں جو کہ نا قابل بیان ہیں حیرت ہے کہ اس پر بھی خواہش ہے کہ آدھے گلاس کو بھرا ہوا بتایا جائے
دکھ دے کر سوال کرتے ہو ۔۔تم بھی غالب کمال کرتے ہو
شہر دل میں یہ اداسیاں کیسی ۔۔یہ بھی مجھ سے سوال کرتے ہو

ان واقعات نے مجھے اس بادشاہ کی یاد دلا دی ہے جسے اپنی تصویر بنوانے کا جنون سوار ہوگیاتھا لیکن اس کی شرط تھی کہ تصویر بے عیب ہو جبکہ وہ کانا اور لنگڑا تھا ۔قصہ کچھ یوں ہے کہ گزرے ہوئے زمانے کے بادشاہوں میں ایک ایسا بادشاہ ہوا ہے جو اپنی سلطنت کی دیکھ بھال میں کاہلی برتتا اور اپنی رعایا کو تکلیف دیتا تھا ہر طرح کے ظلم کا بازار گرم کر رکھا تھا اس پر طرّہ یہ کہ جسمانی طور پر ایک آنکھ اور ایک ٹانگ سے معذور تھا مگر سینہ زور تھا بدیں وجہ اس کا خوف سب پر طاری تھا ۔پرانے زمانوں میں اکثربادشاہ عقل کل سمجھے جاتے تھے جبکہ ہر بادشاہ کا ایک وزیر با تدبیر ہوتا تھا جو ان کی غلطیوں اور نا اہلیوں پر پردہ ڈال لیتا تھا ۔بادشاہ ظالم اور کوتاہ اندیش تو تھا ہی اس پر اس کے شوق بھی نرالے تھے وزیر اسے سمجھاتا مگر بادشاہ کی کابینہ میں شامل دوسرے درباری واہ وائی کے ایسے نعرے لگاتے کہ وزیر کی نصیحت ان نعروں میں ڈوب جاتی ۔وزیر کو دشمن کی فوجیں حملہ آور ہوتی دکھائی دے رہی تھیں مگر بادشاہ مؤرخ سے چین ہی چین لکھوا رہا تھا ۔ایک دن اچانک بادشاہ کو اپنی تصویر بنوانے کا خیال آگیا اور ساتھ شرط بھی رکھ دی کہ مصور بے عیب تصویر بنائے اور اگر وہ ایسا نہ کر سکا تو سر قلم کر دیا جائے گا ۔ اب جو مصور آتا وہ عیب دار تصویر بناتا کیونکہ ایک کانے اور لنگڑے کی تصویر بے عیب کیسے بن سکتی تھی نتیجتاًوہ مصور موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ایسے کئی مصور زندگی کی بازی ہار گئے ۔وزیر پریشان تھا مگر درباری اس کی چلنے نہیں دیتے تھے ۔ایک رات وہ پریشانی کے عالم میں ٹہل رہا تھا کہ اس کے بیٹے نے پوچھا : ابا حضور ! معاملہ کیا ہے ؟ وزیرنے سارے حالات بیان کر دئیے ۔اس کے بیٹے نے کہا کہ ابا جان :میں بادشاہ کی تصویر بناؤنگا وزیر بہت پریشان ہوگیا مگر بیٹا بضد رہا اور صبح دربار میں حاضر ہوکر اعلان کر دیا کہ میں بادشاہ کی بے عیب تصویر بناؤنگا اور یوں شام تک تصویر بن گئی تصویر اپنی مثال آپ تھی کہ جو دیکھتا حیران رہ جاتا کہ کس خوبصورتی سے مصور نے بادشاہ کے دونوں عیب چھپا دئیے تھے ۔تصویر کچھ یوں تھی کہ اس میں بادشاہ شکاری کے روپ میں بندوق تھامے نشانہ باندھ رہا تھا جس کے لیے اسے لازمی طور پر اپنی ایک (کانی) آنکھ کو بند کرنا اور لنگڑی ٹانگ والے گھٹنے کو زمین پر ٹیک لگائے دکھائے گیا تھا اس طرح بڑی آسانی سے بادشاہ کی بے عیب تصویر تیار ہو گئی تھی ۔آج ہم سے بھی یہی امید کی جاتی ہے کہ ہم اس اندھی اور لنگڑی جمہوریت کی بے عیب تصویر بنائیں۔ ہم کیسے بنائیں کہ جب ملکی حالات پر نظر جاتی ہے تو قلم کی حرمت اور اصلاحی نیت مجبور کر دیتی ہے کہ ہم واہ وائی سے بھرے درباریوں میں شامل نہ ہوں بلکہ مثبت تنقید کے ساتھ درست راستہ دکھائیں تاکہ اندر اور باہر بیٹھا دشمن اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے ہم ترقیاتی منصوبوں کے خلاف نہیں ہیں مگر یہ نوشتہ دیوار ہے کہ کسی ملک کی تعمیر و ترقی کا انحصار صحت وتعلیم میں روز بروز بہتری پر ہوتا ہے جبکہ ہماری ترجیحات میں صحت و تعلیم کہیں بھی نہیں ہیں کیا ایک بیمار اور نا خواندہ معاشرہ ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے ؟

مگر ۔۔کیا کریں کہ مسئلہ یہ ہے کہ اشرافیہ نہیں چاہتی کہ عوام پڑھ لکھ کر با شعور ہو جائیں کیونکہ باشعور اور صحت مند ا فراد ماضی اور حال کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں وہ زندگی کے مسائل کو کائنات کے ابدی نقشے میں پرکھتے ہیں وہ سوچتے ہیں کہ وہ کیا ہیں اور انھیں کیا ہونا چاہیے ؟ وہ اپنے اور دوسرے کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے قابل ہوتے ہیں تعلیم انسان کوفکر و عمل عطا کرتی ہے جبکہ نا خواندگی بس ظاہر ی چیزیں دکھاتی ہے اور ہمارے اشرافیہ چاہتی ہے کہ ان کے سامنے کوئی سر نہ اٹھائے اور وہ جو دکھائیں وہی دیکھا جائے یہی وجہ ہے کہ تعلیمی پسماندگی کو کبھی سنجیدگی سے نہیں سمجھا جاتا اور صحت عامہ پر بھی دانشوروں نے لکھ لکھ کر صفحے کالے کر دئیے ہیں مگر ایک ’’نوٹس‘‘ کے سوا کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آتی ۔ مستقبل قریب میں بھی بہتری کا تو امکان نظر نہیں آتا البتہ ٹیکنوکریٹس سیٹ اپ کی پیشین گوئیاں ضرور سنائی دے رہی ہیں جس کی تردید پاک افواج کی طرف سے کی گئی مگر ساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ جمہوریت کو پاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں مگر جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہو سکتا ہے دوسری طرف 6ماہ بعد بی بی مریم نواز اور خادم اعلیٰ کی خیر سگالی ملاقات کی خبر زیر بحث ہے یعنی یہ رسمی ملاقات نہیں اگر ایسا ہوتا تو یوں ملاقات کو عام نہ کیا جاتا ویسے شریف خاندان کی نئی نسل میں اقتدار کی خواہش اختلافات کی وجہ بن رہی ہے لیکن موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر اختلافات بھلائے جا سکتے ہیں شاید اسی لیے میڈیا رپورٹنگ کے مطابق خادم اعلیٰ نے بھتیجی کو محاز آرائی کی سیاست سے گریز کا مشورہ دیاہے لیکن حمزہ شہباز شریف کی تقریر تو کوئی اور ہی پیغام دے رہی تھی کہ جیسے کہہ رہے ہوں کرپشن میں ملوث افراد سے ان کی کوئی قریبی رشتہ داری نہیں یہ سیاسی پینترے سیاستدان نہیں کھیلیں گے تو کیا آپ اور ہم کھیلیں گے تو قصہ مختصر کہ عوام کو بظاہری اختلافات میں الجھا کر اداروں کی نا انصافیوں اور من مانیوں کی کہانیاں سنا کر راستے ہموار کئے جا رہے ہیں اور عوام بیچارے پارٹی بازی اور وفاداری کا جام پی کر نعرے لگا رہے ہیں
زمانہ معترف ہے اب ہماری استقامت کا ۔۔نہ ہم سے قافلہ چھوٹا نہ ہم نے راستہ بدلا
راہ الفت میں گو ہم پر بہت مشکل مقام آئے ۔۔نہ ہم منزل سے باز آئے نہ ہم نے راہنما بدلا

مگر طے ہے کہ جس شخص کو بڑا عہدہ اور اختیارات حاصل ہوں اسکے لیے یہ مناسب نہیں کہ شیخی مار کر یا تلوار کے زور پر قومی خزانے اور عوام کا مال مفت کھا جائے مگر یاد رہے کہ اگر کوئی شخص سخت ہڈی حلق سے اتارنا چاہے تو ہڈی آسانی سے پیٹ میں اتر سکتی ہے مگر جب ناف میں جا کر پھنس جائے تو پیٹ بھی پھاڑ سکتی ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Roqiya Ghazal

Read More Articles by Roqiya Ghazal: 116 Articles with 50217 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2017 Views: 887

Comments

آپ کی رائے