بہو رانی یا نوکرانی

(Shakira Nandini, Oporto)
ہمارے معاشرے میں یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس ہم جھٹلا نہیں سکتے، عورت کو بیوی کے روپ میں اس کا پورا حق ملنا انسانیت کی توہین نہیں بلکہ انسانیت کی معراج ہے۔ اپنے اس کالم میں، میں نے ایسے پہلو کی کردار نگاری کی ہے جسے ہم دیکھتے تو روز ہیں مگر کبھی اس بارے میں سوچتے نہیں

ہمارے معاشرے میں جب کسی گھرمیں لڑکی کا جنم ہوتا ہے تو اسی دن یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ ہمارے گھر چند سال کی مہمان ہے اور جب یہ بڑی ہوجائے گی تو اپنے سسرال چلی جائے گی ۔ جب لڑکی آہستہ آہستہ پروان چڑھنے لگتی ہے تو گھر کے بھائی اور والد اس سے چھوٹے چھوٹے روزمرہ کے کام کراتے ہیں اور جب لڑکی کی عمر زیادہ ہونے لگتی ہے تو اسے چولہہ ، چکی سونپ دیتے ہیں اور پڑھائی لکھائی سے کوسوں دور کردیتے ہیں اور ساتھ ہی گھر کے افراد اس پر مزید بوجھ ڈالتے جیسے کپڑوں کو دھونا ، استری کرنا اور گھر کے تمام چھوٹے بڑے کام لڑکی کہ ذمہ ڈال دیتے ہیں ۔ جب لڑکی تمام ذمہ داریوں کو اچھی طرح نبھانا سیکھ جاتی ہے تو اس کی شادی کردی جاتی ہے ۔ یہاں لڑکی ایک بالکل نئے اور اجنبی ماحول میں اپنے قدم رکھتی ہے تو وہاں کے موجودہ افراد خاندان اور شوہر نامدار پہلے ہی سے یہ پروگرام بنالیتے ہیں کہ آنے والی بیوی اور بہو ، بھابھی سے کیسے کیسے کام کروائیں جائیں اور کتنا بوجھ ڈالا جائے ؟ حالانکہ اس گھر میں ایک دو عدد بیٹیاں یا نوکر چاکر بھی ہوتے ہیں تب بھی آنے والی بہو پر ذمہ داریوں کا عذاب ڈالا جاتا ہے اور بیچاری لڑکی یہ سب کام ایسے لوگوں کیلئے کرتی ہے جو اسلامی شریعت میں کوئی مقام و رتبہ نہیں رکھتے، بلکہ یہ غیرمحرم ہوتے ہیں جیسے دیور ، جیٹھ ، نندوئی اور سسر ہیں اور یہ سب لوگ آنے والی لڑکی کا استقبال گرمجوشی ، محبت ، خلوص و پیارسے کرنے کے بجائے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ایک لڑکی بیوی اور بہو کی شکل میں بظاہر اور حقیقت میں ایک نوکرانی مل گئی ہے اس سے جیسا چاہے سلوک کرو ۔ ایک معصوم لڑکی جو اپنا گھر کا آنگن ماں باپ بھائی بہنیں اور سہیلیاں سب کو چھوڑ چھاڑکر آتی ہے تو اسے یہ صلہ ملتا ہے اس کے جذبات سے لوگ کھیلتے ہیں اور جاہل لوگ تو اپنے ذلیل طرز عمل سے تکلیفیں دیتے ہیں ۔ ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے بارے میں گھر کے مرد حضرات کو غور کرنا چاہئے کہ کیا کسی کی بیٹی ” بہورانی ہوتی ہے یا نوکرانی “
کمنٹ باکس میں اس خبر پر اپنا تبصرہ کرنا نہ بھولئیے گا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Shakira Nandini

Read More Articles by Dr. Shakira Nandini: 172 Articles with 99333 views »
I am settled in Portugal. My father was belong to Lahore, He was Migrated Muslim, formerly from Bangalore, India and my beloved (late) mother was con.. View More
01 Nov, 2017 Views: 669

Comments

آپ کی رائے
True behtreen likha or wahi baho jab saas banti hai tou apni baho ke sath wohi krti hai jab ke esa nh hona chahiye ,,,, :)
By: Zeena, Lahore on Nov, 04 2017
Reply Reply
0 Like
Thanks Zeena
By: Shakira Nandini, Oporto on Jan, 02 2018
0 Like