عورت کی آزادی کیسے ممکن ہے؟

(Shakira Nandini, Oporto)
ہر دور کا حکمران طبقہ رائج الوقت نظام اور اس کے اصول و ضابطے اور اخلاقیات کو ازلی اور ابدی بنا کر پیش کرتا ہے تاکہ ایک عمومی سوچ پیدا کی جائے کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہورہا اورنہ کبھی ہوگا۔ ایسا ہمیشہ سے تھا اور ایسا ہمیشہ ہی رہے گا۔
سرمایہ دارانہ نظام میں عورت کی آزادی کا سوال دیگر کئی سوالات کی طرح انتہائی پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ حکمران طبقے کی طبقاتی تقسیم اور کشمکش کو چھپانے کیلئے مختلف ذرائع، جیسے یونیورسٹیوں، اخبارات، کتابوں اور میڈیا وغیرہ (جو حکمران طبقے کی ملکیت ہوتے ہیں) کے ذریعے پروپیگنڈے سے طبقاتی سماج میں جھوٹی اور مصنوعی تقسیموں کو ہوا دی جاتی ہے اور انہی جھوٹی تقسیموں کو تمام مسائل کی بنیادی جڑ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

یقیناًیہ کام حکمران طبقہ تعداد میں انتہائی قلیل ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر خود تونہیں کر پاتا مگر اس غلیظ کام میں سماج میں موجود پیٹی بورژوا طبقہ ، حکمران طبقے کا ساتھ دیتا ہے۔ اور اس غلامی میں وہ حکمران طبقے کے نظریات کو سماج کے محکوم طبقات پر شدومد سے مسلط کرتا ہے اور اس کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتا ہے۔ یہ کام صدیوں سے ہوتا چلا آرہا ہے مگر موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں خاص طور پر، حکمران طبقے کے دلالوں کی تخلیقی غلامی کی بدولت حقیقت اور بھی زیادہ پیچیدہ بن گئی ہے۔ اس تمام تر پیچیدگی کے باوجود حقیقت دراصل ہے بہت ہی سادہ اور واضح۔ مگر حقیقت کو سمجھنے کیلئے پہلے ہمیں حکمران طبقے کے فلسفے کو شعوری طور پر چھوڑنا ہوگا، جس نے حقیقت کو انتہائی پیچیدہ بنا رکھا ہے اور محنت کشوں کے فلسفے سے فطرت اور سماج کو دیکھنا ہوگا۔ ایسا کرنے سے حقیقت کی راہ میں موجود تمام تر پیچیدگیاں ختم ہوجائیں گی اور حقیقت جو انتہائی سادہ اور واضح ہے، ہمیں نظر آئے گی۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Shakira Nandini

Read More Articles by Dr. Shakira Nandini: 172 Articles with 100086 views »
I am settled in Portugal. My father was belong to Lahore, He was Migrated Muslim, formerly from Bangalore, India and my beloved (late) mother was con.. View More
07 Nov, 2017 Views: 370

Comments

آپ کی رائے