احباب کیا کہتے ہیں۔۔.؟ قسط نمبر(3)

(Amir jan haqqani, Gilgit)
خاطراتِ دل : امیرجان حقانیؔ
:
گزشتہ کئی سالوں سے مختصر عنوانات کے ساتھ خاطراتِ دل احباب و قارئین کے گوش گزار کرتا آرہا ہوں۔ ان سالوں میں کروڈوں الفاظ لکھے لیکن ان کا کوئی ریکارڈ نہیں۔اب ارادہ کیا ہے کہ آئندہ خاطراتِ دل کو محفوظ کرکے شائع کروادوں۔اسی غرض سے تین چار مختصر تحریروں کی ایک قسط بنا کراحباب کی خدمت میں پیش کی جائے گی۔ہر مختصر تحریر کے ساتھ تاریخ بھی دی جائے گی کہ یہ تحریرکب لکھی گئی ہے تاکہ سیاق و سباق اور پیش منظر و پس منظر سے بھی آگاہی حاصل ہوتی رہے۔(امیرجان حقانی)

(1) جی بی کے صحافیوں کے لیے خاص۔۔۔۔۔۔الزام نہیں تحقیق
20/09/17
:
گلگت بلتستان میں درجن سے زائد اخبارات شائع ہوتے ہیں۔۔ان اخبارات میں سینکڑوں رپورٹر / صحافی کام کرتے ہیں۔۔گلگت بلتستان کے اخبارات کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے اسی مناسبت سے مکمل یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آج تک جی بی کے کسی رپورٹر / صحافی نے انوسٹگیٹیو جرنلزم(Investigative journalism) کا رواج نہیں دیا۔۔ مسلسل سات سال سے جی بی کے اخبارات پرھتا ہوں لیکن آج تک مجھے کوئی انوسٹگیٹیو نیوز رپورٹ دیکھنے کو نہیں ملی۔۔ ملکی اخبارات میں میرے کچھ رپورٹر /صحافی دوست ہیں جو بڑے بڑے اسکینڈلز پر مہینوں کام کرتے ہیں۔کرپشن اور دھاندلی کے حوالے سے کئ مہینے بلکہ بعض دفعہ سال سے زیادہ ریسرچ کرتے ہیں پھر ایک اسٹوری لانچ کرتے ہیں تو ان کی بات کوئی حاکم جھٹلا نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہی ایک رپورٹ اس کی سال بھر کی کارکردگی ہوتی ہے۔اور اس کی پہچان بھی۔۔۔۔ گلگت بلتستان کی صحافی برادری اور بالخصوص رپورٹر حضرات سے گزارش ہے کہ آپ کسی بھی اسکینڈل کو پبلک کرنے سے پہلے بھرپور ریسرچ کریں پھر ڈٹ کر میدان میں آجائے تو سب آپ کے ساتھ کھڑے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ نے انوسٹگیٹو رپورٹنگ کے بجائے الزامی اورسنائی سنائی باتوں پر نیوز اسٹوریز ہی تیار کرنا ہے تو پھر یاد رہے کہ صحافت جیسا عظیم پیشہ بدنام ہوگا اور یہ ہم سب کے لیے مناسب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور یاد رہے کہ رپورٹر / صحافی برادری کو حکومتی اہلکاروں کے ساتھ سیلفیاں بنانا اور ان کے ہی بیانات سے اخبارات کا پیٹ بھرنا ہے تو پھرآپ کا امیج کبھی بھی بلند نہیں ہوگا۔۔۔یہی سرکاری اہلکار صحافی برادری کے خوشآمدی انداز کو سامنے رکھتے ہوئے دو ٹکے کا صحافی بھی کہیں گے اور پھر خاطر میں بھی نہیں لائیں گے بلکہ تذلیل و رسوا کریں گے۔۔۔۔۔تو براہ کرم آپ الزامی رپورٹنگ اور بلیک میلنگ کے بجائے انوسٹگیٹیو رپورٹنگ کواپنا معمول بنائے ، ان شاء اللہ کامیابی آپ کے قدموں میں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔بصورت دیگر جو ہورہا ہے اسی کو بھی کم ہی سمجھو، اور اپنی خیر مناو، یہ سب اس لیے کہہ رہا ہوں کہ مجھے آپ سے بھی پیار ہے اور صحافت جیسے مقدس پیشے سے بھی پیار ہے۔۔۔۔تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔؟
……..
(2) امیر جان حقانی اور ''احباب کیا کہتے ہیں؟"
19/10.17
امیر جان حقانی فیسبوک کا ایک مشہور نام ہے اور،ان کی تحریریں ہر وقت ایک تہلکہ مچائے رہتی ہیں مگر ان کا خیال ہے کہ یہ تہلکہ پڑھنے والے کی سوچ سے پیدا ہوتا یے وہ اس قسم کی کوئی تخریب کاری نہیں کرتے۔
کل کی بات ہے، کراچی میں گزرے دنوں کی یادیں دہراتے ہوئے بتانے لگے کہ ایک دوست کے گھر کئی ماہ انا جانا رہا، جس کی وجہ سے مدرسے کا کھانا بھی رہ جاتا تھا اور پتہ ہونے کے باوجود وہ ظالم خود اندر جا کے کھانا کھاتا تھا مگر مجھے کبھی نہیں پوچھا۔ اب بتاؤ اس کی کیا تعریف کی جا سکتی ہے ؟
کراچی میں ہی اپنے کمپیوٹر کے استاد کے بارے میں بتایا کہ میں ان کے لئے گلگت سے خشک میوہ جات کی سوغات لے کر گیا اور دوپہر کو ان کے گھر پہنچا تو تین بھائیوں کے باری باری باہر آنے کے بعد حضرت تشریف لائے۔ اندر بٹھایا اور عین دوپہر کے کھانے وقت چائے پیش کی۔ اس پر مجھے شدید غصہ آیا مگر ضبط کر کے ان سے کہا کہ آپ بھی لیں، تو کہنے لگے کہ آپ لیں میں کھانا کھاؤں گا۔ اس کےبعد میں نے قسم کھائی کہ اس بندے سے کبھی نہیں ملنا۔
کہنے لگے کہ گوہر آباد کے لوگ بہت مالدار ہیں دیامر میں سب سے پڑھے لکھے ہیں مگر کسی کے پاس ڈھنگ کا ایک مہمان خانہ نہیں ہے۔ اسی طرح چلاس کے لوگوں میں ابھی تک وہی پرانا طریقہ رائج ہے کوئی ڈھنگ کی چیز نہیں پکا سکتے۔
انہوں نے بتایا کہ جب میں یہ باتیں کرتا ہوں تو لوگ ناراض ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ سب حقیقت ہے البتہ اس سلسلہء تنقید میں استور کی بڑی تعریف کی کہ وہاں کے لوگ بہت سلجھے ہوئے ہیں اور وہاں کے گھروں میں مہمان نوازی کا جو انتظام میں نے دیکھا وہ کہیں نہیں دیکھا۔ اسی طرح چلاس کے تیمر خیل بھی بہت سلجھے لوگ ہیں۔۔۔۔۔ (ھمدردیات)۔
نوٹ: یہ تحریر برادرم عبدالخالق ہمدرد نے لکھی ہے میرے متعلق۔ حقانیؔ
تو احباب کیا کہتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(3) رزق۔۔ذوق و جنون ۔۔اور۔۔۔بام عروج
12/05.17
وہ انسان بہت خوش قسمت ہوتا ہے جس کا رزق اس کے ذوق بلکہ جنون کے ساتھ منسلک ہو، اس حوالے سے میں بڑا خوش قسمت واقع ہوا ہوں کہ میرا رزق میرے ذوق کے ساتھ وابستہ ہے۔ پڑھنا پڑھانا، لکھنا لکھانا اور تحقیق و تنقید کرنا میرا ذوق ہے بلکہ جنون ہے۔ اور اللہ نے میرا رزق اور میری شہرت دونوں کو پڑھنے لکھنے سے منسلک کردیا ہے۔اگر میری جاب تعلیم وتدریس اور تحقیق و تنقید کے ساتھ منسلک نہ بھی ہوتی تو میں نے یہ کام بہرصورت کرنا تھا،اب اللہ نے یہ سہولت دی بلکہ میرے علاقے میں ہی دی ۔الحمدللہ۔دنیا کے کامیاب اور عظیم لوگوں کی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے ذوق و جنون اور لگن کے مطابق ان کو ذمہ داری دی اور ان کا رزق بھی اسی سے وابستہ کردیااور انہیں بام عروج بھی نصیب کیا اپنے فن و فیلڈ میں، اور وہ دنیا کے لیے مثال بن گئے..تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔؟
(4) لینڈر اندھے ہوتے ہیں
20/4/17
بلاشبہ لیڈر اندھے ہوتے ہیں۔آپ پاکستان کی ہرقسم کی قیادت کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔مشکل وقت میں ساتھ دینے والے مخلص احباب و لوگوں کو یہی لیڈر(سیاسی، مذہبی، ادارتی) خوشی اور آسائش کے وقت بھول جاتے ہیں بلکہ دھتکارتے ہیں۔اس میں بڑے ، چھوٹے لیڈر اور اداروں کے سربراہ بھی شامل ہیں۔ مجھے خود اس چیز کے متعلق ٹھیک ٹھاک معلومات اور تجربہ و،مشاہدہ بھی ہے۔آسائش کے وقت ہمیشہ ابن الوقت ہی مستفید ہوتے ہیں یعنی چمچہ گیر و کف گیروشکایت گیر۔تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔
(5) مضافاتی ٹرانسفری اور میری ڈسٹربینس
12/08/17
واللہ گزشتہ تین سالوں سے، مضافاتی ٹرانسفریوں سے میری تمام علمی، قلمی،تحقیقی، سماجی، معاشرتی اور صحافتی سرگرمیاں برباد ہوچکی ہیں۔ صرف اسی مہینے میں تین اہم ورکشاپس میں شریک ہونے سے محروم رہا، دو کا تو خود کوارڈینٹر بھی تھا، کل بھی ایک علمی نشست پر مدعو ہوں لیکن صبح سویرے استور کالج پہنچنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔؟
……………………………….
(6) ’’قانون‘‘۔۔۔لونڈوں کی بھی لونڈی
02/06/17
گلگت میں ایک دبنگ لیڈی ڈی ایس پی ہیں۔اُس نے گلگت سٹی کی ٹریفک کو بڑی حد تک کنڑول میں لائی ہے۔یہ پیپلز پارٹی کا دور حکومت تھا۔ایک گاڑی بازار ایریا میں غلط پارکنگ ہوئی۔ میڈم صاحبہ جائے پارکنگ پر پہنچ گئیں۔ پولیس کانسٹبلز کے ساتھ بہت سارے لوگ بھی جمع ہوئے۔ گاڑی کے ڈرائیور کو ڈھونڈا جارہا تھا۔ ایک دوکان سے ان کو بلایا گیا۔ان سے میڈم نے باز پرس کرنے کی کوشش کی تو اس نے انتہائی تیکھے انداز میں جواب دیا کہ ’’ میں کوئی ٹیکسی ڈرائیور نہیں جو تم باز پرس کروگی، میں حفیظ کا ڈرائیور ہوں‘‘ یہ الفا ظ کہے اور واپس دوکان میں جاکر خریداری کی اور دوبارہ آکر گاڑی اسٹارٹ کی اور رفوچکر ہوا۔ سب دیکھتے ہی رہ گئے یعنی ہاتھ پاوں کے ساتھ لاٹھیاں بھی ملتے رہے۔ وہاں کچھ اخباری رپورٹر بھی تھے ، انہوں نے اگلے دن کی اخبارات میں اس ڈرامائی صورت حال کو شہ سرخیوں میں شائع کیا۔ یہی میڈم صاحبہ عام ڈرائیوروں کا بیجا تو درست کرتی پھرتی ہے لیکن۔۔۔ہمارے ہاں قانون آقاوں کی لونڈی نہیں بلکہ ان کے لونڈوں کی بھی لونڈی ہے۔۔۔ہاں یورپ کاکوئی سینئر وزیر بلکہ وزیراعظم تک بھی غلط پارکنک نہیں کرسکتا اور نہ ناجائز سپیڈ۔۔۔۔۔مگر ہمارے ہاں تو بس اللہ ہی حافظ ہے۔مگر ہم نے حفیظ کو حافظ سمجھا ہوا ہے۔تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔؟
جاری ۔۔۔۔۔۔ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 335 Articles with 181762 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More
11 Nov, 2017 Views: 290

Comments

آپ کی رائے