ابن ابی لیلیٰ کی چھ غلطیاں

(Tariq Noman, )

حسن بن زیاد کہتے ہیں کہ میرے گھر کے قریب ایک پاگل عورت رہتی تھی، جس کا نام ام عمران تھا،ایک آدمی اس کے قریب سے گزرا اور اس سے کچھ کہا، پاگل عورت نے کہا: یا ابن الزانِیینِ(اے دو زنا کرنے والوں کے بیٹے )اتفاق سے قاضی ابن ابی لیلی نے سن لیا، انھوں نے حکم دیا کہ اس کو پکڑلاؤ، ابن ابی لیلی نے اس کو مسجد میں داخل کرا کر دو حدیں لگوائیں، ایک ماں پرتہمت لگانے کی، دوسرے باپ پر تہمت لگانے کی، امام صاحب کو معلوم ہو ا تو فرمایا: ابن ابی لیلی نے اس فیصلے میں چھ غلطیاں کی ہیں:اول یہ کہ وہ مجنونہ تھی اورمجنونہ پر حد نہیں ہے، دوسری مسجد میں حد لگوائی اور حدود مسجد میں نہیں لگائی جاتی، تیسری غلطی یہ کی کہ اسے کھڑی کرکے حد لگوائی جب کہ عورتوں پرحد بیٹھا کر لگائی جاتی ہے، چوتھی یہ کہ اس پر دو حدیں لگوائیں؛ جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی پوری قوم پر تہمت لگائے تواس پر ایک حد لگائی جاتی ہے، پانچویں غلطی یہ کی کہ حد لگانے کہ وقت اس عورت کے ماں اورباپ موجود نہیں تھے؛ حالانکہ ان کا حاضر ہونا ضروری تھا، چھٹی غلطی یہ کی کہ دونوں حدوں کو جمع کردیا؛ حالانکہ جس پر دو حد واجب ہوں،جب تک پہلی خشک نہ ہوجائے دوسری نہیں لگاسکتے، یہ فتوی ابن ابی لیلی تک پہنچ گیا، انھوں نے امیر سے شکایت کردی، امیر نے امام صاحب کو فتویٰ دینے سے روک دیا، اس کے کچھ دنوں کے بعد امیر کوفہ عیسیٰ بن موسیٰ کو کچھ مسائل پیش آئے،امام صاحب سے وہ مسائل پوچھے گئے، آپ نے جواب دیا، یہ جواب امیر کو پسند آیا، اس کے بعد اس نے امام صاحب کو اجازت دے دی اور امام صاحب اپنے مسند درس پررونق افروز ہوئے۔ (تذکر ۃالنعمان)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Noman

Read More Articles by Tariq Noman: 69 Articles with 46418 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Nov, 2017 Views: 609

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ