3۔ میت کے لیے اجتماعی دعا کے سلسلہ میں چند روایات کی تحقیق:

(Manhaj As Salaf, Peshawar)

تحریر : محدث غلام مصطفے ٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

دلیل نمبر 9
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مامن عبد بسط كفيه فى دبر كل صلاة، ثم يقول : اللهم الهي واله ابراهيم واسحاق ويعقوب اله جبرئيل وميكائيل واسرافيل عليهم السلام ! أسأل أن تستجيب دعوتي، فاني مضطر، وتعصمني فى ديني، فاني مبتلي، وتنا والني برحمتك، فاني مزنب، وتفي عني الفقر فاني متمسكن، الا كان حقا على الله عز وجل ان لا ير د يه خاليتين

”جو آدمی بھی اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلا کر ہر نماز کے بعد کہے، اے اللہ! اے میرے الہ اور ابراہیم، اسحاق، یعقوب، جبریل، میکایئل، اسرافیل علیہ السلام کے الہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری دعا کو قبو ل کر لے، میں لاچار ہو، تو مجھے میرے دین میں عصمت دے دے، میں آزمائشوں میں مبتلا کیا گیا ہوں، تو مجھے اپنی رحمت دے دے، میں گناہگار ہوں اور تو مجھ سے فقر کو دور کر دے، میں تنگدست ہوں، اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ اس کے دونوں ہاتھ خالی نہ لوٹائے۔“ [ عمل اليوم والليلة لابن السني : 129]

تبصرہ :
یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے، کیونکہ :
➊ اس کا راوی عبد العزیز بن عبد الرحمٰن اقرشی البالسی ”متروک“ ہے،
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
اضرب على احاديثه، هي كذب، ا و قال: موضوعة
”اس کی احادیث کو پھینک دے، وہ جھوٹ ہیں۔“ [ الجرح والتعديل لابن ابي حاتم : 388/5]

امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ليس بثقة ”یہ ثقہ نہیں۔“ [الضعفاء والمترو كون : ص211]

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وعبد العزيز هذا يروي عن خصيف احاديث بواطيل
”یہ عبدالعزیز خصیف سے جھوٹی روایات بیان کرتا ہے۔“ [ الكامل لابن عدي : 289/5]

➋ عبدالعزیز نے روایت خصیف الجزری سے ذکر کی ہے، جو کہ متکلم فیہ راوی ہے، نیز اس کا سید نا انس رضی اللہ عنہ سے سما ع بھی نہیں ہے۔
➌ اسحاق بن خالد بن یزید البالسی کے بارے میں امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ورواياته تدل عممن روي عنه بأنه ضعيف
”اس کی روایات دلالت کرتی ہیں کہ جس سے بھی اس نے روایت لی ہے، بہرحال ضعیف ہے۔“ [الكامل لابن عدي : 344/ 1]

قارئین ! اس روایت سے نمازِ جنازہ کے متصل بعد اجتماعی ہئیت سے دعا کا اثبات کرنا انصاف وعلم کا خون کرنے کے مترادف ہے۔

دلیل نمبر 10
عن عبدالله بن سلام أنه فاتته الصلاة على جنازة عمر رضي الله تعالىٰ عنه، فلما حضر قال : ان سبقتموني باالصلاة عليه، فلا تسبقوني بالدعا ء اله

سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ سے پیچھے رہ گئے تو جب پہنچے تو فرمایا کہ تم لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ تو مجھ سے پہلے پڑھ لی ہے تو ان کے لیے دعا کرنے میں تو مجھ سے پہل نہ کرو۔“ [المبسوط : 67/2، طبع بيروت، بدائع العصنائع7772/2، طبع حديد مصر]

تبصرہ :
➊ یہ روایت بے سند، موضوع (من گھڑت)، باطل، جھوٹی، بے بنیاد اور بے اصل ہے، حدیث کی کسی کتاب میں اس کا وجود نہیں ملتا، سچ ہے کہ جب تک شیطان اور اس کے حواری دنیا میں موجود ہیں، جھوٹی روایات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
➋ اس کا مطلب ہے کہ اگر تم نے مجھ ن سے پہلے نمازِ جنازہ پڑ ھ لی ہے تو دفن کے بعد دعا میں مجھے شریک کر لینا۔

دلیل نمبر 11
عبدالوہاب شعرانی لکھتے ہیں :
ومن ذلك قول ابي حنيفة : ان التعزية سنة قبل الدفن لابعده۔۔۔ لأن شدة الحزن انما تكون قبل الدفن، فيغري ويدعي له

”اور ان مسائل میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ تعزیت کرنا دفن سے پہلے سنت ہے نہ کہ دفن کے بعد۔۔۔۔ اس لیے کہ غم کی شدت دفن سے پہلے ہی ہوتی ہے، لہٰذا (قبل دفن ہی) تعزیت اور میت کے واسطے دعا کی جائی چاہیئے۔ [كتا ب ميزان الشريعة الكبر : 185/1، معلبوعه مصر]

تبصرہ :
عبدالوہاب شعرانی سے لے کر ابوحنیفہ تک صحیح سند ثابت کریں، ورنہ اہل بد عت مانیں کہ وہ امام ابوحنفیہ پر بھی جھوٹ باندھنے سے باز نہیں آتے۔

دلیل نمبر 12
” مفتي ٰ به روايت صاحب كشف الغطاء مانعين کا قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ”دفن سے پہلے میت کے لیے فاتحہ اور دعا کرنا درست ہے۔ یہی روایت معمولہ مفتٰي به ہے، ایسا ہی خلاصتہ الفقہ میں ہے۔“ [العطابا النبوية فى الفتاوي الرضويه : 30/4، طبع لائلپور]

تبصرہ :
➊ یہ قول بے دلیل ہونے کی وجہ سے مردود و باطل ہے۔
➋ جمہور حنفی فقہاء کی تصریحات کے خلاف بھی ہے۔
➌ تقلید پرست امام ابوحنیفہ کے مقلد ہیں یا صاحب ”کشف الغطاء“ کے، وضاحت کریں !

دلیل نمبر 13
فضلی حنفی کی تصریح
عبد العلی برجندی محمد بن الفضل سے نقل کرتے ہیں :
قال محمد بن الفضل : لا بأس به أي بالدعاء بعد صلاة الجنازة

”محمد بن الفضل نے فرمایا کہ نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنے میں کچھ حرج نہیں۔“ [ برحندي شرح مختصر الوقاية : 180/1، طبع نولكشوري]

تبصرہ :
➊ برجندی حنفی نے محمد بن فضل کا یہ قول صاحب ”قنیہ“ زاہدی جو معتزلی ہے، سے نقل کیا ہے، امام بر یلویت احمد یار خان نعیمی گجراتی لکھتے ہیں : ”قنیہ“ غیر معتبر کتاب ہے، اس پر فتویٰ نہیں دیا جاتا، مقدمہ شامی بحث رسم المفتی میں کہ صاحب قنیہ ضعیف روایات بھی لیتا ہے، اس سے فتوی دینا جائز نہیں، اعلٰیحضرت (احمد رضا خان بریلوی) قدس سرہ نے ززل الجوائز میں فرمایا ہے کہ قنیہ والا معتزلی، بد مذہب ہے۔“ [ جاء الحق ”: 281/1]

امام بریلویت احمد رضا خان بریلوی خود لکھتے ہیں : ”اس کی نقل پر اعتماد نہیں۔“ [بذل الجوائز مندرج فتاوي رضويه : 254/9]

➋ تقلید پرست یہ بتائیں کہ وہ محمد بن فضل کے مقلد ہیں یا امام ابوحنیفہ کے، اپنے امام سے باسند صحیح جنازہ کے متصل بعد اجتماعی دعا کا جواز ثابت کریں۔
➌ محمد بن فضل کا قول جمہور حنفی فقہاء کے مقابلے میں بھی مردود ہو جائے گا۔
➍ اس کتاب میں ”قنیہ“ کے حوالے سے لکھا ہے :
عن أبى بكر بن أبى حامد أن الدعا ء بعد سلاة الجنازة مكروه ”ابو بکر بن حامد حنفی سے روایت ہے کہ نمازِ جنازہ کے بعد دعا مکروہ ہوتی ہے۔“ اس قول کی تائید فتاویٰ فیض کرکی میں موجود ہے۔

الحاصل :
نمازِ جنازہ کے متصل بعد دعا کرنے کے ثبوت میں پیش کی گئی دونوں آیات قرآنی اور تیسری، چوتھی اور پانچویں دلیل میں پیش کی گئی احادیث کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔
چھٹی دلیل کے تحت پیش کی گئی حدیث موضوع (من گھڑت) اور باطل و مردود ہے، ساتویں دلیل مذکور حدیث ”ضعیف“ ہونے کے ساتھ ساتھ موضوع سے خارج بھی ہے، کیونکہ اس میں چوتھی تکبیر کے بعد اور سلام سے پہلے دعا کا ذکر ہے۔

آٹھویں اور نویں دلیل کے تحت ذکر کی گئی احادیث بھی من گھڑت اور سکت ”ضعیف“ ہیں، دسویں اور گیارہویں دلیل میں پیش کردہ حدیث کا بھی جنازہ کے متصل بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا سے کوئی تعلق نہیں۔
لہٰذا اللہ کے فضل و کرم سے اس بدعت کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل کا جائزہ لے کر ہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نمازِ جنازہ کے متصل بعد دعا کرنا بدعت
قبیحہ ہے۔

دس سوالات
اس بدعت پر زور دینے والوں سے ان دس سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازِ جنازہ کے فوراً بعد دعا کے جواز میں نصِ صریح پیش کریں !
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازِ جنازہ کے متصل بعد اجتماعی ہئیت کے ساتھ دعا کرنے کے ثبوت پر کم ازکم ایک ”ضعیف“ حدیث ہی پیش کر دیں، جس میں نماز جنازہ کے متصل بعد اجتماعی دعا کی صراحت ہو!
➌ کسی ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز جنازہ کے متصل بعد دعا کرنا باسند صحیح ثابت کریں !
➍ کسی صحابی رسول سے نماز جنازہ کے متصل بعد دعا کرنے کا ثبوت کسی ”ضعیف“ روایت سے ثابت کریں، جس میں نماز، جنازہ کے متصل بعد دعا کی صراحت موجود ہو!
➎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی موضوع (من گھڑت) حدیث سے نماز جنازہ کے فوراً بعد دعا کا ثبوت پیش کریں !
➏ کسی صحابی سے موضوع (من گھڑت) روایت پیش کریں، جس میں اس بات کا ذکر ہو کہ انہوں نے نماز جنازہ کے فوراً بعد دعا کی تھی!
➐ امام ابوحنیفہ سے باسند صحیح نماز جنازہ کے متصل بعد دعا کا جواز ثابت کریں !
➑ فقہ حنفی کی کسی معتبر ترین کتاب سے اس کا جواز ثابت کریں !
➒ کسی ثقہ امام سے نماز جنازہ کے فوراً بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا باسند صحیح ثابت کریں !
➓ کسی ثقہ امام کا نام بتائیں، جس نے ان مذکورہ دلائل سے نماز جنازہ کے فوراً بعد دعا کرنے کا جواز ثابت کیا ہو یا ایسا باب قائم کیا ہو!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Manhaj As Salaf

Read More Articles by Manhaj As Salaf: 287 Articles with 221413 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Nov, 2017 Views: 399

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ