انسانی اسمگلنگ کا بھیانک دھندہ باقاعدہ صنعت بن چکی

(عابد محمود عزام, Lahore)

 گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے تربت میں ایک ہی دن میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پندرہ افراد کے قتل کے بعد ایک بار پھر انسانی اسمگلنگ کا معاملہ میڈیا کا موضوع بنا ہوا ہے۔ تربت میں قتل ہونے والے پندرہ افراد غیر قانونی طور پر ایران کے راستے یورپ جانا چاہتے تھے، جبکہ اس بھیانک واقعہ کے تین دن بعد بھی تربت کے راستے غیر قانونی طور پر بیرو ن ملک جانے والے مزید پانچ نوجوان دوستوں کی چار روز پرانی لاشیں برآمد ہوئیں، ان مقتولین کا تعلق بھی گجرات سے بتایا گیا ہے۔ اس طرح چار روز میں ملنے والی لاشوں کی تعداد 20ہو گئی۔ انسانی اسمگلر پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 20افراد کو لاکھوں روپے کے عوض غیر قانونی طور پر ایران کے راستے بیرون ملک پہنچانے کے لیے چار گاڑیوں میں لے جا رہے تھے، راستے میں ہی ان کو قتل کردیا گیا۔ ان نوجوانوں کی آنکھوں میں ایک ہی خواب تھا کہ کسی طرح جلد از جلد یورپ پہنچیں، تاکہ دہائیوں سے غربت کی چکی میں پسے ہوئے اپنے خاندان کو خوشحال کر سکیں۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ تربت سے ملنے والی لاشوں کے بعد بلوچستان میں انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، لگتا یہی ہے کہ ایک ہی گروپ نے مختلف مقامات پر لوگوں کو قتل کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں اور اتوار کو کوئٹہ سے ایک اہم ملزم کو وفاقی ادارے، ’ایف آئی اے‘ حراست میں لے کر لاہور منتقل کر دیا، جو انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک میں طالب کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق ملزم لوگوں کو غیر قانونی راستوں سے بیرونِ ملک بھیجنے والے انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا سب سے اہم ملزم ہے، جو کوئٹہ سے لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے ایران لے کر جاتا اور خود کو ایرانی ظاہر کرتا تھا۔ ایف آئی اے نے ان دلخراش واقعات کے بعد لوگوں کو بیرون ملک بھجوانے کا اہتمام کرنے والے 3 ایجنٹوں کو سیالکوٹ اور گوجرانوالہ سے بھی گرفتار کیا۔ پاکستان کے انسانی حقوق کے کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان محنت مزدوری کرنے یورپ جانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ غیر قانونی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح وہ انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، جو پہلے تو ان سے ڈھیر ساری رقم لیتے ہیں اور اس کے بعد جب وہ انہیں سرحد پار کروانے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں مار بھی دیتے ہیں۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان انسانی اسمگلروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ ڈاکٹر حسن کا کہنا تھا کہ ان تمام واقعات سے یہ چیز ظاہر ہو تی ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی ناقص ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب تک ملک میں غربت اور بے روزگاری رہے گی کہ نوجوان اسی طرح پرخطر سفر اختیار کرتے رہیں گے، جس میں موت اور زندگی کے درمیان اتنی باریک رسی پر چل کر اپنا خواب پورا کرنا ہے۔ ان لوگوں کو یہ سنہرا باغ دکھایا جاتا ہے کہ بس ایک بار یورپ پہنچ گئے تو سارے دلدر دور ہو جائیں گے۔ انھیں کوئی اندازہ نہیں ہوتا کہ اگر کسی طرح بچ بچا کر یورپ پہنچ بھی گئے تو غیر قانونی شہری کے طور پر سختیوں اور مشکلات اس کا استقبال کرنے کو تیار ہوں گی۔ اس معاملے پر حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ 2012 میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے جب سی این این کے نمائندے نے انٹرویو کے دوران پوچھا کہ ایک حالیہ سروے کے مطابق ایک تہائی پاکستان ملک چھوڑنا چاہتے ہیں، تو اس پر ان کا جواب تھا کہ ’تو پھر وہ جاتے کیوں نہیں، انھیں کون روک رہا ہے؟‘ ملک میں بے روزگاری اور معاشی مواقع کم ہونے کی وجہ سے انسانوں کو غیر قانونی طور یورپ بھیجنے کا کاروبار گزشتہ آٹھ دس برس میں ایک باقاعدہ صنعت بن چکا ہے۔ حکومت اس معاملے پر زیادہ سنجیدہ نہیں اور افسوس کی بات ہے کہ آئندہ بھی اس معاملے میں حکومت کی طرف سے سنجیدہ ہونے کی توقع نہیں ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے ایک اعلیٰ اہلکار کا بلوچستان کے واقعے پر کہنا تھا کہ ملک میں بے روزگاری اور معاشی مواقع کم ہونے کی وجہ سے انسانوں کو غیر قانونی طور یورپ بھیجنے کا کاروبار گزشتہ آٹھ دس برس میں ایک باقاعدہ صنعت بن چکا ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد ہر سال غیر قانونی طریقے سے بہتر مستقبل کی خاطر دیار غیر کا رخ کرتی ہے، جن میں سے اکثر و بیشتر اپنی منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے ہی کسی نہ کسی حادثے سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے افسوسناک خبریں آئے روز قومی میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انسانی اسمگلروں کے سامنے عملاً بے بس ہیں۔ ذرایع کے مطابق لاہور سمیت گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان سرکل کے 1534 مفرور اسمگلرز تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔ رواں سال کے 10 ماہ کے دوران اینٹی ہیومن اسمگلنگ سیل کو 5 ہزار سے زاید شکایات موصول ہوئی ہیں، جن کے خلاف کارروائی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ انسانی اسمگلنگ کا گھناؤنا دھندا معاشرے میں اپنی جڑوں کو بہت مضبوط کرچکا ہے۔ اس کے خلاف قانون سازی تو بہت کی گئی ہے، مگر عمل درآمد کہیں نظر نہیں آتا۔ جب کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو متعلقہ ادارے محض کاغذی کارروائی کرکے حکام بالا کو خوش کردیتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر زیادہ سنجیدگی نہیں اور صرف کسی معاملے پر لوگوں کو دکھانے کی غرض سے چند دن کے لیے فائر فائٹنگ کی جاتی ہے اور پھر سارا معاملہ داخل دفتر ہو جاتا ہے۔ذرایع کے مطابق اس وقت صرف اسلام آباد، راولپنڈی سے ہر ماہ آٹھ سو سے ایک ہزار شکایات سامنے آتی ہیں اور یہ اصل واقعات کا ایک اندازے کے مطابق دس فیصد ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں شکایات ہیں، ان کی تفتیش کرنے والے اہلکاروں کی تعداد آٹھ سے کم ہے اور ان میں سے بعض کے پاس سرکاری موٹر سائیکل تک دستیاب نہیں ہوتا۔ اس معاملے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی بنانی چاہیے اور دوسرا قانون سازی کو مزید سخت کیا جانا چاہیے۔ تاہم اعلیٰ اہلکار نے ناامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں رے رہا اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آئندہ بھی بلوچستان جیسے واقعات پیش آتے رہیں گے اور حکومتی حلقوں میں وقتی ہلچل ہوتی رہے گی، لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔

بین الاقوامی سطح پر اسمگلنگ ایک منظم اور بھیانک جرم ہے، اس جرم سے کسی قسم کا فائدہ حاصل کرنا یا کسی قسم کی معاونت کرنا بھی جرم ہے۔ یہ ایک منظم جرم اور بڑا منافع بخش کاروبار اور پیسہ کمانے کا آسان طریقہ ہے، جس میں ایجنٹس کے پورے پورے نیٹ ورکس ملوث ہوتے ہیں۔ بہتر معاشی مستقبل، غربت کی وجہ سے اکثر لوگ بیرون ملک جانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ ایجنٹس نیٹ ورکس ان کو قانونی طریقے سے باہر لے جانے کی بجائے غیر قانونی طریقوں سے سرحد عبور کرانے کا انتظام کرتے ہیں اور اس انتظام کرنے پر بھاری رقوم بھی حاصل کرتے ہیں۔ غیر قانونی طریقے سے دوسرے ملک میں داخل ہونا انتہائی مشکل اور ایک بہت اذیت ناک سفر ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ دوسرے ممالک کی سرحد عبور کرتے ہوئے مختلف طرح سے اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ غیر قانونی سرحد عبور کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد راستے میں ہی یا تو گرفتار ہوجاتی ہے یا پھر سرحدی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتی ہے۔ کچھ لوگ مختلف ممالک میں صحرائی علاقوں سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن طویل صحرا میں پانی اور کھانے کی اشیاء کے ختم ہوجانے اور مسلسل چلنے کی وجہ سے راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ بہت سے افراد بحری جہازوں کے تہہ خانوں میں دم گھٹنے سے یا پھر پکڑے جانے کے خوف سے ایجنٹس کے ہی ہاتھوں سمندر برد کردیے جانے سے مرجاتے ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اورعدم تحفظ کے باعث انسانی اسمگلنگ کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے۔ دیگرجرائم کے ساتھ ساتھ انسانی اسمگلنگ کاگھناؤنا دھندہ باقاعدہ صنعت کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ان پڑھ و غریب عوام کنبے کی کفالت اوربہتر مستقبل کے لیے آئے دن انسانی اسمگلرز کا شکار بن کرنہ صرف اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، بلکہ دیار غیر میں صعوبتیں بھی برداشت کرتے ہیں۔

بلاشبہ انسانی اسمگلنگ کا جرم پاکستان کے لیے مستقل درد سر ہے۔ بہتر ذریعہ معاش کے متلاشی نوجوانوں اور جنسی تجارت کے لیے زیادہ تر خواتین و بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے لیے پاکستان بدستور ایک منزل مقصود، راہداری اور منبع مانا جاتا ہے۔ انسانی اسمگلنگ کی دیگر اقسام کے مقابلے میں پاکستان میں زیادہ تر ایسے افراد کی اسمگلنگ کے واقعات پیش آتے ہیں جو بہتر روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طریقوں سے یورپ اور مشرق وسطی کے ملکوں کا سفر کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ملک میں انسانی اسمگلنگ میں اضافے کی ایک وجہ پاکستان کا جغرافیہ اور کئی ممالک سے منسلک اس کی طویل سرحدیں بھی ہیں۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد 900 کلومیٹر طویل ہے، جہاں سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہیں، کیونکہ صرف تافتان کے مقام پر دونوں ملکوں کے درمیان امیگریشن مرکز ہے اور وہ بھی سہولتوں کے فقدان کا شکار ہے۔ پاکستان میں بلوچستان سے ایران پھر ترکی اور پھر وہاں سے یونان یہ ایک روایتی راستہ رہا ہے اور جب اسمگل کیے جانے والے افراد مطلوبہ ملک میں پہنچ جاتے ہیں، بشمول یورپی ملکوں میں تو وہاں موجود ایجنٹس انھیں ان کی مرضی کی منزلوں پر بھیج دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان کی سرحد پر ایران میں مند بیلو کا علاقہ انسانی اسمگلروں کے زیر استعمال ہے۔ یہاں سے یہ بڑے بحری جہازوں یا کشتیوں میں مسقط جاتے ہیں اور پھر وہاں سے یہ مشرق وسطی کی ریاستوں میں نکل جاتے ہیں۔ ایران سے سالانہ تقریباً 15 ہزار جب کہ عمان سے لگ بھگ سات آٹھ ہزار پاکستانیوں کو گرفتاری کے بعد ملک بدر کرکے پاکستانی حکام کے حوالے کیا جاتا ہے۔ انسانی اسمگلر عموماً گلستان،چمن، نوشکی، چاغی، مندبلو، پنج گور، تافتان اور تربت کے راستے استعمال کرتے ہیں۔ ایف آئی اے بعض انتہائی مطلوب انسانی اسمگلروں کے ریڈ وارنٹ جاری کرچکاہے، ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ایف آئی اے کی ریڈ بک کے مطابق بیشتر انتہائی مطلوب انسانی اسمگلروں کا تعلق گجرات اور گوجرانوالہ سے ہے۔ کچھ انسانی اسمگلر سیالکوٹ، راولپنڈی ، منڈی بہاؤ الدین اور آزاد جموں وکشمیر سے ہیں۔ یہ ایجنٹ لوگوں کو انتہائی تھوڑی رقم میں دوسرے ممالک میں بھیجنے کا جھانسا دیتے ہیں اور ان سے پیسے لے کر انہیں کسی دوسرے ایجنٹ کے ہاتھوں فروخت کردیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم (یو این او ڈی سی) کے مطابق 2013 میں پاکستان کے اندر سرگرم جرائم پیشہ گروہوں نے انسانی اسمگلنگ کے ذریعے 927 ملین ڈالرز کمائے۔ یو این او ڈی سی کی رپورٹ میں وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے اندراس غیر قانونی کاروبار میں ایک ہزار سے زاید گروہ ملوث ہیں۔ 2007 میں ان جرائم پیشہ گروہوں کا منافع 797 ملین ڈالرز سے مسلسل بڑھ کر2013 میں 927ملین ڈالرز تک پہنچ گیا تھا۔ 2007 سے 2013 کے دوران پاکستان میں یہ غیر قانونی کاروبار فروغ پاتا رہا۔ یو این کی اس تحقیقی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر ’غیر قانونی ہجرت‘ صوبہ پنجاب بالخصوص گجرات، گجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور سیالکوٹ سے ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ انسانی سمگلنگ کے ممکنہ شکار زیادہ تر گوادر، کوئٹہ اور تربیت کے سرحدی علاقوں میں پکڑے جاتے ہیں۔ ماضی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ جلا وطن ہونے والے زیادہ تر پاکستانی عمان کے سمندری، جبکہ ترکی اور اسپین کے ہوائی راستے ملک واپس پہنچتے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے بڑے راستے پاکستان سے متحدہ عرب امارات براستہ ایران، عمان۔ پاکستان سے یونان براستہ ایران ترکی۔ پاکستان سے اسپین براستہ مشرق وسطی اور مغربی افریقی ممالک ہیں۔

پاکستان اس غیر قانونی عمل سے شدید طورپر متاثر ہوا ہے۔ یہاں سے نہ صرف انسانی اسمگلنگ ہوتی ہے ،بلکہ اس سرزمین کو گزرگاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بنگلا دیش،سری لنکا، برما اور انڈیا سے خواتین، بچوں اور مردوں کو غیر قانونی طور پر خلیجی ممالک، ترکی، ایران اور یورپ میں اونٹوں کی دوڑ، جسم فروشی اور جبری مشقت کے لیے ہوائی، سمندری اور زمینی راستوں سے اسمگل کیا جاتا ہے۔ افغانستان کے باشندوں کو بھی مغربی اور خلیجی ممالک کی طرف اسمگل کرنے کے لیے پاکستان کو راہداری کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان 2400 کلومیٹر طویل سرحد پر صرف چمن اور طورخم کے مقام پر دو امیگریشن پوسٹیں ہیں اور ان پر بھی محض پانچ فیصد افراد بین الاقوامی مسافر ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجوہات کا سدباب کرے۔ انسانی اسمگلروں کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ ملک سے بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ کرے، تاکہ غریب عوام کسی دھوکے باز کے ہاتھوں اوپنا مال اور جان نہ گنوا بیٹھے۔ انسانی اسمگلنگ اگرچہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری دنیا میں یہ انسانی اسمگلنگ ہوتی ہے، لیکن اس بات کا بہانہ بنا کر ہماری حکومت کو اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں کرنی چاہیے۔ اپنے ملک سے اس غیرقانونی دھندے اور اس کے اسباب کو جلد از جلد ختم کرنا ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 430010 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Nov, 2017 Views: 509

Comments

آپ کی رائے