حسنہ قسط نمبر 63

(Zeena, Lahore)

ارمو بابا دھیرے دھیرے چلتے سرونٹ کواٹر کے پیچھے ایک درخت جو کہ اس گھر میں شروع سے موجود تھا جو سائز میں کافی بڑا تھا۔ شتہوت کا یہ درخت والی کو بہت پسند تھا۔ وہ اکثر جب اداس ہوتا تو اس درخت کے سائے میں ٹھنڈک محسوس کرتا۔ جب سرونٹ کواٹر کی تعمیر کی جا رہی تھی تب جانے کیوں اسے اکھاڑہ نہیں گیا بلکہ اسکو ایسے ہی چھوڑ کر اسکے اگے کواٹر تعمیر کر لئے گئے تھے۔
“ یہاں کیوں آگئے بیٹا ؟ “ ارمو بابا نے اسکے ساتھ بیٹھ کر سوال کیا۔ وہ جانتے تھے وہ جب بہت پریشان ہو تب یہی ملے گا۔
“ بابا سکون نہیں ہے،،،،، سکون نہیں ہے یہاں،،،،، “ والی نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا ارمو بابا کو بے اختیار اس پر پیار آیا بابا نے اسکو سر سے پکڑ کر اپنے گلے سے لگا لیا۔
“ بابا میں اس سے محبت کرنے لگا ہوں پر وہ ،،،، وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی بابا،،،، “ والی نے رک رک کر کہا اور رونے لگا۔
“ نہ میرا بچا نہ ایسے نہ کہہ میں نے خود اسکی آنکھوں میں تیرے لئے محبت کے دیئے جلتے دیکھے ہیں۔ نہ کر شک نہ کر اسکی محبت پر وہ تجھ سے بڑی محبت اور عقیدت کرتی تیری۔ میں نے دیکھا ہے بیٹا۔“ والی بابا نے اسکے چہرے سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
“ اگر وہ مجھ سے محبت کرتی ہے تو سہیل ؟ “ والی نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“سہیل ؟ “ ارمو بابا نے حیرانی سے کہا۔
“ ایک دن میرے موبائل پر ایک ایم ایم ایس آیا اسمیں حسنہ اور سہیل ایک دوسرے کہ ،،“
“ ایم ایم ایس ؟ “ ارمو بابا نے اسے بات پوری کرنے نہیں دی الٹا سوال دھرا دیا۔ والی ارمو بابا کا اس حیران ہونا دیکھنے لگا۔
“ چھوٹا منہ بڑی بات بیٹا پر آپکو بتانا بہت ضروری ہے۔“ والی بابا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
“کیسی بات کرتے ہیں آپ بابا کیا بات ہے کھل کر کہے آپ میرے لئے میرے والدین کی طرح محترم ہیں۔“ والی نے کہا۔
“ ہمم اچھا سنو پھر کچھ دن پہلے میں کچن میں اپنے کاموں میں مصروف تھا تب شازمہ بیٹی حسنہ کو کچھ ایم ایم ایس کا کہہ رہی تھی جب آواز کچھ انچا ہوئی تو ان گنہگار کانوں نے بھی سن لی،،،، “ ارمو بابا نے اس دن کی حسنہ اور شازمہ کی ساری باتیں والی کو بتا دی۔ والی کو پہلے تو کسی بات کا یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اسکی خود کی سگی ماں اسکا گھر خراب کرنا چاہتی تھی پر کیوں ؟ اس کیوں کا جواب تو شازمہ ہی تھی جو والی کو دے سکتی تھی۔
“ میری ماں نے ایسا کیوں کیا بابا ؟ یہ شادی تو انکے کہنے پر میں نے کی پھر کیوں ؟ “ والی نے انتہائی دکھ سے پوچھا۔
“ میں نہیں جانتا بیٹا پر ایک بات یاد رکھنا وہ تمہاری ماں ہے اگر اسنے ایسا کچھ کیا تو اسکے پیچھے ضرور کوئی وجہ ہوگی کیونکہ ماں کبھی اپنی اولاد کا برا نہیں چاہتی۔ اور رہی بات حسنہ کی تو وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے بیٹا چاہے کچھ بھی دیکھو پر اسکی محبت پر کبھی شک مت کرنا۔میں نے اسے تمہارے کئے آنسو بہاتے دعائیں مانگتے دیکھا ہے بیٹا اور خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو کسی کی دعاؤں کے حسار میں ہو۔ “ ارمو بابا نے اسے تفصیل سے سمجھایا۔ والی نے مسکرا کر ارمو بابا کو دیکھا اور وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا ابھی بہت سی گرہے کھلنی باقی تھی۔ (جاری ہے )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zeena

Read More Articles by Zeena: 92 Articles with 136331 views »
I Am ZeeNa
https://zeenastories456.blogspot.com
.. View More
24 Nov, 2017 Views: 657

Comments

آپ کی رائے
Very Nice episode,,,,poetry owesome
By: Mini, mandi bhauddin on Nov, 27 2017
Reply Reply
0 Like
niceee epi,,,,,,, salman ki jaga sohel likha hain,,,,,,,,,,:d
By: umama khan, kohat on Nov, 27 2017
Reply Reply
0 Like