اسلامی تعلیمات سے دوری کے نقصانات

(Ansar Usmani, )

سماوی تمام سابقہ ادیان کو ختم کرکے اسلام کے سایہ میں آنے کا حکم اس بات کی دلیل ہے کہ سارے سماوی ادیان اپنا حقیقی وجود نہیں رکھتے۔ان کے پیروکاروں نے سابقہ ادیان میں اپنی من مانی سے تحریفات کیں۔خدا وند کریم کے احکامات کو پسِ پشت ڈال کر خودسری کی،اور حفاظت کا صحیح حق ادا نہیں کیا۔اب ضروری تھا کہ ایسا مذہب اور دین انسانیت کو دیا جایے،جو تمام ادیان پر غالب ہو ،اور قیامت تک انسانوں کی رہنمائی کرے۔

اسلام کا شجر چودہ سوسال پہلے مکہ کی پاک سرزمین نمودار ہوااور پھلتا پھولتا پورے عالم میں سایہ کردیا۔اس کی آب یاری میں جہاں کہیں کمی پائی گئی وہاں کی انسانیت بھی اس کے سایہ سے رحمت سے محروم رہی۔قرآن مجید کی سورہ مائدہ میں اﷲ تعالی نے اسلام کے مکمل ہونے کا اعلان فرمایا اس کے بعد،اب کوئی گنجائش نہیں بچتی کہ انسان یہ سوچے ،اس کی کسی طور پر اسلام رہنمائی نہیں کرتا۔یہ بد اعتقادی ،اور تقدیر پر راسخ ایمان نہ ہونے کی من گھڑت دلیلیں دی جاتی ہیں۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ تخلیق ،تخلیق کارسے آگے سے نکل کر اپنی مرضی سے اپنے مسائل کا مداوا کرے۔انسان تخلیق کردہ ہے،اس کے تمام تر انتظامات کا حل چاہے،طبقاتی ہوں،سماجی ہوں،معاشی ہوں ،معاشرتی ہوں یا نفسیاتی ہوں ساری معلومات باہم اسلام میں موجود ہیں۔

ہم اسلامی ماحول کو نظرانداز کرکے کرۂ ارض پر اپنی زندگی کو اچھی طرح نہیں گزار سکتے۔امراء، شرفا ء ہوں، مڈل کلاس ہوں یا غریب محنت کش ہوں، ہر ایک کی اسلامی تعلیمات سے دور ی کی حالتِ زار ناگفتہ بہ ہے۔آج جس معاشی ماڈ ل کو ہم دیکھتے ہیں ،وہ بنی نوع انسان کے لیے کسی طرح سود مند نہیں۔اس بوسیدہ معاشی ماڈل میں اسلامی رسوخ کا شعور اجاگر کرنا اہم ہے۔اسلامی تعلیم کی جد جہد ضروری ہے۔موجودہ دور میں جب کہ مہنگائی عالمی منڈی کے شانہ بشانہ چل رہی ہے،یورپی ممالک مالیاتی بحرانوں کے کچھار میں پھنستے جا رہے ہیں ۔اور مشرقی ممالک عالمی اداروں کے مقروض ہو چکے ہیں۔اس پرآشوب ماحول میں جہاں ہرشئے سٹے بازی، مہنگائی کے طوفان میں جکڑی ہوئی ہے،ایسے تخلیقی نظامِ تعلیم میں خود کوشامل کیا جایے جس میں روحانی، دماغی سکون ہو۔ انہی روحانی ،دماغی سکون کے حصول،اور اس پر فتن دور مین پیش آنے والے مسائل اور ان کے تدارک کی پیشن گوئی کرتے ہوئے فرمایا: حضرت معقل بن یساررضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ فتنہ کے زمانے میں عبادت کا ثواب اتنا ہوگا،جتناکہ میری طرف ہجرت کا ثواب ہے۔‘‘ ( مشکوٰۃ حدیث نمبر (5156

برطانیہ کے بڑے ریاضی دان اور فلاسفر برٹرنڈرسل نے کہا تھا ،’’برائی کاخاتمہ صرف تبلیغ سے نہیں،بلکہ ایک خاس قسم کے منصفانہ معاشی نظام سے ہوسکتا ہے۔‘‘معاشی نظام میں انصاف کا فقدان بھی اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہے۔ہائی کلا س طبقوں میں تعلیم کی سطح اونچی ہے،اخراجات اس قدر وسیع ہیں کہ ان کی ساری زندگی اور مستقبل کی آمدنی ،اسی سوچ وبچار،فکرمندی میں کھپ جاتی ہے،اور معاشرے تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔اسلامی تعلیمات سے دوری ہی ہے کہ فضول خرچی اور اصراف عام سی بات ہے۔ڈسپلن نام کی کوئی چیز نظر نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 29سال کی عمر میں شادی کرنے والا نوجوان ،31سال کی عمر میں ایک بچے کا باپ بنتا ہے۔دوسرا بچہ تین سال بعد پیدا ہوتا ہے،تب تک مذکورہ نوجوان کی عمر 35سال ہو جاتی ہے۔ پہلا بچہ 18 سال کی عمر میں یونیورسٹی جاتا ہے ، تب تک باپ کی عمر 50 کا ہندسہ عبور کرلیتی ہے۔دوسرا بچہ جب یونیورسٹی میں داخل ہوتاہے تب تک والد بیماریوں میں گھرا ہوا ہوتا ہے، اور اسے اولاد کے سہارے کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے،اور اولاد کے پاس وقت کہاں ہوتا ہے،وہ تو اپنے کیرئیرپر توجہ مرکوز کیے ہویے ہوتی ہے۔اس منظر نامے سے ہٹ کر اسلامی زندگی میں رہنے والے لوگ بلوغت ہوتے ہی نکاح ،جسے تکمیلِ ایمان کا واحد راستہ کہا گیا، اختیار کرتے ہیں۔

قرآنِ مجید سورۃ النور آیۃ 32 میں ہے۔ترجمہ : ’’ اور تم جو بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دیا کرو،اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں جو اس لائق ہوں۔‘‘ اس دور میں ہم ایک نئی دنیاکو آباد ہوتاہوا دیکھ رہے ہیں۔جہاں یورپ ومغربی ممالک کا عکس لیے ہم چل رہے ہیں ۔اسلامی تعلیمات میں ایک عام آدمی بھی اپنی سوچ کے مطابق اختلاف کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات کو،غیرمعمولی تعلیم سمجھا ہی نہیں۔انسانی بقاء کا واحد راستہ اسلام میں موجود ہے۔اس پر فتن دور میں اہلِ ثروت لوگ اپنے تمام مسائل کا حل اسلام کی تعلیم سے اخذ کرتے ہیں۔تحفظ،عفت،افزائشِ نسل ،پاکدامنی،فقروفاقہ،شکوک وشبہات،کامل فلاح، کو اس گلوبائزیشن کے دور میں اسلامی نقطہ نظر سے حل کرتے ہیں،اور دنیا میں کامیابی،اور آخرت میں فلاحِ دارین کا مستحق ٹھرتے ہیں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ansar Usmani

Read More Articles by Ansar Usmani: 98 Articles with 46644 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Dec, 2017 Views: 791

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ