صبح بھیک مانگتی اور شام میں وکالت پڑھتی تھی ... باہمت خواجہ سرا نیشا کی زندگی کی ایسی کہانی جسے جان کر آپ بھی یقین نہیں کریں گے

image


زندگی میں کچھ کرنے کا جذبہ اور حوصلہ ہو تو رکاوٹوں سے انسان گھبراتا نہیں اور نہ کبھی ہمت ہارتا۔ بس آگے بڑھنے کا جنون ہمیشہ زندہ رکھتا ہے پھر چاہے وہ کوئی عورت ہو، مرد ہو یا خواجہ سرا۔
ہمارے معاشرے میں ایک خواجہ سرا نے بھیک مانگنے کے ساتھ ساتھ وکیل بن کر پوری دنیا میں ثابت کردیا کہ جنس سے کوئی فرق نہیں پڑتا انسان کے اندر کچھ کرنے کی لگن ہونی چاہیئے۔
ہم بات کر رہے ہیں پاکستان کی 28 سالہ خواجہ سرا نیشا راؤ کی جنہوں نے اپنی محنت اور لگن کے تحت کانٹوں بھرے سفر میں بھی اپنی ہمت کو ٹوٹنے نہ دیا۔ تعلیم کے شوق کو پورا کرنے کے لئے بھیک کا سہارا بھی لیا اور آج خود ایک وکیل بن کر وکالت بھی کر رہی ہیں اور ساتھ ہی اپنی ایک این جی او کا قیام کر کے اپنے جیسے دوسرے خواجہ سراؤں کی کفالت کا کام بھی کر رہی ہیں۔
خواجہ سرا نیشاء راؤ بتاتی ہیں کہ:
''میں صبح 8 بجے سے 12 تک سگنل پر بھیک مانگتی تھی اور 2 سے 5 لا کالج میں تعلیم حاصل کرتی تھی، شروع میں مجھے یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ میں لڑکیوں کے ساتھ بیٹھوں یا لڑکوں کے ساتھ مگر جلد ہی میرے اچھے دوست بن گئے اور یوں میں نے ہر مشکل کو پار کرتے ہوئے آخر کار اپنی تعلیم مکمل کر ہی لی۔''


وکالت کرنے کا خیال کیوں آیا؟
میں جب سگنلز پر بھیک مانگتی تھی تو مجھے پولیس اہلکاروں سے ڈر لگتا تھا کیونکہ وہ دیگر خواجہ سراؤں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔ ایک دن میں نے اپنے استاد سے کہا کہ مجھے ان سے ڈر لگتا ہے جس پر میرے استاد نے مجھے کہا کہ نیشا تم وکیل بن جاؤ پھر یہی پولیس والے تم سے ڈریں گے اور یہی میرے حوصلے کی ابتداء تھی، جس کے لئے میں نے کراچی یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشن ڈیپارٹمنٹ سے گریجوئیشن کی اور پھر وکلا کے کالج میں داخلہ لیا۔''


گھر کیوں چھوڑا؟
نیشاء کا تعلق لاہور سے ہے اس کے والدین اور گھر والے لاہور میں رہتے تھے یہ بھی ان کے ساتھ رہتی تھی مگر جب یہ نویں جماعت میں آئی تو اسے اندازہ ہوا کہ یہ نہ لڑکی اور نہ لڑکا ہے۔ جب اس نے میٹرک مکمل کیا تو گھر والوں کی ڈانٹ اور مار کے خوف سے اس نے گھر سے بھاگنے کا ارادہ کیا اور اس کے لئے اپنے والد کی جیب سے اتنے پیسے چرائے کہ لاہور سے کراچی کا ٹرین ٹکٹ لے سکے، اور یوں نیشا اپنا گھر چھوڑ کر کراچی منتقل ہوگئیں۔
مانگنے کے ساتھ پڑھا کیسے؟
مجھے پڑھنے کا شوق تھا مگر پیسے نہیں تھے کراچی آنے کے بعد دس سال تک بھیک مانگ کر کمایا اور جو کچھ کمایا اپنی پڑھائی پر لگایا پہلے انٹر کا امتحآن پاس کیا، پھر گریجوئیشن اور اس کے بعد وکالت پڑھی۔


کیسز:
نیشا کے مطابق: '' عدالت میں ان کے ساتھ تمام لوگ اچھی طرح مل جل کر رہتے ہیں، مشکل وقت میں ساتھ دیتے ہیں اور سٹی کورٹ کراچی کے ججز بھی ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں۔ میں اب تک 50 کے قریب کیسز لڑ چکی ہوں''۔

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US