سپریم کورٹ نے احتساب عدالتوں کو نیب کیسز میں حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روک دیا

image

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف اپیل کی سماعت کے بعد حکم دیا ہے کہ تفصیلی فیصلہ آنے تک احتساب عدالتیں حتمی فیصلہ جاری نہیں کریں گی۔

منگل کو سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ ’تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد نیب ترامیم انٹرا کورٹ اپیل دوبارہ مقرر کی جائے۔‘

عدالت نے حکم دیا کہ ’عدالتی حکم نامے کی کاپی چیرمین پی ٹی آئی کو جیل میں پہنچائی جائے۔‘

قبل ازیں سنیچر کو سپریم کورٹ نے نیب ترامیم فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کردہ انٹرا کورٹ اپیل سماعت کے لیے مقرر کی تھی۔

سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل تھے۔

دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’ہم صرف فیصلے کے اثرات سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں، آج فیصلہ نہیں کر رہے۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’تیسری ترمیم بڑی واضح کہہ رہی ہے کہ الزامات پر دوسری جگہ ٹرائل ہو گا۔ تیسری ترامیم اس لیے اہم ہے کہ ان میں احتساب عدالت میں ہو چکی کارروائی کو تحفظ فراہم کیا گیا۔‘

نیب ترامیم کے خلاف اپیل کا پس منظر15 ستمبر کو سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پارلیمان کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون میں کئی گئی پی ڈی ایم حکومت کی متعدد ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

فیصلے میں عدالت نے عوامی عہدوں پر بیٹھے افراد کے خلاف ختم کیے گئے نیب ریفرنس بحال کر دیے تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں 50 کروڑ سے کم رقم کے مقدمات نیب سے واپس لینے کی شق کو کالعدم قرار دیا تھا۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ سال جون میں نیب قوانین میں ترامیم کو سپریم کورٹ میں چینلج کر دیا تھا۔


News Source   News Source Text

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US