پاکستان کے صدر عارف علوی نے عام انتخابات کی تاریخ پر دستخط کر دیے۔
جمعے کو ملک میں انتخابات 90 دنوں میں کرانے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے صدر مملکت کی دستخط شدہ دستاویز عدالت میں پیش کی گئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے پوچھا تھا کہ عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات پر صدر کے دستخظ کیوں نہیں ہیں؟ ’پہلے اس پر دستخط کرائیں، پھر آپ کو سنیں گے۔‘چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر اور صدر پاکستان کے مابین مشاورت کو ’اچھی بات‘ قرار دیا ہے۔اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس مقدمے کے معاملے پر کوئی ’ایوان صدر سے آنا چاہتا ہے تو ہم اسے خوش آمد کہیں گے۔‘پی ٹی وی کے مطابق تحریری حکمنامے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے یہ معاملہ غیر ضروری طور پر سپریم کورٹ میں آیا۔ ’سپریم کورٹ آگاہ ہے کہ ہم صدر اور الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔‘حکمنامے کے مطابق انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر پورا ملک ہیجان کا شکار ہوا۔