میانوالی ائیر بیس پر حملہ، 9 شدت پسند ہلاک، کلیئرنس آپریشن مکمل، 3 طیاروں کو بھی نقصان: آئی ایس پی آر

image

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ ’میانوالی میں ایئرفورس کے ٹریننگ ایئربیس پر شدت پسندوں کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے جس میں 9 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کہ میانوالی میں پاکستان ایئر فورس کے ٹریننگ ایئر بیس پر شدت پسندوں نے حملے کی کوشش کی ہے تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ’سنیچر کی علی الصبح میانوالی ٹریننگ ایئر بیس پر دہشت گردوں نےحملے کی کوشش کی جبکہ تین دہشت گردوں کو گیٹ میں داخل ہونے کے دوران ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔‘

’فنکشنل آپریشن اثاثوں میں کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا جبکہ تین گراؤنڈ کیے گئے غیرفعال طیاروں کو کچھ نقصان پہنچا ہے۔ ‘

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے باقی تین دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا تاہم حملے کے دوران تین گراؤنڈ کیے گئے طیاروں کے علاوہ ایندھن کے ٹینکر کو نقصان پہنچا ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے کے لیے مشترکہ آپریشن آخری مراحل میں ہے۔

خیال رہے جمعے کو صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر کے علاقے پسنی سے اورماڑہ جانے والے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دہشت گردوں کے حملے میں 14 جوان اپنی جان سے گئے تھے۔

آئی ایس پی آر نے تصدیق کی تھی کہ ’جمعے کو پسنی سے اورماڑہ جانے والی سکیورٹی فورسز کی دو گاڑیوں پر دہشت گردوں نے گھات لگا کر حملہ کیا۔‘

مقامی ذرائع کے مطابق ’فوج کا قافلہ دو گاڑیوں پر مشتمل تھا جس پر گھات لگائے نامعلوم دہشت گردوں نے قریبی پہاڑ سے چھوٹے ہتھیاروں کے ذریعے فائرنگ کی۔ دہشت گردوں نے فوجی قافلے پر راکٹ کے گولے داغے جن میں سے دو گولے گاڑیوں کو لگے اور ان میں آگ لگ گئی جس سے اہلکار جُھلس گئے۔‘

جمعے ہی کو خیبر پختوخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک جبکہ 22 زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس نے کہا تھا کہ دھماکہ ٹانک اڈے کے قریب اس وقت ہوا جب پولیس کی گاڑی قریب سے گزر رہی تھی۔


News Source   News Source Text

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US