مولانا فضل الرحمان کی قطر میں حماس کی قیادت سے ملاقات، اسرائیلی بمباری کی مذمت

image
پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قطر میں حماس کے سرکردہ رہنماؤں سے ملاقات میں غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

جے یو آئی (ف) کے بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمان سنیچر کو قطر پہنچے تھے جہاں اگلے روز اتوار کو انہوں نے حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہانیہ اور خالد مشعل سے ملاقات کی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’نام نہاد ترقی یافتہ ممالک کے ہاتھ معصوم بچوں اور خواتین کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ فلسطینی صرف زمین کے لیے نہیں لڑ رہے بلکہ مسلم امہ کی جانب سے قبلہ اول کی آزادی کے لیے برسرپیکار ہیں۔‘

انہوں نے مسلم ممالک پر روز دیا کہ ’وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف فلسطینیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں۔‘

جے یو آئی (ف) کے بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی مظالم کے خلاف متحد ہونا تمام مسلم امہ کی ذمہ داری ہے۔

قام رئيس جمعية علماء الإسلام مولانا فضل الرحمن بلقاء قادة حماس خالد مشعل وإسماعيل هانية.

وصل رئيس جمعية علماء الإسلام مولانا فضل الرحمن، مصحوبًا بوفد، إلى قطر أمس. - أسلم غوري

تبادل تفصيلي للآراء بين القادة حول قضية فلسطين - أسلم غوري

إسرائيل تحاول تغيير الوضع الراهن في فلسطين… pic.twitter.com/xhjc77jC2G

— Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) November 5, 2023

اسماعیل ہانیہ نے مزید کہا کہ ’انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کے دعوے دار ممالک اسلحے کے جہازوں کے ساتھ تل ابیب پہنچ رہے ہیں۔‘

اسماعیل ہانیہ نے غزہ کے شہریوں کے لیے آواز بلند کرنے پر مولانا فضل الرحمان کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں فلسطین کے عوام کے سفیر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس موقعے پر خالد مشعل نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر میں ہونے والے مظالم ان تمام ممالک کے ’منہ پر تمانچہ‘ ہیں جو دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں۔

غزہ میں عام شہریوں کی بڑھتی ہوئی اموات کے خلاف پوری دنیا میں غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک میں ہزاروں افراد اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔


News Source   News Source Text

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US