سابق سیکریٹری جنگلات نذر حسین نے خود پر عائد تمام الزامات کی مکمل ترید کرتے ہوئے اپنا جواب چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو جمع کرادیا ہے جبکہ بطور سیکریٹری جنگلات اپنی کارکردگی کی تفصیلات کیساتھ کئی انکشافات بھی کیے ہیں۔
محکمہ جنگلات کے سابق سیکریٹری نذر حسین نے چیف سیکریٹری کو لکھے گئے ایک غیر معمولی طور پر تفصیلی اور سخت نوٹ میں اپنے خلاف لگائے گئے ماحولیاتی تخریب اور مالی بدعنوانی کے تمام الزامات کی مکمل تردید کی ہے۔
انہوں نے نہ صرف اپنی پچھلی کامیابیوں کے ثبوت پیش کیے ہیں بلکہ موجودہ انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ موجودہ سیکریٹری فارسٹ کے دور میں ریاست کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے اور غیر قانونی لکڑی مافیا کو فروغ ملا ہے۔
نذر حسین کے مطابق ایک خاتون کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایت دراصل 4 اگست کو سوشل میڈیا پر جاری مواد کی ہوبہو نقل ہے ان کا مؤقف ہے کہ یہ مہم ڈائینو ویلی کی مالک اور ایوبیہ چیئر لفٹ کی جوائنٹ وینچر پارٹنرکو نشانہ بنانے کے لیے چلائی جا رہی ہے جو سابق چیف سیکریٹری پنجاب کے بھائی ہیں۔
خط میں ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سابق چیف سیکریٹری پنجاب نے دراصل موجودہ سیکریٹری جنگلات خیبر پختونخوا شاہد زمان کے خلاف ناپسندیدہ کے الفاظ استعمال کیے تھے اس لیے یہ پرانی رنجشوں کا تسلسل اور ذاتی انتقام کی کارروائی نظر آتی ہے۔
نذر حسین نے اپنے دفاع میں اپنے طویل کیرئیر کے اہم کارناموں کی ایک تفصیلی فہرست پیش کی ہے۔ نذر حسین کے مطابق غیرقانونی لکڑی پالیسی 2015 متنازعہ طور پر لاگو کی گئی جس سے غیر قانونی طور پر لکڑی کاٹنے والوں کو فائدہ پہنچا۔ مقامی انتظامیہ اور فوج نے اس کی مخالفت کی تھی اور لکڑی ضبط کر کے نیلامی کا مشورہ دیا تھا۔ محکمہ خزانہ نے ضبط اور نیلامی کے بجائے لکڑی کی تبدیلی اور نقل و حمل کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کیے۔
نذر حسین کے الزام عائد کیا کہ مئی 2024 سے موجودہ سیکریٹری فارسٹ کے دور میں ایک بھی لکڑی کا تختہ ٹرانسپورٹ نہیں کیا گیا جس سے ریاست کو بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے اور لکڑی خراب ہو رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مئی 2024 سے جنگلاتی انتظام کے تمام منصوبوں کو ترک کر دیا گیا ہے جس سے قانونی لکڑی کی تجارت مفلوج ہوگئی ہے اور افسران سے منسلک اسمگلنگ مافیا کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
نذر حسین نے اپنے دور میں نافذ کردہ سائنٹیفک فارسٹ مینجمنٹ کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فارسٹ آرڈیننس 2002 کی دفعہ 98 کے تحت قانونی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوکھے، بیمار اور پرانے درخت کاٹنا جنگل کی صحت اور قومی معیشت دونوں کے لیے ضروری ہے اور یہی بہترین عمل امریکا، کینیڈا، جرمنی اور آسٹریا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔