پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی جو وفاقی وزیر داخلہ بھی ہیں، نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کوئی پہل نہیں کی جائے گی کہ کرکٹ کے تعلقات بدلے جائیں اور بہتر کیے جائیں۔
کراچی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب ہم بھارت سے صرف برابری کی بنیاد پر بات کرتے ہیں یا کھیلتے ہیں۔ اب ہم نے جا کر ان سے کوئی بھیک نہیں مانگنی کسی کرکٹ رعایت کے لیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ برابری کی بنیاد پر معاملات دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر بھارت پاکستان میں آکر نہیں کھیل سکتا تو پاکستان بھی بھارت جا کر کسی آئی سی سی یا دوسرے ایونٹ میں نہیں کھیلے گا۔ اسی لیے پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ کے تمام میچز سری لنکا میں کھیل رہا ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ اگر کبھی بھارت کی طرف سے کوئی مثبت پہل ہوئی تو پی سی بی پہلے معاملات کو دیکھے گا اور پھر کوئی فیصلہ کرے گا کہ کیا کرنا چاہیے۔
ایشیا کپ ٹرافی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ایک محفوظ جگہ پر ہے تو کوئی فکر کی بات نہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ پی سی بی آئندہ آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کرنے کا خواہش مند ہے اور جلد اس پر کام شروع کردے گا۔
انھوں نے کہا کہ اسی وجہ سے بورڈ کے تحت پاکستان میں کئی اسٹیڈیمز پر بہتری اور آرائش کا کام شروع ہوچکا ہے اور کچھ شہروں میں نئے اسٹیڈیمز بنانے کی بھی پلاننگ ہو رہی ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ پاکستان میں اسکول لیول سے اچھے کھلاڑی سامنے آئیں۔